google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
Partial opening of torkhum border

پشاور/لنڈی کوتل (نیوز ڈیسک): خیبرپختونخوا حکومت نے پاک افغان سرحد طورخم پر جاری تجارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے سرحد کو جزوی طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام سرحد کی بندش کے باعث تاجروں کو ہونے والے کروڑوں روپے کے نقصان اور دونوں جانب پھنسی ہوئی مال بردار گاڑیوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

سرحد کی بندش اور پیدا شدہ بحران

رپورٹ کے مطابق، طورخم بارڈر گزشتہ کچھ عرصہ سے ویزا پالیسی، پاسپورٹ کی شرائط اور دیگر انتظامی امور کی وجہ سے ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند تھا۔ اس بندش کی وجہ سے سرحد کے دونوں جانب پھل، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء سے لدے سینکڑوں ٹرک پھنس گئے تھے، جس سے نہ صرف تجارتی سامان خراب ہو رہا تھا بلکہ مقامی تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

جزوی بحالی کی تفصیلات

حکومتی ذرائع کے مطابق، ابتدائی طور پر سرحد کو ان گاڑیوں کے لیے کھولا گیا ہے جو سرحد پر پہلے سے موجود ہیں اور جن میں جلد خراب ہونے والی اشیاء (Perishables) لدی ہوئی ہیں۔

  • ترجیحی بنیادیں: سب سے پہلے ان ٹرکوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جن میں تازہ پھل اور سبزیاں موجود ہیں۔
  • انسانی ہمدردی: مریضوں اور پیدل سفر کرنے والے خاندانوں کے لیے بھی مخصوص شرائط کے تحت نرمی برتی جا رہی ہے۔

مذاکرات اور مستقل حل کی کوششیں

خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اس معاملے پر وفاقی اداروں اور افغان حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ معاون خصوصی اطلاعات کے مطابق، حکومت کی کوشش ہے کہ ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس سے ملکی سلامتی کے تقاضے بھی پورے ہوں اور دوطرفہ تجارت میں بھی کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

تاجر برادری کا ردِعمل

مقامی چیمبر آف کامرس اور ٹرانسپورٹ یونینز نے سرحد کو جزوی طور پر کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:

  1. ویزا اور پاسپورٹ سے متعلق مسائل کا مستقل حل نکالا جائے۔
  2. سرحد کو 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے تاکہ تجارتی خسارے کو پورا کیا جا سکے۔
  3. کسٹم کلیئرنس کے عمل کو مزید تیز اور ڈیجیٹل بنایا جائے۔

تزویراتی اہمیت

ماہرین کا کہنا ہے کہ طورخم بارڈر پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سرحد کی بار بار بندش نہ صرف مقامی معیشت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس سے علاقائی تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جزوی بحالی کا یہ فیصلہ معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ پٹڑی پر لانے کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔


About The Author

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025