انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)ترکیہ میں سیاسی بحران اس وقت انتہائی سنگین رخ اختیار کر گیا جب دارالحکومت انقرہ میں دنگا فساد کنٹرول کرنے والی پولیس (Riot Police) نے ملک کی سب سے بڑی اور مرکزی اپوزیشن جماعت، ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے مرکزی ہیڈکوارٹر پر دھاوا بول دیا۔ پولیس نے عمارت کے اندر زبردستی داخل ہو کر وہاں موجود معزول قیادت اور ان کے سیکڑوں حامیوں کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ کارروائی کے دوران مزاحمت کو کچلنے کے لیے پولیس کی جانب سے شدید آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا گیا، جس سے پورا علاقہ میدانِ جنگ بن گیا۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!عدالتی فیصلے کے بعد تین روزہ تعطل کا پرتشدد خاتمہیہ پرتشدد کارروائی اس تین روزہ تعطل کا نتیجہ تھی جو ترک اپیلز کورٹ کے ایک حالیہ متنازع فیصلے کے بعد پیدا ہوا۔ عدالت نے نومبر 2023 میں منتخب ہونے والے سی ایچ پی (CHP) کے مقبول چیئرمین اوزگُر اوزل (Ozgur Ozel) کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں عہدے سے معزول کر دیا تھا اور سابق چیئرمین کمال قلیچ دار اوغلو کو دوبارہ بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔اوزگُر اوزل اور پارٹی کی ایگزیکٹو باڈی نے اس فیصلے کو “عدالتی بغاوت” قرار دے کر ماننے سے انکار کر دیا تھا اور گزشتہ تین روز سے اپنے مرکزی ہیڈکوارٹر کے اندر قلعہ بند تھے۔ اتوار کے روز جب پولیس عدالتی حکم نامہ لے کر پہنچی، تو اوزگُر اوزل نے اپنے دفتر میں میڈیا کے سامنے اس آرڈر کو پھاڑ کر ہوا میں اڑا دیا۔ہیڈکوارٹر کے اندر اور باہر تصادم کی تفصیلاتپولیس ایکشن شروع ہوتے ہی اپوزیشن کے حامیوں نے عمارت کے مرکزی دروازوں پر بسیں کھڑی کر کے اور اندرونی حصوں کو فرنیچر سے بلاک کر کے رکاوٹیں کھڑی کیں۔آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں: ترک فورسز نے عمارت کا گھیراؤ توڑنے کے لیے صحن اور لابی میں آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔ دھویں کے بادلوں کے باعث عمارت میں موجود افراد کا دم گھٹنے لگا۔حامیوں کی مزاحمت: اپوزیشن کارکنوں نے پولیس کو روکنے کے لیے فائر ایکسٹینگویشرز (آگ بجھانے والے سلنڈر) کا استعمال کیا، تاہم بھاری نفری کے سامنے وہ زیادہ دیر نہ ٹک سکے۔تباہی کے مناظر: دھکم پیل اور طاقت کے استعمال کے دوران پارٹی ہیڈکوارٹر کے دروازے، کھڑکیاں اور فرنیچر بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔ صحافیوں کو کارروائی شروع ہوتے ہی زبردستی عمارت سے باہر نکال دیا گیا تھا۔“ہم یہ عمارت واپس لینے کے لیے جا رہے ہیں” – اوزگُر اوزل کا عزمزبردستی نکالے جانے کے بعد معزول اپوزیشن لیڈر اوزگُر اوزل نے باہر موجود حامیوں کے بڑے ہجوم کے سامنے انتہائی جذباتی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا:“ہم اس وقت صرف اس لیے عمارت چھوڑ رہے ہیں تاکہ اسے اس انداز میں واپس چھینیں کہ دوبارہ کسی کو اس میں مداخلت کی جرات نہ ہو۔ جب ہم واپس آئیں گے، تو نہ یہ موجودہ انتظامیہ ہوگی اور نہ ہی ان کے سہولت کار دوبارہ ایسی ہمت کر سکیں گے۔”بعد ازاں، انہوں نے اپنے حامیوں کے ہمراہ ترک پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا اور اعلان کیا کہ جب تک پارٹی کو اس “قبضے” سے آزادی نہیں مل جاتی، پارلیمنٹ ہی ان کا نیا ہیڈکوارٹر ہوگی۔سیاسی انتقام کے الزامات اور حکومت کا مؤقفاپوزیشن جماعتوں، بشمول پارلیمنٹ کی تیسری بڑی جماعت ‘ڈیم پارٹی’ (DEM)، نے اس پولیس ایکشن اور عدالتی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “جمہوریت کے چہرے پر داغ” اور صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کا سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اوزگُر اوزل نے 2024 کے بلدیاتی انتخابات میں صدر اردوان کی حکمران جماعت (AKP) کو تاریخی شکست دی تھی، جس کا بدلہ لینے اور 2028 کے اگلے صدارتی انتخابات سے قبل اپوزیشن کو کمزور کرنے کے لیے عدالتوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب، صدر اردوان کی جماعت کے ترجمان عمر چیلک نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سی ایچ پی کا اندرونی خلفشار تھا جس پر عدلیہ نے آزادانہ اور قانونی کارروائی کی ہے، اور حکومت کا اس عدالتی فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کار اس بحران کو ترکیہ کی جمہوری تاریخ کا ایک انتہائی خطرناک موڑ قرار دے رہے ہیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationدنیا کے ‘تانبے’ پر کنٹرول رکھنے والے ممالک: عالمی سپلائی چین میں چلی اور پیرو کی حکمرانی برقرار بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بڑا اقدام: مستحقین کے لیے ‘مفت سم اور سوشل پروٹیکشن والیٹ’ کا آغاز، آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر