Rain water enter into madrasa
  • ہنگامی صورتحال: راولپنڈی صدر کے گنجان آباد علاقے میں واقع ایک دینی مدرسے میں موصلادھار بارش کا پانی داخل ہو گیا۔
  • بچوں کی موجودگی: واقعہ کے وقت مدرسے کے اندر 400 سے زائد طلباء موجود تھے، جن میں سے 150 کو فوری طور پر ریسکیو کر لیا گیا۔
  • امدادی آپریشن: ریسکیو 1122 اور مقامی انتظامیہ کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور باقی ماندہ بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
  • اربن فلڈنگ کا چیلنج: جڑواں شہروں میں جاری موسلا دھار بارشوں سے نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

راولپنڈی (خاص رپورٹ): راولپنڈی کے مرکزی تجارتی و رہائشی علاقے صدر میں واقع ایک دینی مدرسے میں موسلا دھار بارش کا پانی اچانک داخل ہو جانے سے ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق جس وقت بارش کا پانی مدرسے کی عمارت اور صحن میں داخل ہوا، اس وقت عمارت کے اندر تقریباً 400 بچے موجود تھے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس کے شعبہ امداد نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر بڑے پیمانے پر نژاد و امدادی آپریشن شروع کیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 150 بچوں کو محفوظ طریقے سے عمارت سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ باقی بچوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔

مدرسے میں پانی داخل ہونے کی تفصیلات اور ریسکیو آپریشن

راولپنڈی اور اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ شروع ہونے والی شدید بارش کے بعد نشیبی علاقوں میں ارین فلڈنگ جیسی صورتحال پیدا ہوئی۔ صدر راولپنڈی میں واقع دینی تعلیم کے اس مرکز میں زیرِ تعلیم طلباء عام دنوں کی طرح اپنی تدریسی سرگرمیوں میں مصروف تھے کہ آس پاس کے نالوں سے اوور فلو ہونے والا پانی مدرسے کی نچلی منزلوں، راہداریوں اور کمروں میں داخل ہونا شروع ہو گیا۔

پانی کی سطح میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے مدرسے کی انتظامیہ نے فوراً ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ ریسکیو حکام نے صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیمیں، بوٹس اور واٹر پمپنگ مشن ڈیوائسز روانہ کر دیں۔

امدادی کارروائیوں کے اہم اعداد و شمار:

  • مدرسے میں موجود کل طلباء: 400 کے قریب (ابتدائی تخمینے کے مطابق)
  • محفوظ منتقل کیے گئے بچے: 150 طلباء (پہلے مرحلے میں ریسکیو کیے گئے)
  • باقی ماندہ طلباء: تقریباً 250 بچے عمارت کی بالائی منزلوں پر محفوظ ہیں جنہیں منتقل کیا جا رہا ہے۔
  • امدادی ٹیمیں: ریسکیو 1122، سیکیورٹی اہلکار اور مقامی رضاکار۔

مقامی انتظامیہ کی پیش رفت اور حفاظتی تدابیر

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلاعی انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران بھی موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔ انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر مدرسے کی بجلی کی فراہمی منقطع کر دی گئی ہے تاکہ پانی میں کرنٹ پھیلنے کا کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کی بالائی منزلیں فی الحال مکمل طور پر محفوظ ہیں، لہٰذا تمام بچوں کو پہلے اوپر کی منزلوں پر منتقل کیا گیا اور وہاں سے باری باری سیڑھیوں اور امدادی گاڑیوں کی مدد سے باہر نکالا جا رہا ہے۔ بارش کا پانی نکالنے کے لیے ہیوی پمپنگ سیٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عمارت کے اندر جمع شدہ پانی کا دباؤ کم کیا جا سکے۔

پس منظر: راولپنڈی میں اربن فلڈنگ اور نالہ لئی کی صورتحال

راولپنڈی کا شمار ان شہروں میں ہوتا ہے جو مون سون اور موسلا دھار بارشوں کے دوران مسلسل اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کے خطرناک اثرات کا سامنا کرتے ہیں۔ صدر، مری روڈ، ناریل منڈی، اور نالہ لئی سے ملحقہ آبادیاں ہمیشہ زیرِ آب آنے کے شدید خطرے میں رہتی ہیں۔

راولپنڈی صدر کا علاقہ جو کہ شہر کی کاروباری شاہراہ ہے، وہاں پر نکاسیٔ آب کا پرانا ڈھانچہ زیادہ مقدار میں بارش کے پانی کا بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جب بھی مختصر وقت میں زیادہ بارش ہوتی ہے، نالیاں بند ہونے کی وجہ سے پانی سڑکوں سے ہوتا ہوا نچلی سطح پر موجود عمارتوں، دکانوں اور مدرسوں و سکولوں میں داخل ہو جاتا ہے۔

اربن فلڈنگ کا تاریخی و موجودہ تناظر:

  1. نکاسی کا ناقص نظام: شہر کی آبادی میں اضافے اور گنجان تعمیرات کی وجہ سے قدرتی آبی گزرگاہیں سکڑ چکی ہیں۔
  2. نالہ لئی پر دباؤ: اسلام آباد کی پہاڑیوں اور راولپنڈی شہر کا پورا پانی نالہ لئی میں جاتا ہے، جس کی سطح بلند ہوتے ہی ملحقہ علاقے ڈوبنے لگتے ہیں۔
  3. تعلیمی و دینی اداروں پر اثرات: نشیبی علاقوں میں قائم سکول، کالجز اور مدرسے اس طرح کی ہنگامی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہاں کمسن بچوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔

والدین میں تشویش اور انتظامیہ کی اپیل

خبر پھیلتے ہی مدرسے میں زیرِ تعلیم بچوں کے والدین کی بڑی تعداد تشویش کے عالم میں صدر اور مدرسے کے ارد گرد جمع ہونا شروع ہو گئی۔ مقامی پولیس نے جائے وقوعہ کے گرد گھیراؤ کر کے سیکیورٹی زون قائم کر دیا ہے تاکہ امدادی گاڑیوں کی آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے اور ریسکیو اہلکار آسانی سے اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

ضلاع انتظامیہ کی جانب سے شہریوں اور بالخصوص والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور جائے وقوعہ پر رش لگانے سے گریز کریں تاکہ ریسکیو ٹیموں کو بچوں کو باہر نکالنے میں دشواری کا سامنا نہ ہو۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام بچوں کی سلامتی ان کی پہلی ترجیح ہے اور ریسکیو آپریشن تمام طلباء کے محفوظ تخلیے تک جاری رہے گا۔

مستقبل کے لیے انتظامی چیلنجز اور لائحہ عمل

راولپنڈی صدر کے مدرسے میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے جامع حکمت عملی کا ہونا کتنا ضروری ہے۔

صرف نالوں کی صفائی کے عارضی اقدامات کے بجائے شہر کے ڈرینج سسٹم کی جامع اصلاحات اور نشیبی علاقوں میں واقع تعلیمی و دینی اداروں کے لیے خاص سیکیورٹی اور ریسکیو پروٹوکولز مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

شہریوں اور ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے غیر معمولی بارشوں کا تناسب بڑھ رہا ہے، لہٰذا مقامی انتظامیہ، واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی (WASA) اور ریسکیو اداروں کو ایسے تمام ممکنہ پرخطرت مقامات کی پیشگی نشان دہی کر کے حفاظتی بندوبست مکمل رکھنے چاہئیں تاکہ مستقبل میں معصوم بچوں اور شہریوں کی جانیں خطرے میں نہ پڑیں۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025