Preloader
Situation Now Worse Than During British Era

اہم نکات (خلاصہ)

  • بھارتی الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (سی پی آئی-ایم) کے رہنماؤں اور کارکنان نے نئی دہلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے دفتر کے باہر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔
  • چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ: مظاہرین نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کی مشق پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
  • 13 کروڑ ووٹرز کے اخراج کا الزام: سی پی آئی-ایم کی سینئر رہنما برندا کرات نے الزام عائد کیا کہ خصوصی نظرثانی کے عمل کے دوران ملک بھر کے تقریباً 13 کروڑ شہریوں کے نام ووٹر فہرستوں سے نکال دیے گئے ہیں۔
  • برطانوی دور سے موازنہ: برندا کرات نے موجودہ جمہوری اور انتخابی صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے برطانوی نوآبادیاتی دور سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ): بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سیاسی اور انتخابی منظر نامہ اس وقت شدید تناؤ کا شکار ہو گیا جب بائیں بازو کی اہم جماعتوں، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (سی پی آئی-ایم) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے مرکزی دفتر کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔

یہ مظاہرہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی شدید نظرثانی (Special Intensive Revision – SIR) کی پالیسی اور اس کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کے حقِ رائے دہی پر اثر انداز ہونے والے اقدامات کے خلاف کیا گیا۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور کمیشن کی کارکردگی کے خلاف نعرے بازی کی اور چیف الیکشن کمشنر سے فوری طور پر عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

الیکشن کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور نعرے بازی

نئی دہلی میں واقع الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر الیکشن کمیشن اور حکومتِ ہند کی انتخابی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا موقف تھا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا موجودہ طریقہ کار شفاف نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کے کروڑوں غریب، محنت کش اور اقلیتی شہریوں کو ووٹر لسٹوں سے خارج کر کے ان کے بنیادی جمہوری اور آئینی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے گرد سخت رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں تاکہ مظاہرین کو عمارت کے اندر داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ اس موقع پر بائیں بازو کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل کو جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیا۔

’صورتحال برطانوی دور سے بھی بدتر‘: برندا کرات کی شدید تنقید

خبر رساں ادارے آئی اے این ایس (IANS) سے گفتگو کرتے ہوئے سی پی آئی-ایم کی سینئر رہنما اور سابق رکنِ پارلیمنٹ برندا کرات نے الیکشن کمیشن اور ہندوستانی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خصوصی شدید نظرثانی (SIR) کی نام نہاد مشق کے نام پر کروڑوں مستحق شہریوں کو انتخابی عمل سے باہر پھینک دیا گیا ہے۔

برندا کرات نے میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا:

“اس وقت ہمارے ملک کے تقریباً 13 کروڑ شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے گئے ہیں۔ جس قسم کی صورتحال اس وقت بنا دی گئی ہے، وہ برطانوی نوآبادیاتی دور سے بھی زیادہ بدتر اور خطرناک ہے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک آزاد جمہوری ملک میں الیکشن کمیشن کا بنیادی کام تمام اہل شہریوں کی ووٹر لسٹ میں شمولیت کو یقینی بنانا ہوتا ہے، نہ کہ ایسے پیچیدہ ضوابط اور طریقہ کار وضع کرنا جس کے ذریعے غریب اور پسماندہ طبقات کو انتخابی فہرستوں سے ہی باہر کر دیا جائے۔

ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کیا ہے؟

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے وقتاً فوقتاً ووٹر فہرستوں کی اپ ڈیٹنگ کے لیے خصوصی نظرثانی کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔ اس عمل کا بظاہر مقصد درج ذیل نکات پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے:

