تحریر: سندس ایمان
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی
میں جنگل کا ایک خاموش مسافر Leopard ہوں ۔ میری کھال سنہری ہے جس پر جگہ جگہ سیاہ دھبے ہیں اور میری چال نہایت ہی ہلکی ہے۔ میرے آباؤاجداد کا تعلق افریقہ اور ایشیاء کے وسیع جنگلات سے تھا۔ وہاں ہم آزادی سے گھومتے تھے مگر اب ایسا نہیں رہا۔میری پیدائش ایک گھنے جنگل میں ہوئی تھی اس وقت درخت بہت تھے ، پانی صاف تھا اور شکار آسانی سے مل جاتا تھا مگر جیسے جیسے میں بڑا ہوا میں نے دیکھا کہ جنگلات ختم ہو رہے ہیں ، درخت کا ٹے گئے ہیں آس پاس سڑکیں بنائی گئی اور عمارتیں کھڑی کر دی گئی ہے انسانوں کی بستیاں ہمارے مسکن کے قریب ہو گئی اور ہماری رہائش ختم ہو رہی ہے ۔IUCN کے مطابق میری نسل خطرے میں ہے اور جیسے حالات ہیں بہت جلد ہماری نسل کا خاتمہ ہو جائے گا۔ جنگلات کی کٹائی نے ہمارے رہنے کی جگہ کو کم کر دیا ہے۔ اور ہم شہری آبادی کے بہت قریب ہو گئے ہیں ۔ موسمیاتی تبدیلی بھی میری زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہے ، گرمی، پانی کی کمی اور موسموں کی بے ترتیبی نے میری زندگی کو بہت متاثر کیا ہے اور میرے بہت سے ساتھی بھوک کا شکار ہو کر موت کو گلے لگا چکے ہیں۔میں صرف خوف کی کہانی نہیں ہوں میں امید کی علامت بھی ہوں میں نے کچھ انسانوں کو دیکھا ہے جو ہماری حفاظت کے لیے کام کر رہے ہیں اور وہ ہماری نسل کو بچانے کی کوشش میں کوشاں ہیں۔میں آج بھی زندہ ہوں لیکن میرا مستقبل غیر یقینی ہے۔ اگر انسان فطرت کا احترام کریں، جنگلات کی حفاظت کریں اور ہمیں جینے کی جگہ دیں تو میری نسل باقی رہ سکتی ہے۔میں جنگل کی گہرائیوں میں خاموشی سے چلتا ہوں ۔ ہر قدم کے سوال چھوڑتا ہوا ہے :- کیا آنے والی نسلیں مجھے آزاد گھومتے دیکھیں گی ، یا صرف میری تصاویر کتابوں اور رسائل کی زینت بنی رہ جائیں گی؟میری کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی … مگر اس کا انجام آپ کے ہاتھ میں ہے۔
