5 مرلے کے گھر پر 300 روپے، دس مرلہ 500 روپے ماہانہ صفائی ٹیکس دینا ہوگا، 1مرلہ دکان پر سالانہ ایک ہزار روپے ٹیکس بھرنا ہو گاThank you for reading this post, don't forget to subscribe!شادی ہالز، شاپنگ مالز، پرائیویٹ کلینکس کے مالکان 72 سو روپے صفائی ٹیکس دینگے، ہوٹل،ریسٹورنٹس ،انڈسٹریل یونٹس سے 9 ہزار 6 سو روپے صفائی ٹیکس لیا جائے گالاہور سمیت پنجاب بھر میں صفائی ٹیکس لاگو کر دیا گیا۔دستاویزات کے مطابق5 مرلے کے گھر پر 300 روپے، دس مرلہ 500 روپے ماہانہ صفائی ٹیکس دینا ہو گا، ایک مرلہ دکان پر سالانہ ایک ہزار روپے ٹیکس بھرنا ہو گا، 2سے 5 مرلہ دکان پر سالانہ 2 ہزار روپے صفائی ٹیکس دینا ہو گا، بینک، کمرشل مارکیٹس یونٹس سے 48 سو روپے سالانہ صفائی ٹیکس لیا جائے گا۔اس کے علاوہ شادی ہالز، شاپنگ مالز، پرائیویٹ کلینکس کے مالکان 72 سو روپے صفائی ٹیکس دیں گے، ہوٹل،ریسٹورنٹس ،انڈسٹریل یونٹس سے 9 ہزار 6 سو روپے صفائی ٹیکس لیا جائے گا۔سمری کے مطابق مال روڈ، ہال روڈ، شادمان، مون مارکیٹ، گلشن راوی جیسی بڑی مارکیٹس صفائی ٹیکس کی اے کیٹیگری میں شامل ہیں، گلبرگ، لبرٹی مارکیٹ، ایم ایم عالم روڈ، گارڈن ٹاؤن، شاہ عالم مارکیٹ، ٹاؤن شپ، فیصل ٹاؤن بھی اے کیٹیگری میں شامل ہیں، ذرائع کے مطابق صوبے بھر میں صفائی ٹیکس لگنے سے 160 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا ہو گا۔صوبائی وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق نے بتایا کہ صفائی ٹیکس کی سمری کابینہ کمیٹی میں منظوری کے لئے بھجوا دی گئی ہے، ٹیکس وصولی نئے مالی سال سے شروع ہو گی۔About The Author اردو نیوزاردو نیوز اردو اے بی سی کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ ۸ سال سے یہ فرائص سر انجام دے رہے ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigation میرٹانڈیا نے پدما شری ایوارڈ ایک ایسے شاعر و ادیب کو دیا ہے جس کے پاس تین جوڑے کپڑے ، پھٹے ہوئے جوتے ہیں اور اس کی کتاب ایک یونیورسٹی کے نصاب میں بھی شامل کر لی گئی ہے!جب اُسے ہندوستان کا سب سے بڑا ایوارڈ “پدما شری” ملا تو اُس کی کوئی کتاب اس وقت تک پبلش نہیں ہوئی تھی۔ اُس نے جتنی شاعری لکھی اُسے زبانی یاد تھی۔ اُس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ دہلی تک کا سفر کر کے ایوارڈ وصول کرتا۔ اُس نے خط لکھا: مجھے ایوارڈ پوسٹ کر دیں, میرے پاس کرایہ نہیں، کہ میں وہاں آ سکوں”