google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
Sarah Beckstrom

وائٹ ہاؤس کے قریب ہدف بنا کر کیے گئے حملے میں ایک اور گارڈ رکن زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے

واشنگٹن ڈی سی – (امریکی نیوز/سیکیورٹی رپورٹس) وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ہدف بنا کر کیے گئے حملے میں زخمی ہونے والی نیشنل گارڈ کی دو ارکان میں سے ایک، سارہ بیکسٹروم، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی ہیں۔ ان کی وفات کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی رات امریکی فوجیوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے تھینکس گیونگ کال کے دوران تصدیق کی کہ 20 سالہ سارہ بیکسٹروم، جن کا تعلق مغربی ورجینیا نیشنل گارڈ سے تھا، اس دنیا سے کوچ کر گئی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا:

“مغربی ورجینیا سے تعلق رکھنے والی سارہ بیکسٹروم، ان گارڈ اہلکاروں میں سے ایک ہیں جن کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں۔ ایک بہت ہی قابل احترام، نوجوان، شاندار شخصیت… وہ ابھی انتقال کر گئی ہیں۔ وہ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔”

دوسرا گارڈ رکن زندگی اور موت کی کشمکش میں

صدر نے مزید بتایا کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے دوسرے نیشنل گارڈ رکن، 24 سالہ اسٹاف سارجنٹ اینڈریو وولف (Staff Sgt Andrew Wolfe)، اب بھی “زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں”۔

ملزم پر قتل کا مقدمہ

اس افسوسناک موت کے نتیجے میں، امریکی اٹارنی برائے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا جینین پیرو (Jeanine Pirro) نے اعلان کیا ہے کہ ملزم، 29 سالہ رحمت اللہ لکانوال (Rahmanullah Lakanwal)، پر اب قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

  • نئی دفعات: پیرو نے تصدیق کی کہ ملزم پر اب قتل عمد (Murder in the first-degree) کا الزام عائد کیا جائے گا۔
  • افغان شہری: لکانوال ایک افغان شہری ہے جسے 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ایک resettlement پروگرام کے تحت امریکہ میں داخل کیا گیا تھا۔
  • وزارت انصاف کا موقف: امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی (Pam Bondi) نے ایک دن قبل ہی کہا تھا کہ وہ پراسیکیوٹرز پر زور دیں گی کہ وہ اس “درندے” کے خلاف سزائے موت کے حصول کی کوشش کریں۔

حملے کی نوعیت اور تحقیقات

لکانوال پر الزام ہے کہ وہ ملک بھر سے گاڑی چلا کر واشنگٹن آیا اور “گھات لگا کر حملے کے انداز” (Ambush-style attack) میں .357 اسمتھ اینڈ ویسن ریوالور سے گارڈ ارکان پر فائرنگ کی۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ملزم کے مقاصد کی جانچ کر رہے ہیں، اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ایجنسی اس فائرنگ کو دہشت گردی کے فعل (Act of Terrorism) کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔

مغربی ورجینیا کے گورنر پیٹرک موریسی (Patrick Morrisey) نے سارہ بیکسٹروم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے “اپنی ریاست اور قوم کے لیے جرات، غیر معمولی عزم اور غیر متزلزل فرض شناسی کے ساتھ خدمات انجام دیں۔”

یہ واقعہ امریکی دارالحکومت میں سیکیورٹی اور امیگریشن پالیسیوں پر ایک نئی سیاسی بحث کا سبب بن چکا ہے۔

About The Author

صفراوادی‘: انڈونیشیا کا وہ ’مقدس غار جہاں مکہ تک پہنچانے والی خفیہ سرنگ‘ موجود ہے جعفر ایکسپریس کے مسافروں نے کیا دیکھا؟ سی ڈی اے ہسپتال میں لفٹ خراب ٹریفک پولیس جدید طریقہ واردات