خبر کے اہم نکات (خلاصہ) سنگین الزامات: ’سکھس فار جسٹس‘ کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ نریندر مودی حکومت اور طالبان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ بھارت کی تقسیم کی پیشگوئی: پنوں کے مطابق 2047ء تک بھارت اندرونی خلفشار، مذہبی کشیدگی اور حقِ خودارادیت کی تحریکوں کی بنا پر نو (9) مختلف حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ سے اپیل: خالسfile رہنما نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی پنجاب کو ایک “غصب شدہ/مقبوضہ علاقہ” (Occupied Territory) قرار دے۔ جمہوری جدوجہد کا اعادہ: انہوں نے واضح کیا کہ سکھ برادری الگ وطن ‘خالصتان’ کے قیام کے لیے ریفرنڈم اور پرامن جمہوری ذرائع کی بین الاقوامی مہم جاری رکھے گی۔ نیویارک / اسلام آباد: سکھ برادری کے حقوق اور الگ وطن کے لیے جدوجہد کرنے والی عالمی تنظیم ’سکھس فار جسٹس‘ (SFJ) کے مرکزی رہنما اور جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارت اور جنوبی ایشیا کی خطے میں خطرے سے بھرپور صورتحال کے حوالے سے شدید سنسنی خیز اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے مبینہ طور پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اور طالبان کے درمیان قائم نام نہاد گٹھ جوڑ (Nexus) کو پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر اور ناامنی کا اصل ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر خالصتان کی مہم چلانے والے سکھ رہنما نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارت کی موجودہ انتہا پسندانہ پالیسیوں اور اقلیتوں پر مظالم کے نتیجے میں سال 2047ء تک بھارت نو (9) مختلف آزاد ریاستوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ سے باضابطہ مطالبات کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارتی پنجاب کی موجودہ آئینی اور جغرافیائی حیثیت کا جائزہ لے۔ مودی-طالبان گٹھ جوڑ اور پاکستان میں دہشت گردی کے الزامات گرپتونت سنگھ پنوں کے بیان کا سب سے اہم اور حساس پہلو پاکستان میں سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے والی دہشت گردی سے متعلق ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں اور مودی حکومت خطے میں اپنے مفادات اور پاکستان کو مستحکم نہ ہونے دینے کے لیے طالبان اور سرحد پار موجود کالعدم عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ قائم کر چکی ہیں۔ صحافتی اور جغرافیائی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان طویل عرصے سے یہ موقف اپناتا رہا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں اس کی مغربی سرحد سے دہشت گردوں کی مالی و لاجسٹک معاونت کر رہی ہیں۔ پنوں کے اس حالیہ انکشاف نے خطے کے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ یہ بیان ایک ایسی شخصیت کی طرف سے آیا ہے جو خود بھارتی حکومت کے تعاقب اور نشانہ بازی کا مرکز رہی ہے۔ بھارت کی 9 حصوں میں تقسیم کا دعویٰ اور 2047ء کا وژن بھارتی ریاست کے مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے گرپتونت سنگھ پنوں نے ایک جغرافیائی نقشہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں ہندوتوا نظریے کو جس طرح زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے، اس نے مختلف ریاستوں میں علیحدگی پسندی اور خودمختاری کی تحریکوں کو نئی زندگی دی ہے۔ انہوں نے مندرجہ ذیل نکات پر روشنی ڈالی: 2047ء کا ہدف: بھارت کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے پر (2047ء) موجودہ بھارتی یونین برقرار نہیں رہ سکے گی اور یہ 9 مختلف خطوں اور آزاد ممالک میں بٹ چکی ہوگی۔ علیحدگی پسند تحریکیں: مقبوضہ جموں و کشمیر، پنجاب (خالصتان)، ناگالینڈ، آسام، مانیپور اور جنوبی بھارت کی ریاستوں میں مرکز مخالف جذبات اتنے شدید ہو چکے ہیں کہ انہیں محض طاقت کے بل بوتے پر دبایا نہیں جا سکتا۔ اقلیتوں کا عدم تحفظ: بھارت میں مسلمان، سکھ، عیسائی اور دلت برادری خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے، جس سے ملک کا آئینی ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہو رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ سے مطالبات اور بھارتی پنجاب کی آئینی حیثیت اپنے خطاب اور میڈیا بیانات میں سکھ رہنما نے بین الاقوامی اداروں، بالخصوص اقوامِ متحدہ (UN) اور اس کی سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔ مقبوضہ علاقہ قرار دینے کی اپیل: پنوں نے بین الاقوامی برادری سے کہا کہ بھارتی پنجاب کو ایک “مقبوضہ علاقہ” (Occupied Territory) تسلیم کیا جائے جہاں بھارتی سیکورٹی فورسز قابض کی حیثیت سے شہریوں کے بنيادی حقوق سلب کر رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر: انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت ہر قوم کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حقِ خودارادیت حاصل ہے اور سکھ قوم کو بھی یہ حق ملنا چاہیے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق: انہوں نے زور دیا کہ بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور اقلیتی رہنماؤں پر قائم مقدمات اور ماورائے عدالت کارروائیوں کا عالمی سطح پر نوٹس لیا جائے۔ خالصتان ریفرنڈم: پرامن اور جمہوری طریقہ کار پنوں نے اس تاثر کی سختی سے نفی کی کہ ان کی تحریک تشدد پر مبنی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘سکھس فار جسٹس’ (SFJ) اپنے مقصد کے حصول کے لیے صرف اور صرف جمہوری، آئینی اور پرامن راستے پر گامزن ہے۔ عالمی ریفرنڈم: برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، امریکہ اور اٹلی جیسے ممالک میں اب تک لاکھوں کی تعداد میں سکھ شہری خالصتان کے حق میں ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ووٹ کی طاقت: پنوں کا کہنا تھا کہ “ہم بندوق کے بجائے ووٹ کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں بھارتی پنجاب میں بھی ایسا ہی غیر جانبدارانہ ریفرنڈم چاہتے ہیں”۔ خبر کا پس منظر، سفارتی تنازع اور بین الاقوامی اثرات گرپتونت سنگھ پنوں کا یہ تازہ ترین بیان ایک ایسے موڑ پر سامنے آیا ہے جب بھارت اور مغربی ممالک کے درمیان سکھ رہنماؤں کی مبینہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے انتہائی سنگین سفارتی تنازع چل رہا ہے۔ امریکی و کینیڈین تحقیقات: گزشتہ سال امریکہ کی عدلیہ نے نیویارک میں گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی ناکام بھارتی سازش میں ایک بھارتی ایجنٹ کے ملوث ہونے کے فردِ جرم عائد کی تھی۔ اس کے علاوہ، کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا الزام بھی بھارتی ایجنسیوں پر عائد کیا گیا تھا، جس سے اوٹاوا اور نئی دہلی کے سفارتی تعلقات شدید زوال کا شکار ہوئے۔ معروضیت اور بھارتی موقف: دوسری جانب، بھارتی حکومت نے گرپتونت سنگھ پنوں کو 2020ء میں دہشت گرد قرار دیا تھا اور ان کی تنظیم ’سکھس فار جسٹس‘ پر انڈیا میں پابندی عائد ہے۔ بھارتی حکام پنوں کے تمام الزامات اور ریفرنڈم کو بھارت کی سلامتی اور سالمیت کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ تجزئیہ کاروں کے مطابق پنوں کا یہ بیان کہ “مودی حکومت اور طالبان کا گٹھ جوڑ پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے” جنوبی ایشیا کی علاقائی سیاست میں نئے سفارتی اور جغرافیائی سوالات کو جنم دے گا۔ ایک طرف جہاں اس سے پاکستان کے ان خدشات کی عالمی سطح پر توثیق ہوتی دکھائی دیتی ہے جن میں وہ بھارت کو عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، وہی دوسری جانب بھارتی حکومت پر اقلیتوں کے حوالے سے عالمی دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ Post navigation ڈاکٹر نجیب نقی خان آزاد جموں و کشمیر کے 25ویں صدر منتخب: کئی ماہ کا آئینی جمود ختم، خطے میں سیاسی استحکام کی نئی امید