google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
Who is on the table

اسلام آباد / دوحہ (نیوز ڈیسک): پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن گیا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا انتہائی حساس دوسرا دور (Second Round) شروع ہو چکا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس بار مذاکرات کی میز پر موجود شخصیات کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک اس تعطل کو توڑنے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہیں، تاہم ایجنڈا اب بھی پیچیدہ سوالات سے بھرا ہوا ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

مذاکراتی میز پر اہم شخصیات: کون کیا ہے؟

اس دوسرے دور میں دونوں اطراف سے اعلیٰ سطح کے وفود شریک ہیں:

امریکی وفد (The US Side):

  • جے ڈی وینس (نائب صدر): ان کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ امریکی انتظامیہ اس عمل کو براہِ راست وائٹ ہاؤس سے مانیٹر کر رہی ہے۔
  • اسٹیو وٹکوف (خصوصی ایلچی): مشرقِ وسطیٰ کے امور پر ان کی گرفت مذاکرات میں تزویراتی وزن پیدا کر رہی ہے۔
  • جیرڈ کشنر: سابقہ تجربے اور علاقائی روابط کی بنیاد پر انہیں ‘بیک چینل’ رابطوں کے لیے کلیدی سمجھا جا رہا ہے۔
  • ایڈمرل بریڈ کوپر (سینٹ کام): بحری سیکیورٹی اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر تکنیکی بریفنگ کے لیے وہ وفد کا حصہ ہیں۔

ایرانی وفد (The Iranian Side):

  • محمد باقر قالیباف (اسپیکر پارلیمنٹ): ان کی شرکت اس بات کی ضمانت ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو تہران میں پارلیمانی حمایت حاصل ہوگی۔
  • عباس عراقچی (وزیرِ خارجہ): جوہری مذاکرات کے تجربہ کار سفارت کار، جو ایرانی موقف کو منطقی انداز میں پیش کرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
  • مجید تخت روانچی اور محمد باقر ذوالقدر: یہ شخصیات ایران کے اندرونی سیکیورٹی اور سفارتی مفادات کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

دوسرے دور کے بڑے چیلنجز

الجزیرہ کے مطابق، پہلا دور تعارف اور شکایات تک محدود تھا، لیکن دوسرے دور میں درج ذیل نکات پر سخت بحث متوقع ہے:

  1. ناکہ بندی بمقابلہ افزودگی: امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنی جوہری افزودگی کو محدود کرے، جبکہ ایران کا مطالبہ ہے کہ پہلے خلیج میں بحری ناکہ بندی ختم کی جائے۔
  2. ضمانتوں کا سوال: ایرانی وفد کا اصرار ہے کہ امریکہ کسی بھی نئے معاہدے سے دوبارہ پیچھے نہ ہٹنے کی ٹھوس ضمانت فراہم کرے۔
  3. علاقائی اثر و رسوخ: واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے حامی گروہوں کی سرگرمیوں پر قابو پانا چاہتا ہے۔

پاکستان کا بحیثیت میزبان کردار

پاکستانی قیادت، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر شامل ہیں، ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ‘خاموش سہولت کار’ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستانی حکام کا مقصد خطے میں ایک بڑی جنگ کو روکنا ہے جو کہ پاکستان کی اپنی معیشت اور سیکیورٹی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔


خلاصہ: کیا اسلام آباد تاریخ رقم کرے گا؟

الجزیرہ کی رپورٹ کا اختتام اس تبصرے پر ہوتا ہے کہ اگرچہ مذاکراتی میز پر موجود چہرے انتہائی بااثر ہیں، لیکن برسوں پرانے عدم اعتماد کو ختم کرنا آسان نہیں۔ تاہم، اسلام آباد میں ان وفود کی موجودگی بذاتِ خود ایک بڑی سفارتی جیت ہے، جس کا نتیجہ عالمی امن یا ایک نئے تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔


About The Author

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025