اہم نکاتدسمبر 2027ء کا ہدف: حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے 1948ء کے وژن کے مطابق دسمبر 2027ء تک ملک میں مکمل اسلامی بینکاری نظام نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔اسٹیئرنگ کمیٹی کا قیام: اسٹیٹ بینک نے مالیاتی فریم ورک کو شریعت کے مطابق بنانے، پالیسی سازی اور حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک باقاعدہ اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔فری لانسرز اور ترسیلاتِ زر: مرکزی بینک کی جانب سے فری لانسرز کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے بعد ملک میں قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر اور زرمبادلہ کی آمد میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اثاثہ رجسٹر اور صلاحیت میں اضافہ: اسلامی بینکاری کو وسعت دینے کے لیے حکومتی اثاثوں کا جامع رجسٹر تیار کیا جا رہا ہے جبکہ بینکاری شعبے کی افرادی قوت کو شریعہ اصولوں کے مطابق تربیت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔اسلام آباد: خبر کی تفصیلات اور بنیادی اعلانپاکستان میں معیشت کو سود سے پاک اور مکمل طور پر اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ایک اہم تقریب سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مرکزی بینک حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر ملک میں اسلامی مالیاتی نظام کے نفاذ کے لیے دن رات کام کر رہا ہے۔اپنے خطاب کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ اسلامی بینکاری نظام کو مؤثر، مربوط اور پائیدار بنانے کے لیے متعدد بنیادی اور ساختاتی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے 1 جولائی 1948ء کو اسٹیٹ بینک کے افتتاح کے موقع پر جس مغربی معاشی نظام سے ہٹ کر ایک منفرد اسلامی مالیاتی نظام کے قیام کا وعدہ کیا تھا، موجودہ اقدامات اسی تاریخی عزم کی کڑی ہیں۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے باہمی مشاورت سے دسمبر 2027ء تک بینکنگ سسٹمز کو شریعہ کمپلائنٹ بنانے کی واضح حکمتِ عملی وضع کر رکھی ہے۔اسلامی بینکاری کا پس منظر اور عدالتی فیصلےپاکستان کی معیشت سے سود کے خاتمے کی جدوجہد کی ایک طویل قانونی اور معاشی تاریخ ہے۔ وفاقی شرعی عدالت (Federal Shariat Court) کی جانب سے دیے گئے تاریخی فیصلے میں حکومت کو ہدایت کی گئی تھی کہ ملک سے ربا (سود) کو مکمل طور پر ختم کر کے نظام کو اسلامی بینکاری میں تبدیل کیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد حکومت اور مرکزی بینک نے مشترکہ طور پر فیصلے کی روشنی میں قانونی، مالیاتی اور آئینی اقدامات کا آغاز کیا۔تاريخی اعتبار سے اس روڈ میپ کے اہم ترین پہلو درج ذیل ہیں:قائدِ اعظم کا تاریخی وژن (1948ء): اسٹیٹ بینک کے افتتاحی خطبے میں قائد اعظم نے مغربی معاشی نظام کی ناکامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے ایک ایسا نظام وضع کرنے پر زور دیا تھا جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف پر مبنی ہو۔وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ: معاشی و مالیاتی قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے پانچ سالہ ٹائم لائن دی گئی، جس کا حتمی ہدف 2027ء مقرر کیا گیا۔بینکوں کا عبوری دور: روایتی (کنونشنل) بینکوں کو بتدریج اپنی شاخوں کو اسلامی ونڈوز اور پھر مکمل اسلامی بینکاری میں منتقل کرنے کا پابند بنایا جا رہا ہے۔اسٹیٹ بینک کے اقدامات: اصلاحات، فریم ورک اور اثاثہ رجسٹرگورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اپنے خطاب میں ان عملی اقدامات کا تفصیلی ذکر کیا جو مرکزی بینک اس وقت اٹھا رہا ہے۔ اسلامی بینکاری صرف نظریاتی حد تک محدود نہیں بلکہ اس کی پشت پناہی کے لیے مضبوط قانونی اور معاشی بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس سلسلے میں درج ذیل بنیادی امور پر کام تیز کر دیا گیا ہے:اسٹیئرنگ کمیٹی کی تشکیل: شریعہ فریم ورک کی تیاری، ریگولیٹری رکاوٹوں کے خاتمے اور مختلف مالیاتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے اعلیٰ سطحی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔جامع حکومتی اثاثہ رجسٹر (Asset Register): اسلامی مالیاتی نظام میں سوک (Islamic Bonds) جاری کرنے اور فنانسنگ کے لیے اثاثوں کا بیک اپ ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے حکومت پاکستان کے تمام غیر منقولہ اور منقولہ اثاثوں کو ایک مرکزی اور جامع رجسٹر میں مرتب کیا جا رہا ہے۔شریعہ گورننس فریم ورک: تمام بینکوں کے لیے لازم کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے قرضوں، سرمایہ کاری، اور بچت اسکیموں کو اسلامی فقہ کے رہنما اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔دیجیٹل معیشت، فری لانسرز اور ترسیلاتِ زر میں بہتریاپنے خطاب کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے ملک کے مجموعی معاشی منظر نامے اور دیجیٹل مالیاتی وسائل کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک نے تکنیکی شعبے اور خصوصاً فری لانسرز کے لیے کاغذی کارروائیوں اور ادائیگیوں کے عمل کو انتہائی آسان اور شفاف بنا دیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بیرونِ ملک سے اور عالمی پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے پاکستانی نوجوان اب قانونی اور بینکنگ ذرائع سے رقم پاکستان بھیج رہے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف ترسیلاتِ زر (Remittances) میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے بلکہ ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والا دباؤ بھی کم ہوا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اسلامی بینکاری میں جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے سے نوجوان نسل اور کاروباری طبقے کو اس نظام کی طرف راغب کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔اہم چیلنجز اور پیش رفت کی راہیںاگرچہ دسمبر 2027ء کا ہدف اور اسٹیٹ بینک کا عزم مثبت ہے، تاہم معاشی اور مالیاتی ماہرین کے مطابق 100 فیصد اسلامی نظامِ بینکاری کی طرف نقل مکانی کے راستے میں چند بنیادی چیلنجز بھی موجود ہیں جن سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے:افرادی قوت کی صلاحیت (Human Resource Capacity): گورنر اسٹیٹ بینک نے بھی اعتراف کیا کہ ملک میں ایسے پیشہ ور بینکنگ ماہرین کی شدید کمی ہے جو بیک وقت جدید معاشی علوم اور اسلامی فقہ و شریعت پر یکساں عبور رکھتے ہوں۔ اس کے لیے یونیورسٹیوں اور بینکنگ انسٹی ٹیوٹس میں تربیت کا وسیع اہتمام ضروری ہے۔روایتی تمسکات اور قرضوں کی تبدیلی: حکومت کے اربوں روپے کے پرانے روایتی قرضوں اور بانڈز کو اسلامی صکوک میں تبدیل کرنا ایک پیچیدہ تکنیکی مرحلہ ہے۔عوامی آ Sensitization & Awareness: عام شہریوں، بالخصوص چھوٹے تاجروں کو روایتی اور اسلامی بینکاری کا فرق واضح کر کے ان کا اعتماد حاصل کرنا ایک مستقل عمل ہے۔ایڈیٹوریل تجزیہ اور اختتامیہپاکستان کی مالیاتی تاریخ میں یہ لمحہ ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی حکومت کی جانب سے دسمبر 2027ء کے ہدف کو سامنے رکھ کر کی جانے والی عملی پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار معاملات محض زبانی دعووں تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے لیے بنیادی قانونی اور انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جا رہا ہے۔آزاد معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسٹیئرنگ کمیٹی، بینکنگ سیکٹر اور تعلیمی ادارے مل کر افرادی قوت کی تربیت اور اثاثوں کی شفاف میپنگ کا کام کامیابی سے مکمل کر لیتے ہیں، تو پاکستان دنیا بھر میں اسلامی مالیاتی نظام کا ایک بہترین اور عملی ماڈل بن کر ابھر سکتا ہے۔ تاہم، اس راستے میں سیاسی اور معاشی استحکام کا ہونا شرطِ اول ہے تاکہ 2027ء کی طے شدہ حکمتِ عملی بغیر کسی تعطل کے اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationامریکہ کی جانب سے ایران سے متعلق بعض پابندیوں میں نرمی: واشنگٹن کے فیصلے کا پس منظر، عالمی معیشت اور مشرق وسطیٰ پر ممکنہ اثرات