Preloader
Three pro-Israel Democrats given key roles

اہم نکات:

  • امریکی کانگریس کی خارجہ پالیسی کی نگرانی کرنے والی بااختیار کمیٹی میں ڈیبی واسرمین شلٹز اور ویسلی بیل کو اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔
  • جیرڈ ماسکووٹز کو ایک انتہائی اہم ذیلی کمیٹی کا ‘رینکنگ ممبر’ (اعلیٰ ترین اپوزیشن رکن) مقرر کر دیا گیا ہے۔
  • یہ تینوں ڈیموکریٹ رہنما اسرائیل کے کٹر حامی سمجھے جاتے ہیں، جس پر پارٹی کے ترقی پسند اور بائیں بازو کے کارکنوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
  • سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ فیصلہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نچلی سطح کے ووٹرز کے موجودہ عوامی جذبات کے بالکل برعکس ہے اور اس سے پارٹی کے اندرونی اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
  • امریکی کانگریس کی خارجہ پالیسی کمیٹی میں اسرائیل حامی

واشنگٹن کی سیاست میں ایک نیا تنازعہ اور خارجہ پالیسی کی سمت

امریکی سیاست اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی حلقوں میں ایک نیا سیاسی تنازعہ اس وقت کھڑا ہو گیا جب امریکی کانگریس کی ایک انتہائی بااختیار اور حساس کمیٹی، جو امریکی خارجہ پالیسی کی براہِ راست نگرانی کرتی ہے، میں تین کٹر اسرائیل حامی ڈیموکریٹ اراکین کو کلیدی عہدوں پر بٹھا دیا گیا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور غزہ جنگ کے باعث امریکی عوام، بالخصوص ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں میں، امریکی خارجہ پالیسی پر شدید بحث جاری ہے۔

پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ڈیبی واسرمین شلٹز، ویسلی بیل اور جیرڈ ماسکووٹز کو خارجہ امور کی کمیٹیوں میں آگے لانے کا یہ اقدام ترقی پسند (Progressive) دھڑے کے مطالبات کے بالکل برعکس ہے۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کارکنان اور نوجوان ووٹرز طویل عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی غیر مشروط عسکری اور مالی امداد پر شرائط عائد کی جائیں۔

تقرریوں کی تفصیلات اور نئے عہدے داروں کا سیاسی پس منظر

اس نئی سفارتی اور سیاسی صف بندی کے تحت جن تین رہنماؤں کو خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار دیا گیا ہے، ان کا سیاسی پس منظر اور مؤقف درج ذیل ہے:

  • جیرڈ ماسکووٹز (Jared Moskowitz): انہیں کانگریس کی ایک اہم ذیلی کمیٹی کا ‘رینکنگ ممبر’ (Ranking Member) مقرر کیا گیا ہے۔ امریکی کانگریس میں رینکنگ ممبر کا عہدہ اقلیتی پارٹی کے سب سے سینئر رکن کے پاس ہوتا ہے جو کمیٹی کے ایجنڈے کو تشکیل دینے اور بحث کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جیرڈ ماسکووٹز اپنے اسرائیل نواز بیانات اور ترقی پسند اراکین کے خلاف سخت مؤقف کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔
  • ڈیبی واسرمین شلٹز (Debbie Wasserman Schultz): ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی تجربہ کار رکنِ کانگریس اور ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی (DNC) کی سابق سربراہ ہیں۔ وہ امریکی کانگریس میں پرو اسرائیل لابی کی سب سے مضبوط آوازوں میں شمار ہوتی ہیں اور امریکی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے دفاع کو غیر متزلزل قرار دیتی ہیں۔
  • ویسلی بیل (Wesley Bell): مسوری سے تعلق رکھنے والے ویسلی بیل نے حال ہی میں ایک سخت انتخابی مقابلے میں ترقی پسند رکنِ کانگریس ‘کوری بش’ کو شکست دی تھی۔ کوری بش غزہ میں جنگ بندی کی سب سے بڑی حامیوں میں سے تھیں۔ ویسلی بیل کی اس کمیٹی میں شمولیت کو اسرائیل نواز ڈونرز اور لابی گروپس کی بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حقائق اور اعداد و شمار: پرو اسرائیل لابی کا اثر و رسوخ

امریکی خارجہ پالیسی میں ان تقرریوں کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے چند اہم حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے:

  1. اے آئی پیک (AIPAC) کی فنڈنگ: ان تینوں رہنماؤں کی انتخابی مہمات میں ‘امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی’ (AIPAC) اور دیگر پرو اسرائیل پولیٹیکل ایکشن کمیٹیوں (PACs) نے کروڑوں ڈالرز کی خطیر فنڈنگ کی ہے۔
  2. عوامی جذبات بمقابلہ سیاسی فیصلے: حالیہ امریکی سرویز کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی کے تقریباً 60 سے 70 فیصد ووٹرز غزہ میں فوری جنگ بندی اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی کے حامی ہیں، جبکہ قیادت کے فیصلے اس کے بالکل الٹ ہیں۔
  3. خارجہ کمیٹی کا دائرہ کار: یہ کمیٹی براہِ راست امریکی محکمہ خارجہ (State Department) کی نگرانی کرتی ہے، عالمی بجٹ منظور کرتی ہے، اور بیرونی ممالک کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دیتی ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی اختلافات اور بائیں بازو کا ردِعمل

