ریاض (نیوز ڈیسک): سعودی عرب کی حکومت نے مملکت میں موجود ان غیر ملکیوں کے لیے ایک بڑے ریلیف کا اعلان کیا ہے جن کے ویزوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ اور محکمہ پاسپورٹ (جوازات) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہدایات کے مطابق، ایسے تمام افراد جن کے پاسپورٹ یا ویزے کی مدت ختم ہو چکی ہے، وہ 18 اپریل 2026 تک اپنے قیام میں توسیع کروا سکتے ہیں یا کسی قانونی کارروائی کے بغیر مملکت سے روانہ ہو سکتے ہیں۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!اعلان کے اہم نکات
سعودی پریس ایجنسی (SPA) کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد ان غیر ملکیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے جو غیر ارادی طور پر ویزہ ختم ہونے کے بعد مملکت میں مقیم رہ گئے تھے۔ اس رعایت کے تحت درج ذیل سہولیات فراہم کی گئی ہیں:
- قیام میں توسیع: جن افراد کے وزٹ (Visit)، سیاحتی (Tourism) یا فیملی ویزے ختم ہو چکے ہیں، وہ مقررہ تاریخ تک اپنے ویزے کی مدت میں توسیع کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
- براہِ راست واپسی: وہ افراد جو مزید قیام نہیں کرنا چاہتے، وہ جرمانے یا بلیک لسٹ ہونے کے خوف کے بغیر براہِ راست اپنے ملک واپس جا سکتے ہیں۔
- خروج و عودہ (Exit/Re-entry) کی سہولت: ایسے غیر ملکی ملازمین جن کا ‘خروج و عودہ’ ویزہ مملکت سے باہر ہوتے ہوئے یا اندر رہتے ہوئے ختم ہو گیا، انہیں بھی اس ریلیف پیکیج کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ سہولت دی جائے گی۔
کون سے ویزے شامل ہیں؟
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ رعایت درج ذیل زمروں کے لیے ہے:
- سیاحتی ویزہ (E-Visa/Tourism Visa) پر آنے والے افراد۔
- فیملی یا ذاتی وزٹ ویزہ رکھنے والے غیر ملکی۔
- وہ عمرہ زائرین جو ویزہ کی مدت ختم ہونے کے بعد تاحال مملکت میں موجود ہیں۔
درخواست دینے کا طریقہ کار
سعودی محکمہ پاسپورٹ (جوازات) نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ افراد کو دستی طور پر دفاتر کے چکر کاٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام کارروائی درج ذیل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مکمل کی جا سکتی ہے:
- ابشر (Absher) پورٹل: انفرادی ویزوں اور فیملی وزٹ کی توسیع کے لیے۔
- مقیم (Muqeem) پورٹل: کمپنیوں اور تجارتی اداروں کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے لیے۔
جرمانے اور قانونی کارروائی سے بچنے کی تاکید
سعودی حکام نے خبردار کیا ہے کہ 18 اپریل کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد ویزہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے بعد قیام کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں اور انہیں مستقل طور پر ڈی پورٹ (ملک بدر) بھی کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ کبھی سعودی عرب داخل نہیں ہو سکیں گے۔
سیاحتی اور معاشی اثرات
ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اس لچکدار پالیسی کا مقصد مملکت کے مثبت تشخص کو برقرار رکھنا اور سیاحت و تجارت کے شعبے میں موجود غیر ملکیوں کو درپیش تکنیکی مسائل کو حل کرنا ہے۔ خاص طور پر رمضان اور عید کے سیزن کے دوران اس طرح کے اعلانات سے ہزاروں خاندانوں کو سہولت ملتی ہے۔
خلاصہ: اگر آپ کا یا آپ کے کسی جاننے والے کا ویزہ سعودی عرب میں ختم ہو چکا ہے، تو 18 اپریل سے پہلے ‘ابشر’ کے ذریعے اپنی قانونی حیثیت درست کر لیں یا واپسی کی راہ لیں۔
