وفاقی وزارتِ تجارت نے وزارتِ خارجہ سے مشاورت کے بعد انسانی بنیادوں پر طورخم اور چمن کی تجارتی گزرگاہیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان 50 روز سے تجارت بند ہونے کے باعث افغانستان میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!وزارتِ تجارت نے ممبر کسٹمز (آپریشنز) ایف بی آر اسلام آباد اور ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی کو خط لکھ کر اقوامِ متحدہ کے انسان دوست کارگو کی آمد و رفت میں سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔خط کے مطابق، یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام اور یو این پاپولیشن فنڈ کے کنٹینرز کو مرحلہ وار کلیئر کیا جائے گا:پہلا مرحلہ: خوراک لے جانے والے کنٹینرزدوسرا مرحلہ: ادویات اور طبی سامانتیسرا مرحلہ: دیگر ضروری اشیاء، بشمول طلبہ و اساتذہ کے لیے کِٹسایف بی آر اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ کو ضروری کارروائی مکمل کرکے ان کنٹینرز کی چمن اور طورخم راستے ترسیل یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ صورتحال کے باعث 12 اکتوبر 2025 سے تمام تجارتی گزرگاہیں بند تھیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationفیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ سنبھال لیا امریکہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں غیر قانونی مقیم غیر ملکی کی شمولیت