اس فیصلے نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر موجود نظریاتی خلیج کو مزید چوڑا کر دیا ہے۔ ترقی پسند دھڑا، جسے عام طور پر “دی اسکواڈ” (The Squad) کے نام سے جانا جاتا ہے، اور اس کے حامی کارکنان اس اقدام پر شدید غصے میں ہیں۔

بائیں بازو کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ پارٹی کی قیادت زمینی حقائق اور نوجوان نسل کے جذبات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ایک ایسے وقت میں جب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اور عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں، خارجہ پالیسی کی باگ ڈور ایسے اراکین کو سونپنا جو غیر مشروط طور پر ایک فریق کے حامی ہیں، امریکی سفارت کاری کے توازن کو بگاڑ دے گا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور نچلی سطح کی سیاسی تنظیموں کی جانب سے اس فیصلے کو “عوامی مینڈیٹ کی توہین” قرار دیا جا رہا ہے۔

موجودہ صورتحال کا پس منظر: مشرقِ وسطیٰ کا تنازع اور امریکی سیاست

مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازعے نے امریکی گھریلو سیاست کو جس طرح متاثر کیا ہے، اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ امریکی جامعات میں ہونے والے وسیع تر احتجاجی مظاہرے، مشی گن جیسی اہم ریاستوں میں عرب نژاد اور مسلم ووٹرز کی جانب سے ‘ان کمٹڈ’ (Uncommitted) مہم، اور ڈیموکریٹک پارٹی کے روایتی ووٹ بینک میں بے چینی اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی اب محض بین الاقوامی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کا براہِ راست اثر مقامی سیاست اور انتخابات پر پڑ رہا ہے۔

پارٹی قیادت کی جانب سے ان تینوں اسرائیل حامی رہنماؤں کو آگے لانے کا مقصد ممکنہ طور پر پارٹی کے اعتدال پسند (Centrist) ووٹرز اور بڑے ڈونرز کو مطمئن کرنا ہے۔ قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر وہ ترقی پسندوں کے دباؤ میں آ کر اسرائیل کے حوالے سے اپنی روایتی پالیسی تبدیل کرتے ہیں، تو ریپبلکن پارٹی اسے امریکی کمزوری اور اتحادیوں سے بے وفائی کے طور پر پیش کرے گی۔

مستقبل کے اثرات اور ایڈیٹوریل تجزیہ

ایک غیر جانبدارانہ صحافتی نقطہ نظر سے تجزیہ کیا جائے تو، ڈیبی واسرمین شلٹز، ویسلی بیل، اور جیرڈ ماسکووٹز کی تقرریاں ڈیموکریٹک پارٹی کی اس کشمکش کی واضح عکاسی کرتی ہیں جہاں وہ اپنے روایتی حلیفوں (ڈونرز اور اسٹیبلشمنٹ) اور اپنے ابھرتے ہوئے ووٹر بیس (نوجوان، اقلیتیں اور ترقی پسند) کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔

خارجہ پالیسی کمیٹی میں ان تقرریوں کے درج ذیل مستقبل کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:

  • ہتھیاروں کی فروخت پر قانون سازی: ان اراکین کی موجودگی میں اسرائیل کے لیے فوجی امداد کی منظوری میں کوئی بڑی رکاوٹ پیدا ہونے کا امکان معدوم ہو گیا ہے، اور ترقی پسند اراکین کی جانب سے امداد پر شرائط عائد کرنے کی قراردادیں کمیٹی کی سطح پر ہی مسترد کر دی جائیں گی۔
  • نوجوان ووٹرز کی مایوسی: ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو اور نوجوان ووٹرز کی مایوسی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو آئندہ انتخابات میں ان کے ٹرن آؤٹ (ووٹ ڈالنے کی شرح) کو متاثر کر سکتا ہے۔
  • پارٹی کے اندر پالیسی پر محاذ آرائی: خارجہ امور کی کمیٹی کی سماعتوں کے دوران ڈیموکریٹک اراکین کے مابین ہی کھلی محاذ آرائی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جس سے قانون سازی کا عمل متاثر ہوگا۔

مختصر یہ کہ، یہ تقرریاں محض عہدوں کی تقسیم نہیں ہیں، بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مستقبل کے نظریاتی تشخص اور امریکی خارجہ پالیسی کی سمت کا ایک واضح اعلان ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ترقی پسند کارکنان کا یہ غصہ کس حد تک منظم ہو کر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے لیے سیاسی چیلنج بنتا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025