اہم نکات (خلاصہ)ویٹو پاور کا استعمال: چین اور روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں ایران پر عائد پابندیوں کی مانیٹرنگ اور نگرانی کے طریقہ کار کی توسیع سے متعلق مغربی ممالک کی پیش کردہ قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔جیو پولیٹیکل محاذ آرائی: ماسکو اور بیجنگ کے اس اقدام سے جہاں مغربی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور یورپی ممالک کی تہران پر سفارتی دباؤ کی کوششوں کو بڑا دھچکا لگا ہے، وہیں عالمی طاقتوں کے درمیان خلیج مزید وسیع ہو گئی ہے۔ایران کا موقف: تہران نے چین اور روس کے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون اور یکطرفہ مغربی پابندیوں کے خلاف ایک متوازن پیش رفت قرار دیا ہے۔خطے کی سیکیورٹی پر اثرات: اس سفارتی فیصلے سے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق مستقبل کے طریقہ کار پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔اقوام متحدہ، نیویارک (عالمی ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی سیاست کا ایک بڑا بلاک ڈرامائی انداز میں سامنے آیا ہے، جہاں چین اور روس نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران پر عالمی پابندیوں کی نگرانی سے متعلق مسودہ قرار داد کو اپنے ویٹو کے حق کا استعمال کرتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر پابندیوں کی دوبارہ بحالی اور ان پر عمل درآمد کو مانیٹر کرنے والے ماہرین کی کمیٹی کی مدت میں توسیع کے لیے یہ مسودہ پیش کیا گیا تھا۔بیجنگ اور ماسکو کی جانب سے ایک ہی وقت میں ویٹو کا استعمال اس بات کا واضح اشاریہ ہے کہ اقوام متحدہ کے فورم پر اب مغرب کے یکطرفہ فیصلوں اور دباؤ کی حکمتِ عملی کو سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ووٹنگ کی تفصیلا ت اور ویٹو کا استعمالاقوام متحدہ کے صدر دفتر نیویارک میں ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران پیش کی جانے والی اس قرارداد پر بحث انتہائی تلخ ماحول میں ہوئی۔ مغربی ممالک کا مؤقف تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کے لیے مانیٹرنگ باڈی کی موجودگی لازمی ہے۔سلامتی کونسل کے ووٹنگ پیٹرن کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:ویٹو استعمال کرنے والے ممالک: چین اور روس (سلامتی کونسل کے مستقل اراکین)۔حامی ممالک: امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ان کے اتحادی اراکین۔روس اور چین کا موقف: دونوں ممالک کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف پابندیوں کا ڈھانچہ اب غیر موثر ہو چکا ہے اور اسے طویل عرصے تک سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔پس منظر: ایران پر پابندیوں کا تناظر اور ‘سنیپ بیک’ کا مسئلہایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی تاریخ طویل اور پیچیدہ ہے۔ 2015ء میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں (P5+1) کے درمیان تاریخی ایٹمی معاہدہ (JCPOA) طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں محدود ساخت کی شرط قبول کی تھی اور بدلے میں اس پر سے بین الاقوامی معاشی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔تاہم، 2018ء میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے سے یکطرفہ انخلا کے بعد حالات ایک بار پھر خراب ہوئے۔ بعد ازاں، امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے 2015ء کی قرارداد کے تحت ‘سنیپ بیک Mechanism’ کو متحرک کر کے ایران پر تمام پرانی اقوام متحدہ کی پابندیوں کو خود بخود واپس لانے کی کوششیں کی تھیں، جس کی تہران، بیجنگ اور ماسکو نے مسلسل مخالفت کی۔روس اور چین کا مسلسل یہ مؤقف رہا ہے کہ چونکہ امریکہ خود جوہری معاہدے سے الگ ہوا تھا، اس لیے اس کے پاس اقوام متحدہ کے فارمیٹ سے ایران پر دوبارہ پابندیاں مسلط کرنے کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہتا۔چین اور روس کا مؤقف: یکطرفہ اقدامات پر تنقیدویٹو کے بعد اپنے تفصیلی بیان میں روس اور چین کے نمائندوں نے واضح کیا کہ مانیٹرنگ کمیٹیاں غیر جانبدار رہنے کے بجائے مغربی سفارتی ایجنڈے کا آلہ کار بن چکی تھیں۔روس کا بیان: روسی مندوب نے موقف اپنایا کہ پابندیوں کا مقصد تنازعات کا حل ہونا چاہیے نہ کہ کسی ملک کی معیشت کو مفلوج کر کے اسے سیاسی طور پر تنہا کرنا۔ انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ کے نام پر ایران کی خودمختاری پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔چین کا ردِعمل: چینی سفیر نے کہا کہ بیجنگ ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ایٹمی تنازع کے حل کا حامی رہا ہے۔ یکطرفہ پابندیاں اور کڑی مانیٹرنگ صرف تناؤ کو جنم دیتی ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھتا ہے۔مغربی ردِعمل اور ایران کی فتح کا دعویٰچین اور روس کے اس مشترکہ اقدام پر امریکی اور یورپی سفارت کاروں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ واشنگٹن اور لندن کے نمائندوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مانیٹرنگ میکانزم کو ویٹو کرنے سے ایران کو اپنے جوہری اور میزائل پروگرامز کو غیر شفاف طریقے سے آگے بڑھانے کا موقع ملے گا، جو کہ عالمی تحفظ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔دوسری جانب، تہران نے روس اور چین کے اس فیصلے کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور اقوام متحدہ میں قانون کی فتح قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتیں اقوام متحدہ کے اداروں کو اپنے یکطرفہ سیاسی ایجنڈے اور معاشی بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنے سے باز رہیں۔عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ پر اثراتسلامتی کونسل میں چین اور روس کا یہ ویٹو صرف ایران تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر بننے والے نئے جیو پولیٹیکل بلاکس کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس فیصلے کے درج ذیل اہم اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے:مغربی اثر و رسوخ میں کمی: اقوام متحدہ کے فورمز پر امریکہ اور یورپی ممالک کی سیاسی برتری کو اب چین اور روس کے اتحاد سے سخت چیلنج مل رہا ہے۔ایران کے لیے معاشی راہیں: پابندیوں کے مانیٹرنگ نظام کے کمزور ہونے سے ایران کے لیے چین اور روس کے ساتھ ساتھ دیگر غیر مغربی ممالک کے ساتھ تجارت کرنا آسان ہو جائے گا۔ایٹمی مذاکرات کا مستقبل: اس پیش رفت سے 2015ء کے ایٹمی معاہدے کی بحالی کے لیے جاری یا ممکنہ پس پردہ مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، کیونکہ اب طاقت کا توازن کسی حد تک تہران کے حق میں جھکتا ہوا نظر آ رہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں کو حل کرنے کے لیے واشنگٹن کی مرضی کے بجائے بیجنگ اور ماسکو کی منظوری بھی اتنی ہی ضروری ہوگی۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپاکستان سے یورپ غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد ریکارڈ کمی: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بڑا انکشاف