اہم نکات (خلاصہ) اعزاز کی تفصیل: گلگت بلتستان کے علاقے نیورنگاہ سے تعلق رکھنے والی ہونہار طالبہ ریحانہ بتول نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نست) سے بی ایس کیمسٹری کے شعبے میں نمایاں ترین پوزیشن حاصل کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا ہے۔ خاندانی پس منظر اور عزم: یہ شاندار کامیابی سخت محنت، عزمِ صمیم اور والد سر ذاکر حسین کی گراں قدر قربانیوں اور سرپرستی کا ثمر ہے، جس نے علاقے کی نوجوان نسل بالخصوص طالبات کے لیے ترقی کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ علاقائی اہمیت: اس کامیابی سے نہ صرف گلگت بلتستان کا علمی و تعلیمی وقار بلند ہوا ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثمر ہے کہ وسائل کی کمی کے باوجود اس خطے کے نوجوان ملک بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ مقدمہ: عزم اور کامرانی کی تابناک داستان تعلیم وہ روشن چراغ ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر ترقی اور کامرانی کی منزلوں تک پہنچاتا ہے۔ اسی شمع کو جلائے رکھنے اور اپنے عزمِ مصمم سے ناممکن کو ممکن بنانے والی شخصیات ہی معاشرے کا اصل اثاثہ ہوتی ہیں۔ گلگت بلتستان کے خوبصورت اور پرامن علاقے نیورنگاہ سے تعلق رکھنے والی ہونہار طالبہ ریحانہ بتول نے ملک کے ممتاز ترین اعلیٰ تعلیمی ادارے ‘نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی’ (NUST) میں بی ایس کیمسٹری کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا ہے۔ یہ کامیابی محض ایک انفرادی اعزاز نہیں ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پس منظر: شبانہ روز محنت اور والدین کی قربانیاں ہر بڑی کامیابی کے پس پردہ سخت محنت، قربانیوں اور مشکلات کا ایک طویل سفر پوشیدہ ہوتا ہے۔ ریحانہ بتول کا یہ سفر بھی استقامت اور حوصلے کی ایک ایسی ہی مثال ہے۔ گلگت بلتستان کے پسماندہ اور دُورافتادہ علاقوں میں معیاری تعلیم کا حصول آج بھی متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ بنیادی سہولیات کی کمی، سخت موسمی حالات اور مالی مشکلات کے باوجود اس خطے کے فرزندانِ وطن اور بیٹیاں اپنی ذہانت کے بل بوتے پر ہر میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ریحانہ بتول کی اس کامیابی میں ان کے والدین کی دعاؤں اور خصوصاً ان کے والد سر ذاکر حسین کی قربانیوں کا انتہائی اہم کردار ہے۔ ایک ایسے دور میں جب بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم کے راستے میں مالی اور سماجی رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں، سر ذاکر حسین نے اپنی اولاد کے مستقبل کو روشن بنانے کے لیے تمام تر مشکلات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔ انہوں نے نہ صرف بیٹی کی تعلیمی ضروریات کو ترجیح دی بلکہ ان کے حوصلے کو بھی ہمیشہ بلند رکھا۔ یہ گولڈ میڈل دراصل اسی پدرانہ شفقت، قربانی اور بیٹی کے پختہ عزم کا مشترکہ ثمر ہے۔ تعلیمی معیار اور ‘نست’ یونیورسٹی کا سائنسی ماحول نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نست) کا شمار پاکستان کے سرفہرست اور انتہائی معتبر تحقیقی و تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ اس جامعہ میں داخلہ لینا ہی اپنے آپ میں ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے، اور وہاں جا کر امتیازی پوزیشن حاصل کرنا اور وہ بھی کیمسٹری جیسے پیچیدہ اور محنت طلب مضمون میں، کسی بڑے کارنامے سے کم نہیں۔ کیمسٹری محض فارمولوں اور تجربہ گاہوں کا علم نہیں ہے بلکہ یہ وہ بنیادی سائنس ہے جو ادویات سازی، زراعت، ماحولیاتی تحفظ، اور مواد کی ساخت جیسے شعبوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ریحانہ بتول کا اس میدان میں اعلیٰ مقام حاصل کرنا اور گولڈ میڈل جیتنا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے نہ صرف نصابی کتب کو پڑھا بلکہ اس کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں کو پوری گہرائی کے ساتھ سمجھا۔ گلگت بلتستان میں خواتین کی تعلیم اور نئی امیدیں گزشتہ چند برسوں کے دوران گلگت بلتستان کے تعلیمی منظر نامے میں ایک خوش آئند تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ خطے کی بیٹیاں ہر شعبہ ہائے زندگی بالخصوص سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (اسٹیم ایجوکیشن) میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اعداد و شمار اس بات کے گواہ ہیں کہ: گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں طالبات کی شرحِ خواندگی اور کارکردگی میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ اعلیٰ تعلیمی وظائف اور قومی جامعات میں داخلہ لینے والی طالبات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ والدین کی سوچ میں مثبت تبدیلی آئی ہے، اور وہ اب بیٹوں کی طرح بیٹیوں کو بھی ملک کے بہترین اداروں میں پڑھانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ریحانہ بتول کی یہ کامیابی اس رجحان کو مزید تقویت دے گی اور نیورنگاہ سمیت پورے گلگت بلتستان کی ہزاروں بچیوں کے لیے مشعلِ راہ بنے گی جو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خواب دیکھتی ہیں۔ معاشرتی اثرات اور مستقبل کی راہیں کسی بھی معاشرے کی ترقی کا انحصار اس کی نوجوان نسل بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے پر ہے۔ جب ایک علاقے کی بیٹی ملک کی صفِ اول کی یونیورسٹی سے اس اعزاز کے ساتھ فارغ التحصیل ہوتی ہے، تو اس کے اثرات صرف ایک گھر یا خاندان تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس سے مستفید ہوتا ہے۔ اس کامیابی سے مندرجہ ذیل مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے: نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی: علاقے کے طلباء میں مقابلے کی صحت مند فضا پروان چڑھے گی اور وہ بڑے تعلیمی اہداف مقرر کرنے کی ترغیب پائیں گے۔ والدین کی ذہن سازی: وہ والدین جو وسائل کی کمی کے باعث بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے پس و پیش کا شکار ہوتے ہیں، انہیں حوصلہ ملے گا۔ تحقیقی کلچر کا فروغ: سائنسی علوم میں ایسی کامیابیوں سے گلگت بلتستان کے طلباء میں تحقیق اور جستجو کا رجحان بڑھے گا۔ اختتام اور مبارکباد ریحانہ بتول کی یہ شاندار کامیابی گلگت بلتستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ اس موقع پر تمام اہلِ علاقہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور تعلیمی حلقوں نے ریحانہ بتول، ان کے والد سر ذاکر حسین اور ان کے پورے خاندان کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ریحانہ بتول کو مزید کامیابیاں، صحتِ کاملہ اور درازیِ عمر عطا فرمائے، اور وہ اسی طرح ملک و قوم کی خدمت کرتی رہیں اور گلگت بلتستان کا پرچم ہمیشہ بلند رکھیں۔ آمین۔ Post navigation سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے راولپنڈی میں واقع ابائی گھر میں بڑی چوری، پولیس کی تحقیقات جاری لکی مروت میں گڈ گورننس کے تحت انتظامی تحرک: اسسٹنٹ کمشنر سرائے نورنگ کا گنڈی چوک اور منجی والا کا دورہ، زیرِ تعمیر مونومنٹ کا معائنہ اور تجاوزات ختم کرنے کی کڑی ہدایت