ابتک ہزاروں ہندوستانی فوجی و پولیس اہلکاروں کو سرعام قتل کرنے کے باوجود بھی چھتیس گڑھ میں انڈین فورسز اپنا مکمل کنٹرول حاصل نا کر سکیںگزشتہ دن بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں انڈین سیکیورٹی اہلکاروں اور ماؤ نواز باغیوں میں بہت بڑی جھڑپ ہوئی جس میں درجنوں انڈین فوجی و پولیس اہلکاروں کے مارے جانے کا امکان ہے تاہم الٹا انڈین فوج نے 31 ماؤ نواز باغی مارنے کا دعوی کر دیا اور کوئی فوٹیج تک جاری نا کی جبکہ انڈین پولیس نے اپنے 2 اہلکاروں کی ہلاکت کو تسلیم کیا ہےاندراوتی کے گھنے جنگلات میں ماؤ نواز باغیوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر انڈین پیرا ملٹری فورسز اور پولیس نے مشترکہ آپریشن کیا تھا جس میں باغیوں سے جدید ترین اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہونے کا دعوی کیا گیا ہےتاحال ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے اپنے افراد کے مارے جانے بارے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیاThank you for reading this post, don't forget to subscribe!فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وسطی اور شمالی ریاستوں میں 1967 سے ماؤ نواز باغیوں سے لڑ رہے ہیں۔ ان باغیوں کو نکسلائٹ بھی کہا جاتا ہے۔About The Author اردو نیوزاردو نیوز اردو اے بی سی کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ ۸ سال سے یہ فرائص سر انجام دے رہے ہیں۔ See author's posts Post navigationحماس کے رہنما ڈاکٹر خالد القدومی کی جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد تحریک ماؤ نواز باغی گروہ نے بھارتی فوج کے چھکے چھڑا دیئے