Fifa president apologize

اہم نکات:

  • فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے ورلڈ کپ کی میزبانی اور شیڈول کے حوالے سے سامنے آنے والی متنازع تجویز پر کھل کر معذرت کر لی ہے۔
  • عالمی فٹبال گورننگ باڈی کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ شدید تنقید کے باوجود وہ اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوں گے اور فیفا صدارت پر برقرار رہیں گے۔
  • کھلاڑیوں کی تنظیموں، مختلف ملکی فٹبال بورڈز اور مداحوں کی جانب سے فیفا کی حکمت عملی اور اضافی میچوں کے بوجھ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
  • اس تنازع کے بعد فیفا انتظامیہ کی جانب سے مستقبل کے ٹورنامنٹس کی منصوبہ بندی میں تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لینے کا اعادہ کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی فٹبال فیڈریشن (فیفا) کے صدر جیانی انفینٹینو نے عالمی کپ کے حوالے سے پیش کی جانے والی ایک انتہائی متنازع تجویز پر پیدا ہونے والے شدید ردعمل کے بعد باضابطہ طور پر معافی مانگ لی ہے۔ تاہم، انہوں نے اپنے ناقدین اور فٹبال حلقوں پر یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور بین الاقوامی فٹبال کی ترقی کے لیے بطور فیفا صدر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔

فیفا ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں اور مختلف فٹبال فیڈریشنز کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے جیانی انفینٹینو نے اعتراف کیا کہ مذکورہ تجویز سے عالمی فٹبال برادری میں تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑی، جس کا بنیادی مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری یا فٹبال کے روایتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی فیصلے ہمیشہ فٹبال کے کھیل کو مزید وسعت دینے اور مالی لحاظ سے اسے خودمختار بنانے کے لیے کیے جاتے ہیں، لیکن اگر اس مخصوص اقدام سے کھیل کے جذبے کو ٹھیس پہنچی ہے تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔

متنازع تجویز اور اس پر اٹھنے والا طوفان

اس تنازع کی شروعات اس وقت ہوئی جب فیفا کی جانب سے ورلڈ کپ کے فارمیٹ، انعقاد کے دورانیے یا میچوں کی تعداد سے متعلق ایک نئی حکمت عملی پر غور کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ عالمی فٹبال میں پچھلے کچھ عرصے سے میچوں کی تعداد میں اضافے اور نئے ٹورنامنٹس کی شمولیت کے حوالے سے بحث جاری تھی۔

پیش کی جانے والی تجاویز کے بعد یورپ اور جنوبی امریکہ کی اہم فٹبال لیگز، کھلاڑیوں کی نمائندہ یونینز اور شائقین کی طرف سے شدید نقطہ نظر سامنے آیا۔ مخالفین کا موقف تھا کہ فیفا کھیل کی تجارتی اہمیت کو ضرورت سے زیادہ فوقیت دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں:

  • کھلاڑیوں کی جسمانی و ذہنی تھکاوٹ: مسلسل میچز اور عالمی ٹورنامنٹس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو بحالی (Recovery) کا مناسب وقت نہیں مل پاتا، جس سے ان کی کارکردگی اور صحت متاثر ہوتی ہے۔
  • مقامی لیگز کے شیڈول کی بربادی: مختلف ممالک کی پریمیئر لیگز اور کلب فٹبال کا روایتی کیلنڈر شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
  • کھیل کا معیار: میچز کی تعداد حد سے زیادہ بڑھنے سے ورلڈ کپ جیسے تاریخی اور باوقار ٹورنامنٹ کی اہمیت اور سسپنس کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