  • جعلی ووٹرز کا اخراج: ووٹر لسٹوں میں موجود دوہرے یا جعلی اندراجات کا خاتمہ کرنا۔
  • انتقال کر جانے والے افراد: وفات پا جانے والے ووٹرز کے نام فہرستوں سے حذف کرنا۔
  • مکان تبدیل کرنے والے شہری: وہ افراد جو اپنا رہائشی پتہ تبدیل کر چکے ہیں، ان کی نئی جگہ پر منتقلی کو یقینی بنانا۔
  • نئے ووٹرز کی شمولیت: 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے نئے نوجوانوں کو فہرست کا حصہ بنانا۔

تاہم، اپوزیشن جماعتوں اور بائیں بازو کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ اس طریقہ کار اور خاص طور پر ایس آئی آر (SIR) کی آڑ میں انتظامیہ شفافیت کے اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر شہریوں کو نوٹس دیے بغیر یا ان کی مناسب تصدیق کیے بغیر ان کے نام فہرست سے خارج کر رہی ہے، جس کے سب سے زیادہ اثرات غریب، بے گھر اور نقل مکانی کرنے والے محنت کشوں پر پڑ رہے ہیں۔

اعداد و شمار اور اپوزیشن کے الزامات کا جائزہ

بائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے پیش کیے گئے اہم اعداد و شمار اور الزامات درج ذیل نکات پر مشتمل ہیں:

  • متاثرہ ووٹرز کی تعداد: سی پی آئی (ایم) کا دعویٰ ہے کہ نظرثانی کے مختلف مراحل کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 13 کروڑ شہریوں کا نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیا جا چکا ہے۔
  • نوٹس کی عدم فراہمی: متاثرہ شہریوں کو ان کے نام خارج کیے جانے سے قبل کوئی تحریری اطلاع یا صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔
  • اقلیتوں اور محنت کشوں کا نقصان: اپوزیشن کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں، جھگی جھونپڑیوں اور شہروں میں محنت مزدوری کرنے والے طبقے کے پاس شناختی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے ان کا نام کاٹ دیا جاتا ہے۔
  • الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر سوالات: اپوزیشن کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن حکمران جماعت کے فائدے کے لیے انتخابی انجینئرنگ اور آبادیاتی تبدیلیوں کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

سیاسی و انتخابی پس منظر اور آئندہ کے اثرات

بھارت میں آئندہ ہونے والے مختلف ریاستی اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے تناظر میں ووٹر لسٹوں کا مسئلہ انتہائی حساس اور اہم ہو چکا ہے۔ اپوزیشن اتحاد (INDIA alliance) کے دیگر احزاب بھی ماضی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا، ای وی ایم (EVMs) اور ووٹر لسٹوں کی درستگی سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک کا انتخابی ادارہ ہی شہریوں کے ووٹ دینے کا بنیادی حق چھیننے لگے تو جمہوریت کی عمارت بیٹھ جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے اپنے اس فیصلے پر نظرثانی نہ کی، حذف کیے گئے تمام ووٹرز کے نام دوبارہ بحال نہ کیے اور چیف الیکشن کمشنر نے استعفیٰ نہ دیا تو یہ احتجاج صرف نئی دہلی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے پورے ملک کی سطح پر پھیلایا جائے گا۔

ایڈیٹوریل نوٹ اور الیکشن کمیشن کا موقف

ایک معروضی صحافتی نقطہ نظر کے مطابق ووٹر فہرستوں کی درستگی الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داریوں میں شامل ہے، تاہم جب اتنے بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو انتخابی ادارے کا شفاف طرزِ عمل اور وضاحتی بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔

فی الوقت الیکشن کمیشن کی جانب سے برندا کرات اور بائیں بازو کی جماعتوں کے 13 کروڑ ووٹرز کے اخراج سے متعلق الزامات پر کوئی حتمی تفصیلی یا باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا ہے۔ قانونی و انتخابی ماہرین کا ماننا ہے کہ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ اعداد و شمار پر مبنی باضابطہ وضاحت جاری کرے اور عام شہریوں کو اپنے ووٹ کے اندراج کی تصدیق اور تصحیح کا مکمل اور آسان موقع فراہم کرے تاکہ انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد قائم رہے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