World Bank Report

اہم نکات (خلاصہ)

  • قوتِ خرید پر ضرب: عالمی بینک کی نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 70 فیصد شہریوں کی خریدارانہ صلاحیت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
  • بنیادی اشیاء کی گرانی: خوراک، بجلی، گیس، ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے مسلسل بڑھتے ہوئے نرخوں نے عام اور متوسط طبقے کا بجٹ درہم برہم کر دیا ہے۔
  • کاروباری سست روی: مارکیٹ میں طلب کی کمی اور پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث چھوٹے و بڑے کاروبار شدید سست روی اور نقصان کا شکار ہیں۔
  • حکومتی اقدام کی اشد ضرورت: معاشی ماہرین کے مطابق ٹیکس اصلاحات، پٹرولیم لیوی میں کمی اور سستی توانائی فراہم کیے بغیر پائیدار معاشی بحالی ممکن نہیں۔
    پاکستان اس وقت اپنے معاشی تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور چیلنجنگ دور سے گزر رہا ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی افراطِ زر (مہنگائی) کے اثرات اب محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے منفی اثرات ملک کے ہر حصے اور معاشرے کے تمام طبقوں پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ عالمی بینک (World Bank) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اقتصادی جائزہ رپورٹ نے پاکستان کی معاشی صورتحال سے متعلق اہم اور تشویشناک حقائق کو سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی کے تقریباً 70 فیصد حصے کی قوتِ خرید میں شدید ترین کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سست روی نے نہ صرف عام شہریوں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے دہاڑی داروں کا جینا دو بھر کر دیا ہے، بلکہ ملک کا کاروباری اور صنعتی طبقہ بھی اس کی زد میں آ کر پیداواری اور مالیاتی بحران سے دوچار ہو چکا ہے۔

عام شہری پر مہنگائی کا بوجھ: کچن بجٹ سے ٹرانسپورٹ تک

گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان میں افراطِ زر کی شرح ملکی تاریخ کی اعلیٰ ترین سطحوں کو چھو چکی ہے۔ اس گرانی کا سب سے زیادہ اثر عام اور متوسط طبقے پر پڑا ہے جن کی آمدنی مستحکم رہی لیکن اخراجات میں متعدد گنا اضافہ ہو گیا۔
خوراک کی اشیاء مثلاً اٹا، دالیں، گھی، چینی اور سبزیاں اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی اور گیس کے ماہانہ بلوں نے ہر دوسرے گھرانے کے معاشی توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافے کی وجہ سے کرایوں اور عمومی ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں جو اضافہ ہوا ہے، اس نے عام نوکری پیشہ افراد اور دیہاڑی دار طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ جب آمدنی کا بیشتر حصہ صرف بنیادی ضروریاتِ زندگی اور افادیت (Utilities) کے بلوں کی ادائیگی میں چلا جائے تو دیگر اشیاء کی خریداری کے لیے گنجائش ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔

کاروباری طبقہ اور تجارتی سرگرمیاں: طلب میں ریکارڈ کمی

قوتِ خرید میں کمی کا براہ راست اثر ملکی مارکیٹوں اور تجارتی مراکز پر پڑا ہے۔ جب عام صارف کی جیب خالی ہوتی ہے تو وہ صرف انتہائی ضروری اشیاء تک خود کو محدود کر لیتا ہے اور غیر ضروری، پائیدار یا آرام دہ اشیاء کی خریداری التوا کا شکار ہو جاتی ہے۔

  • فروخت میں نمایاں کمی: مختلف تجارتی تنظیموں اور مارکیٹ ایسوسی ایشنز کے مطابق پچھلے سال کے مقابلے میں دکانوں اور شاپنگ مالز پر خریداروں کے ہجوم اور فروخت کے حجم میں 30 سے 50 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
  • صنعتی پیداوار کی سست روی: ٹیکسٹائل، آٹو موبائل، الیکٹرانکس اور تعمیراتی شعبے مارکیٹ میں طلب نہ ہونے کے باعث اپنی پیداواری صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔
  • کاروباروں کی بندش کا خطرہ: چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs)، جن کے پاس مالی ذخائر محدود ہوتے ہیں، اب مسلسل خسارے کے باعث اپنے روزمرہ آپریٹنگ اخراجات بھی پورے نہیں کر پا رہے، جس سے ان کے بند ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