انفینٹینو کا مؤقف اور استعفے کا ردِ عمل

سخت ترین تنقید کے باوجود جیانی انفینٹینو نے فیفا کی قيادت چھوڑنے کے مطالبات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطابات اور پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ عالمی فٹبال کی اصلاحات ایک جاری رہنے والا عمل ہے اور مشکلات کے وقت قیادت سے پیچھے ہٹنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا، “میرا مقصد ہمیشہ 211 رکن ممالک کو ایک ساتھ لے کر चलना اور عالمی سطح پر فٹبال کی ترقی کو یقینی بنانا رہا ہے۔ فیصلے کرتے وقت غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں، لیکن ایک ذمہ دار سربراہ کے طور پر میرا فرض ہے کہ میں اپنی غلطیوں کا ادراک کروں، اصلاح کروں اور فٹبال کو آگے لے کر بڑھوں۔ میں فیفا کا صدر ہوں اور اپنے وژن کو پورا کرنے کے لیے اس عہدے پر موجود رہوں گا۔”

عالمی فٹبال میں حالیہ مالی اور توسیعی تبدیلیاں

جیانی انفینٹینو کے دورِ صدارت میں فیفا نے کئی بڑے اور انقلابی فیصلے کیے ہیں، جنہیں ایک طرف مالی نقطہ نظر سے انتہائی کامیاب قرار دیا جاتا ہے تو دوسری طرف روایت پسندوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔

مندرجہ ذیل اہم نکات ان توسیعی منصوبوں کا احاطہ کرتے ہیں:

  1. ٹیموں کی تعداد میں اضافہ: 2026 کے ورلڈ کپ سے ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، جس سے ایشیا، افریقہ اور نارتھ امریکہ کی چھوٹی ٹیموں کو عالمی اسٹیج پر آنے کا موقع ملا ہے۔
  2. کلب ورلڈ کپ کا نیا فارمیٹ: فیفا کلب ورلڈ کپ کو ایک بڑے اور 32 ٹیموں پر مشتمل عالمی ایونٹ میں تبدیل کرنے کی منظوری دی گئی، تاکہ بین الاقوامی کلبوں کے درمیان مقابلہ بڑھایا جا سکے۔
  3. مالی منافع کی تقسیم: فیفا نے ترقی پذیر ممالک کی فٹبال فیڈریشنز کو دی جانے والی امداد اور فنڈنگ میں تاریخی اضافہ کیا ہے تاکہ زمینی سطح (Grassroots) پر کھیل کو فروغ دیا جا سکے۔

اگرچہ ان اقدامات سے فیفا کی آمدنی میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور چھوٹے ممالک کو زیادہ مواقع ملے ہیں، لیکن یورپی فٹبال کی بڑی طاقتیں اکثر یہ شکایت کرتی نظر آتی ہیں کہ ان تمام فیصلوں کا بوجھ ان کے سرفہرست کھلاڑیوں پر پڑتا ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل: مشاورت اور اعتماد کی بحالی

معذرت کے بعد اب فیفا انتظامیہ کا بنیادی ہدف مختلف براعظموں کی فیڈریشنز، بالخصوص یورپی فٹبال ایسوسی ایشن (UEFA) اور کھلاڑیوں کی تنظیموں کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنا ہے۔ انفینٹینو نے اعلان کیا ہے کہ مستقبل میں عالمی کپ یا کسی بھی نئے ایونٹ سے متعلق کسی بھی تجویز کو حتمی شکل دینے سے قبل ایک وسیع تر مشاورتی عمل کا آغاز کیا جائے گا۔

ایک ماہر صحافتی تجزیے کے مطابق، فیفا کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج کھیل کی تجارتی کامیابی اور کھلاڑیوں کی فلاح کے درمیان ایک باریک توازن برقرار رکھنا ہے۔ انفینٹینو کی جانب سے مانگی گئی یہ معافی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی فٹبال کی باڈی عوامی دباؤ اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو یکسر نظر انداز نہیں کر سکتی۔

آنے والے دنوں میں فیفا کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاسوں پر عالمی میڈیا کی نظریں جم جائیں گی، جہاں یہ دیکھا جائے گا کہ جیانی انفینٹینو اس متنازع تجویز کو واپس لینے کے بعد عالمی فٹبال برادری کا اعتماد بحال کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025