اہم نکات:یمن کے قریب بحیرۂ احمر میں پروجیکٹائل حملے کے نتیجے میں بھارتی پرچم بردار تجارتی جہاز MSV Faize Noore Oliya غرقاب ہو گیا۔کوسٹ گارڈز اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جہاز پر سوار تمام 14 افراد کو بحفاظت نکال لیا۔نجات پانے والے عملے میں 13 بھارتی اور 1 یمنی شہری شامل ہے، جنہیں بندرگاہ الحدیدہ کے جنوب سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔واقعے کے بعد بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی تجارتی بحری جہاز رانی کے تحفظ اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔صنعاء / نئی دہلی: بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے سلسلے کے دوران ایک اور بڑا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پروجیکٹائل حملے کا نشانہ بننے کے بعد بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز سمندر میں ڈوب گیا۔ تاہم، وقت پر کی گئی امدادی کارروائی کے نتیجے میں جہاز کا تمام 14 رکنی عملہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں اور مقامی حکام کے مطابق یہ دردناک واقعہ یمن کی اہم بندرگاہ الحدیدہ کے جنوب میں پیش آیا۔ حادثے کا شکار ہونے والے بھارتی پرچم بردار تجارتی بحری جہاز کا نام “MSV Faize Noore Oliya” بتایا گیا ہے۔ جہاز پر نامعلوم سمت سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل آ کر لگا، جس کے باعث جہاز میں شدید نقصان ہوا اور وہ رفتہ رفتہ پانی میں غرق ہونے لگا۔سنسنی خیز ریسکیو آپریشن: تمام 14 افراد محفوظواقعے کی اطلاع ملتے ہی خطے میں موجود کوسٹ گارڈز اور بحری امدادی ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف پیش قدمی کی اور ایک اثر انگیز ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ حادثے کے وقت جہاز پر کل 14 افراد سوار تھے، جن میں 13 بھارتی شہری اور 1 یمنی شہری شامل تھا۔کوسٹ گارڈ حکام کے مطابق:کامیاب ریسکیو: جہاز کے غرقاب ہونے سے قبل تمام 14 افراد کو پانی سے محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا۔طبی امداد: ریسکیو کیے گئے عملے کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، تمام افراد کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔محفوظ مقام پر منتقلی: عملے کے تمام ارکان کو الحدیدہ کے ساحلی علاقے سے ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سے ان کی اپنے وطن واپسی کے لیے سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی تناظر اور پس منظربحیرۂ احمر اور باب المندب کی تنگ راہداری دنیا کی اہم ترین تجارتی شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی بحری تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران اس سمندری خطے میں تجارتی جہازوں پر ڈرون، میزائل اور پروجیکٹائل حملوں کے واقعات میں سنسنی خیز اضافہ ہوا ہے۔یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل حماس تنازع کے تناظر میں بحیرۂ احمر میں اسرائیل، امریکہ اور ان کے حلیف ممالک سے منسلک یا ان کی جانب جانے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اگرچہ اس حالیہ واقعے کی مسئولیت فوری طور پر کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔واقعے کے اہم حقائق ایک نظر میںتفصیلاتمعلوماتجہاز کا نامMSV Faize Noore Oliyaپرچم / رجسٹریشنبھارتمقامِ حادثہبحیرۂ احمر (بندرگاہ الحدیدہ کے جنوب میں)حملے کی نوعیتپروجیکٹائل حملہکل عملہ14 ارکان (13 بھارتی، 1 یمنی)نقصانجہاز مکمل طور پر ڈوب گیاجانی نقصانکوئی نہیں (تمام عملہ محفوظ)عالمی بحری تجارت اور معیشت پر اثراتاس واقعے نے عالمی بحری تجارت کے تحفظ پر ایک بار پھر سوالیہ نشان ثبت کر دیا ہے۔ بحیرۂ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مسلسل حملوں کے باعث دنیا بھر کی شپنگ کمپنیوں نے اپنے راستے تبدیل کرنا شروع کر دیے ہیں۔انشورنس اور کرائے میں اضافہ: تجارتی جہازوں پر حملوں کے خطرے کے باعث بحری جہاز رانی کی انشورنس فیس (Insurance Premiums) میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مال برداری کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔طویل متبادل راستے: متعدد عالمی کمپنیاں اب بحیرۂ احمر اور نہر سویز کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے افریقہ کے گرد دراز راستے “کیپ آف گڈ ہوپ” (Cape of Good Hope) سے جہاز گزار رہی ہیں۔ اس متبادل راستے سے سفر کا وقت 10 سے 14 دن بڑھ جاتا ہے اور ایندھن کے اخراجات میں لاکھوں ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے۔عالمی سپلائی چین پر اثر: ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی نقل و حمل میں تاخیر کے باعث عالمی منڈیوں میں خام مال اور اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔بین الاقوامی ردِعمل اور اقداماتاس واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ متعدد ممالک اور عالمی بحری تنظیموں نے تجارتی جہازوں پر غیر ذمے دارانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ہندوستانی حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے شہریوں کی حفاظت اور ان کی جلد از جلد وطن واپسی کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ بحیرۂ احمر میں تعینات بین الاقوامی ٹاسک فورس اور مختلف ممالک کی بحریہ گشت بڑھانے پر غور کر رہی ہیں تاکہ اس اہم ترین تجارتی راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔اگرچہ اس واقعے میں تمام افراد کی زندگی بچا لی گئی، لیکن “MSV Faize Noore Oliya” کا ڈوبنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی اب بھی عالمی بحری سلامتی کے لیے ایک سنگین اور مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationسوات میں کبل تھانے کے گیٹ کے قریب دھماکہ، متعدد افراد زخمی، سیکیورٹی ہائی الرٹ وفاقی وزراء کی کارکردگی کا تھرڈ پارٹی آڈٹ: محسن نقوی کی تجویز، حکومتی ترجیحات اور ممکنہ سیاسی اثرات