پیداواری لاگت کے چیلنجز: ٹیکس، لیوی اور توانائی کے نرخ

ایک طرف مارکیٹ میں خریداروں کی کمی ہے تو دوسری طرف کاروبار چلانے کی لاگت تاریخ کے بلند ترین مقام پر پہنچ چکی ہے۔ کاروباری برادری کے مطابق حکومت کی جانب سے لگائے گئے اضافی مالیاتی بوجھ نے صنعتوں کا ساہ گھونٹ دیا ہے۔

  1. ٹیکسوں کا بھاری بوجھ: دستاویزی معیشت کو بڑھانے اور مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے نام پر کاروباری طبقے پر ود ہولڈنگ ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر ایڈوانس ٹیکسوں کا دباؤ بڑھا دیا گیا ہے۔
  2. پٹرولیم لیوی: ایندھن پر عائد پٹرولیم لیوی نے ٹرانسپورٹ اور لائیو سپلائی چین کی لاگت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔
  3. بلند توانائی نرخ: صنعتی اور تجارتی صارفین کے لیے بجلی اور گیس کے فی یونٹ ریٹ خطے کے دیگر ممالک کی نسبت کافی زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی اور مقامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو رہی ہیں۔

معاشی اعداد و شمار ایک نظر میں

عالمی بینک اور مقامی اقتصادی ماہرین کے مرتب کردہ اعداد و شمار پاکستان کے موجودہ سٹرکچرل بحران کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں:

معاشی اشاریہ (Economic Indicator)موجودہ صورتحال / اثرات
متاثرہ قوتِ خرید (Purchasing Power)مجموعی آبادی کا تقریباً 70 فیصد حصہ متاثر
بنیادی محرکات (Key Drivers)بجلی و گیس کے بل، پیٹرولیم لیوی، اور خوراک کی گرانی
کاروباری اثرات (Business Impact)مارکیٹ ڈیمانڈ میں کمی، روزگار کے مواقع میں تنزلی
صنعتی چیلنج (Industrial Challenge)توانائی کی اعلیٰ قیمتیں اور خام مال کی لاگت میں اضافہ

طویل المدتی معاشی بحالی: راستہ کیا ہونا چاہیے؟

معاشی ماہرین اور ایڈیٹوریل بورڈ کا متفقہ مؤقف ہے کہ اگر حکومت واقعی ملک کو اس دلدل سے نکالنا چاہتی ہے اور پائیدار معاشی ترقی کا خواب پورا کرنا چاہتی ہے تو اسے روایتی اور عارضی اقدامات کے بجائے ٹھوس سٹرکچرل اصلاحات (Structural Reforms) کی جانب بڑھنا ہوگا۔
مہنگائی پر کنٹرول اور فوری ریلیف:
حکومت کو فوری طور پر بنیادی غذائی اجناس پر بلاواسطہ ٹیکسوں (Indirect Taxes) کا جائزہ لینا ہوگا اور سپلائی چین کے نظام کو درست کر کے مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
کاروبار دوست پالیسیاں اور ٹیکس اصلاحات:
ٹیکس کا دباؤ صرف پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے۔ غیر ضروری پٹرولیم لیوی میں تدریجی کمی اور صنعتی شعبے کے لیے بجلی و گیس کے مسابقتی نرخوں کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔
سرمایہ کاری کا فروغ:
جب تک مقامی تاجر اور صنعت کار مطمئن نہیں ہوں گے، اس وقت تک غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کی آمد ممکن نہیں۔ مقامی کاروباریوں کو آسان شرائط پر قرضے اور آسان ریگولیٹری ماحول فراہم کرنا ہوگا تاکہ نیا روزگار پیدا ہو سکے۔

خلاصہ کلام

پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے معاشی موڑ پر کھڑی ہے جہاں عام شہری اور کاروباری برادری دونوں کی بقا داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ عالمی بینک کے تبصرے اور اعداد و شمار ریاست کے لیے ایک بیدار کن پیغام (Wake-up Call) ہیں۔ جب تک عام آدمی کی قوتِ خرید بحال نہیں کی جاتی اور ملک میں کاروباری پہیہ بحال کرنے کے لیے انقلابی معاشی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، اس وقت تک نہ تو ٹیکس وصولیوں میں پائیدار اضافہ ممکن ہے اور نہ ہی ملک معاشی استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025