پشاور/لنڈی کوتل (نیوز ڈیسک): خیبرپختونخوا حکومت نے پاک افغان سرحد طورخم پر جاری تجارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے سرحد کو جزوی طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام سرحد کی بندش کے باعث تاجروں کو ہونے والے کروڑوں روپے کے نقصان اور دونوں جانب پھنسی ہوئی مال بردار گاڑیوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!سرحد کی بندش اور پیدا شدہ بحرانرپورٹ کے مطابق، طورخم بارڈر گزشتہ کچھ عرصہ سے ویزا پالیسی، پاسپورٹ کی شرائط اور دیگر انتظامی امور کی وجہ سے ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند تھا۔ اس بندش کی وجہ سے سرحد کے دونوں جانب پھل، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء سے لدے سینکڑوں ٹرک پھنس گئے تھے، جس سے نہ صرف تجارتی سامان خراب ہو رہا تھا بلکہ مقامی تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔جزوی بحالی کی تفصیلاتحکومتی ذرائع کے مطابق، ابتدائی طور پر سرحد کو ان گاڑیوں کے لیے کھولا گیا ہے جو سرحد پر پہلے سے موجود ہیں اور جن میں جلد خراب ہونے والی اشیاء (Perishables) لدی ہوئی ہیں۔ترجیحی بنیادیں: سب سے پہلے ان ٹرکوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جن میں تازہ پھل اور سبزیاں موجود ہیں۔انسانی ہمدردی: مریضوں اور پیدل سفر کرنے والے خاندانوں کے لیے بھی مخصوص شرائط کے تحت نرمی برتی جا رہی ہے۔مذاکرات اور مستقل حل کی کوششیںخیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اس معاملے پر وفاقی اداروں اور افغان حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ معاون خصوصی اطلاعات کے مطابق، حکومت کی کوشش ہے کہ ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس سے ملکی سلامتی کے تقاضے بھی پورے ہوں اور دوطرفہ تجارت میں بھی کوئی رکاوٹ نہ آئے۔تاجر برادری کا ردِعملمقامی چیمبر آف کامرس اور ٹرانسپورٹ یونینز نے سرحد کو جزوی طور پر کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:ویزا اور پاسپورٹ سے متعلق مسائل کا مستقل حل نکالا جائے۔سرحد کو 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے تاکہ تجارتی خسارے کو پورا کیا جا سکے۔کسٹم کلیئرنس کے عمل کو مزید تیز اور ڈیجیٹل بنایا جائے۔تزویراتی اہمیتماہرین کا کہنا ہے کہ طورخم بارڈر پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سرحد کی بار بار بندش نہ صرف مقامی معیشت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس سے علاقائی تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جزوی بحالی کا یہ فیصلہ معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ پٹڑی پر لانے کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationخیبرپختونخوا کابینہ کا بڑا فیصلہ: سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کٹوتی، 50 فیصد عملے کے لیے ‘ورک فرام ہوم’ پالیسی منظور سعودی حکومت کا بڑا ریلیف: ویزہ ختم ہونے والے غیر ملکیوں کو 18 اپریل تک قیام یا واپسی کی مہلت