نیویارک/ویانا (نیوز ڈیسک): جدید دنیا کی معیشت جس ایندھن پر کھڑی ہے، اس کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ نے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ ‘ویژول کیپیٹلسٹ’ (Visual Capitalist) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کرہ ارض پر موجود تیل کے کل ثابت شدہ ذخائر کا 50 فیصد سے زائد حصہ صرف پانچ ممالک کے پاس ہے۔ یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ عالمی توانائی کی حفاظت اور قیمتوں کا کنٹرول کس قدر چند ہاتھوں میں مرکوز ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!تیل کے ذخائر کے ‘بڑے پانچ’ کھلاڑیرپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تیل کے کل ذخائر کی مقدار تقریباً 1.75 ٹریلین بیرل ہے، جس کا نصف حصہ درج ذیل پانچ ممالک کے پاس ہے:وینزویلا (303 ارب بیرل): فہرست میں پہلے نمبر پر موجود اس جنوبی امریکی ملک کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ تیل کے ذخائر ہیں۔ تاہم، سیاسی عدم استحکام اور عالمی پابندیوں کی وجہ سے وینزویلا ان ذخائر سے وہ معاشی فائدہ نہیں اٹھا سکا جو دوسرے ممالک اٹھا رہے ہیں۔سعودی عرب (267 ارب بیرل): سعودی عرب دوسرے نمبر پر ہے، لیکن اس کی اہمیت سب سے زیادہ ہے کیونکہ یہاں سے تیل نکالنے کی لاگت دنیا میں سب سے کم ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت بے مثال ہے۔ایران (209 ارب بیرل): تیسرے نمبر پر موجود ایران کے پاس وسیع ذخائر ہیں، لیکن عالمی پابندیاں اس کی برآمدات کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہی ہیں۔کینیڈا (170 ارب بیرل): کینیڈا کے بیشتر ذخائر ‘آئل سینڈز’ (Oil Sands) کی صورت میں موجود ہیں جن سے تیل نکالنا نسبتاً مہنگا اور ماحولیاتی طور پر چیلنجنگ ہے۔عراق (145 ارب بیرل): فہرست میں پانچویں نمبر پر موجود عراق مشرقِ وسطیٰ کا ایک اہم ترین پیدا کنندہ ہے، جس کی معیشت کا مکمل انحصار اسی سیاہ سونے پر ہے۔اوپیک (OPEC) کا غلبہان پانچ ممالک میں سے چار (وینزویلا، سعودی عرب، ایران اور عراق) پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ‘اوپیک’ کے بانی ارکان ہیں۔ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر اس تنظیم کا کتنا گہرا اثر ہے۔ اگر ان میں کویت اور متحدہ عرب امارات کو بھی شامل کر لیا جائے تو دنیا کا 80 فیصد تیل صرف چند ممالک کی مرضی پر منحصر ہو جاتا ہے۔تزویراتی اور معاشی اہمیتتیل کے ذخائر کا چند ملکوں میں مرکوز ہونا عالمی سیاست میں ‘انرجی ڈپلومیسی’ کو جنم دیتا ہے۔توانائی کی حفاظت: امریکہ، چین اور یورپی ممالک جیسے بڑے درآمد کنندگان کے لیے ان پانچ ممالک کے ساتھ مستحکم تعلقات برقرار رکھنا مجبوری ہے۔مستقبل کا چیلنج: جہاں دنیا ‘گرین انرجی’ کی طرف منتقل ہو رہی ہے، وہاں یہ پانچوں ممالک اپنی معیشتوں کو تیل سے ہٹا کر دیگر شعبوں پر منتقل کرنے (Diversification) کی کوشش کر رہے ہیں، جیسا کہ سعودی عرب کا ‘ویژن 2030’۔تیل نکالنے کی قیمت کا فرقرپورٹ میں ایک اہم نکتہ یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ صرف ذخائر کا ہونا کافی نہیں، بلکہ انہیں نکالنا کتنا آسان ہے یہ اصل اہمیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر، سعودی عرب میں ایک بیرل تیل نکالنے کی لاگت بہت کم ہے جبکہ کینیڈا یا روس میں یہی عمل کہیں زیادہ مہنگا پڑتا ہے، جو عالمی منڈی میں ان ممالک کے منافع پر اثر انداز ہوتا ہے۔خلاصہ: دنیا آج بھی ‘بلیک گولڈ’ کے گرد گھومتی ہے اور ان پانچ ممالک کا غلبہ اس بات کی علامت ہے کہ آنے والی کئی دہائیوں تک عالمی معیشت کی نبض ان کے ہاتھ میں رہے گی۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationسعودی حکومت کا بڑا ریلیف: ویزہ ختم ہونے والے غیر ملکیوں کو 18 اپریل تک قیام یا واپسی کی مہلت سعودی عرب اور یوکرین: دفاعی و تزویراتی تعاون