پنجاب میں جب بھی کسی حادثے آفت یا ایمرجنسی کی بات ہوتی ہے تو عوام کے ذہن میں سب سے پہلے جس ادارے کا نام آتا ہےThank you for reading this post, don't forget to subscribe!وہ “ریسکیو 1122” ہےیہ وہ ادارہ ہے جو صرف ایک سرکاری محکمہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک عظیم مشن بن چکا ہے14 اکتوبر 2004ء میں پنجاب حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ اُس وقت کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے ایک انقلابی اقدام کے طور پر سامنے آیا اور آج بھی اپنی شاندار کارکردگی کے باعث عوام کے دلوں میں زندہ ہےریسکیو 1122 وہ واحد ادارہ محسوس ہوتا ہے جو بغیر کسی لالچ سفارش یا ذاتی مفاد کے دن رات عوام کی خدمت میں مصروف ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر سرکاری اداروں پر کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات سننے کو ملتے ہیں مگر ریسکیو 1122 ایک ایسا ادارہ ہے جس کے بارے میں آج تک عوام نے یہ محسوس نہیں کیا کہ انہوں نے خدمت کے بدلے کسی سے دس یا بیس روپے تک کا مطالبہ کیا ہو یہ نوجوان اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں زخمی کو اسپتال پہنچاتے ہیں آگ بجھاتے ہیں لاشیں منتقل کرتے ہیں سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالتے ہیں روڈ حادثات میں مدد فراہم کرتے ہیں اور پھر خاموشی سے اگلی کال کی طرف روانہ ہو جاتے ہیںیہی اخلاص اور فرض شناسی اس ادارے کو باقی محکموں سے ممتاز بناتی ہےسیلاب ہو آگ لگ جائے کوئی عمارت گر جائے بازار میں حادثہ پیش آ جائے یا کسی گھر میں ایمرجنسی ہو ریسکیو 1122 کے جوان سب سے پہلے موقع پر پہنچتے ہیں ان کی برق رفتار سروس کئی قیمتی جانوں کو بچانے کا سبب بنتی ہے جب لوگ خوف پریشانی اور بے بسی کا شکار ہوتے ہیں تو یہی ریسکیو اہلکار امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیںقابلِ تحسین بات یہ بھی ہے کہ عید ہو رمضان ہو بارہ ربیع الاول ہو یا کوئی اور تہوار جب لوگ اپنے گھروں میں اہلِ خانہ کے ساتھ خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں اُس وقت ریسکیو 1122 کے نوجوان سڑکوں دفاتر اور ایمرجنسی پوائنٹس پر عوام کی حفاظت کے لیے موجود ہوتے ہیں وہ اپنے ذاتی آرام خوشیوں اور خاندان کی قربانی دے کر انسانیت کی خدمت کا فریضہ انجام دیتے ہیںحقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف ملازم نہیں بلکہ معاشرے کے اصل ہیرو ہیںآج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اس ادارے کی خدمات کو صرف لفظوں میں سراہنے تک محدود نہ رکھے بلکہ عملی اقدامات بھی کرےمہنگائی کے اس دور میں ریسکیو اہلکاروں کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ خود اور ان کے اہلِ خانہ مالی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکیں جو لوگ اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی زندگیاں بچاتے ہیں وہ یقیناً زیادہ عزت سہولیات اور حکومتی توجہ کے مستحق ہیںریسکیو 1122 پنجاب حکومت کا ایک ایسا کامیاب منصوبہ ہے جس نے حقیقی معنوں میں عوام کا اعتماد حاصل کیا یہ ادارہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد عوامی خدمت ہو تو سرکاری ادارے بھی عوام کے دل جیت سکتے ہیںہم ریسکیو 1122 کے تمام افسران اہلکاروں اور نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو ہر مشکل گھڑی میں انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر میدانِ عمل میں موجود رہتے ہیں ایسے ادارے کسی بھی معاشرے کا فخر ہوتے ہیںمیاں عرفان حیدروائس چیئرمین سٹی پریس کلب رجسٹرڈ بورےوالاAbout The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationگرداور اور پٹواری