اہم نکات (خلاصہ) مذہبی عقیدت و جوش: پاکستان کے مختلف شہروں میں ہندو برادری آج دیوالی کا تہوار روایتی مذہبی جوش و جذبے، چراغاں اور پوجا پاٹ کے ساتھ منا رہی ہے۔ عبادت گاہوں میں تقاریب: کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اندرونِ سندھ کے تمام چھوٹے بڑے مندروں کو خوبصورتی سے سجا دیا گیا ہے جہاں ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی: حکومت پاکستان، سیاسی و سماجی شخصیات اور مسلم برادری کی جانب سے ہندو برادری کو مبارکباد کے پیغامات اور دیوالی کی تقریبات میں شرکت بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال ہے۔ سیکیورٹی کے سخت اقدامات: تہوار کے پُر امن انعقاد اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے تمام صوبوں میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ ملک بھر میں دیوالی کی رنگا رنگ تقریبات کا آغاز پاکستان کی ہندو برادری آج ملک بھر میں روشنیوں کا تہوار “دیوالی” (دیپ اولی) اپنے تمام تر روایتی جوش و جذبے، مذہبی روایات اور عقیدت کے ساتھ منا رہی ہے۔ اس پرمسرت موقع پر کراچی سے لے کر خیبر تک اور کوئٹہ سے لے کر اندرونِ سندھ کے تمام اضلاع میں ہندو برادری کی عبادت گاہوں اور گھروں میں خصوصی رنگ اور رونقیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ صبح کے آغاز کے ساتھ ہی ہندو برادری کے افراد نے اپنے گھروں کی صفائیاں کیں اور انہیں رنگ برنگی مٹی کے چراغوں، بجلی کے قمقموں، پھولوں اور روایتی “رنگولی” کے خوبصورت خاکوں سے آراستہ کیا۔ بچوں، جوانوں اور بزرگوں نے نئے لباس زیب تن کیے اور ایک دوسرے کو مٹھائیاں اور تحائف تقسیم کر کے دیوالی کی خوشیاں دوبالا کیں۔ مندروں میں خصوصی پوجا اور سلامتی کی دعائیں دیوالی کے موقع پر صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر شہروں میں واقع تاریخی مندروں کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا ہے۔ کراچی کے شری سوامی نارائن مندر، پنچ مکھی ہنومان مندر، لاہور کے کرشنا مندر، پشاور کے گورکھ ناتھ مندر اور سکھر و حیدرآباد کے تمام بڑے مندروں میں خصوصی پوجا پاٹ کے اجتماع منعقد کیے گئے ہیں۔ ان مذہبی تقاریب کے دوران ہندو برادری کے پیشواؤں نے دیوالی کی مذہبی اہمیت پر روشنی ڈالی اور خصوصی دعائیہ اجتماعات کا اہتمام کیا۔ اجتماعات میں پیش کی جانے والی بنیادی التجا میں درج ذیل نکات شامل ہیں: ملکی سلامتی و ترقی: پاکستان کی سلامتی، استحکام اور معاشی خوشحالی کے لیے خصوصی پرارتھنا کی گئی۔ امن و اخوت کا فروغ: دنیا بھر اور بالخصوص خطے میں امن و امان، بھائی چارے اور محبت کے قیام کی دعا کی گئی۔ ہم آہنگی اور اتحاد: تمام مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان اتحاد اور باہمی احترام کے رشتے کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ بین المذاہب ہم آہنگی اور سرکاری سرپرستی دیوالی کا تہوار پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک بہترین مظہر بن کر سامنے آتا ہے۔ اس موقع پر صدرِ مملکت، وزیراعظم اور تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ کی جانب سے ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد کے خصوصی پیغامات جاری کیے گئے ہیں۔ سرکاری سطح پر اقلیتی برادری کے مذہبی و آئینی حقوق کے تحفظ اور ان کی خوشیوں میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ مختلف اضلاع میں بین المذاہب ہم آہنگی کی خصوصی تقاریب اور دیوالی ملن پارٹیز کا اہتمام بھی کیا گیا، جن میں مسلم، مسیحی، سکھ اور دیگر مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کر کے ہندو برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ سول سوسائٹی کی جانب سے بھی ہندو برادری کے گھروں اور مندروں میں جا کر مٹھائیاں تقسیم کرنے کی روایت کو برقرار رکھا گیا۔ اندرونِ سندھ میں دیوالی کی خاص رونقیں پاکستان میں ہندو آبادی کی اکثریت صوبہ سندھ میں مقیم ہے، جہاں اس تہوار کی رونقیں اور گہما گہمی عروج پر ہوتی ہے۔ حیدرآباد، میرپورخاص، عمرکوٹ، تھرپارکر، سکھر، لاڑکانہ اور گوٹکی کے شہروں اور دیہاتوں میں دیوالی کا تہوار بے حد جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ تھرپارکر اور عمرکوٹ جیسے علاقوں میں مسلمان اور ہندو صدیوں سے ایک ساتھ مل کر تہوار مناتے آئے ہیں۔ یہاں بازاروں کو دلکش انداز میں سجا دیا گیا ہے، جہاں مٹھائیوں اور پوجا کے سامان کی دکانوں پر زبردست رش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ رات کے وقت پٹاخے چھوڑنے اور آتش بازی کے شاندار مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں جس سے فضا رنگ و نور میں نہا گئی ہے۔ سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات دیوالی کے موقع پر ہندو برادری کی حفاظت اور مندروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی و صوبائی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے اٹھائے گئے اہم سیکیورٹی اقدامات درجہ ذیل ہیں: عبادت گاہوں کی ناکہ بندی: تمام بڑے اور حسّاس مندروں کے اطراف اضافی پولیس اہلکار اور لیڈیز پولیس کی نفل نفری تعینات کی گئی ہے۔ کیمروں کے ذریعے نگرانی: اہم تقاریب اور مندروں کے داخلہ راستوں کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں سے کی جا رہی ہے۔ جامع تلاشی کا نظام: مندروں میں داخل ہونے والے تمام افراد کی جامع تلاشی اور واک تھرو گیٹس کی تنصیب کو یقینی بنایا گیا ہے۔ دیوالی کا تاریخی پس منظر اور اہمیت دیوالی ہندو مذہب کا سب سے اہم اور بڑا تہوار تصور کیا جاتا ہے جسے “روشنیوں کا تہوار” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تہوار تاریکی پر روشنی، برائی پر اچھائی اور جہالت پر علم کی فتح کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مذہبی روایات کے مطابق، اس دن کو خوشحالی اور امید کی شروعات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ تہوار اس بات کی بھی تجدید کرتا ہے کہ ملک میں موجود تمام اقلیتوں کو اپنے مذہبی تہوار مکمل آزادی، تحفظ اور وقار کے ساتھ منانے کے یکساں حقوق حاصل ہیں، جو پاکستان کے آئین اور بانیٔ پاکستان کے فرمودات کا بنیادی حصہ ہیں۔ Post navigation غزہ میں انسانی المیہ شدید تر: جنگ میں شہدا کی تعداد 74 ہزار 640 سے تجاوز کر گئی چیک کے ذریعے سرکاری ادائیگیوں کا دور ختم: 16 نومبر سے ملک بھر میں نیا ڈیجیٹل نظام نافذ کرنے کا اعلان