No fly zone for Indian Airlines extended
  • فضائی حدود کی بندش میں توسیع: پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں 24 ستمبر تک توسیع کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔
  • مالیاتی اثرات: فضائی حدود کی مسلسل بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 65 کروڑ پاکستانی روپے کا شدید مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
  • طویل مدتی تعطل: گزشتہ 16 ماہ (تقریباً 483 دنوں) سے یہ پابندی عائد ہے، جس کے باعث عالمی اور بین القوامی پروازوں کے روٹس طویل ہو چکے ہیں۔
  • ایئر انڈیا کا تاریخی خسارہ: بھارتی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے گزشتہ سال 2.8 ارب امریکی ڈالرز کا بھاری خسارہ ظاہر کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ پاکستانی ایئر اسپیس کا استعمال نہ ملنا قرار دیا گیا ہے۔

اسلام آباد (اسپیشل رپورٹ) — پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش کی مدت میں 24 ستمبر تک مزید توسیع کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق اس پابندی کے نتیجے میں بھارتی فضائی کمپنیوں، بالخصوص بین الاقوامی روٹس پر چلنے والی پروازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستانی ایئر اسپیس کی بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو روزانہ اربوں روپے کا اضافی ایندھن اور طویل روٹس استعمال کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے بھارت کی ایوی ایشن انڈسٹری پر مالی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس طویل تعطل نے بھارتی ہوازادی کی معاشی حالت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

مالی و عملیاتی نقصان: اہم اعداد و شمار

پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر پر پڑنے والے نمایاں مالی و آپریشنی اثرات کا خاکہ درج ذیل جدول میں دیا گیا ہے:

عنصر / تفصیلاتاعداد و شمار / مالیاتی اثرات
بندش کی نئی تاریخ24 ستمبر تک کی توسیع
کل دورانیہ16 ماہ (تقریباً 483 دن)
بھارت کا روزانہ کا تخمینہ شدہ نقصانتقریباً 65 کروڑ پاکستانی روپے
ایئر انڈیا کا سالانہ خسارہ2.8 ارب امریکی ڈالرز
متاثرہ روٹسیورپ، امریکہ، اور مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں

ایئر انڈیا پر بدترین اثرات اور 2.8 ارب ڈالرز کا خسارہ

پاکستانی فضائی حدود کی بندش کا سب سے بڑا اور براہِ راست اثر بھارت کی قومی فضائی کمپنی ‘ایئر انڈیا’ (Air India) پر پڑا ہے۔ ایئر انڈیا نے مالی سال کے اختتام پر 2.8 ارب امریکی ڈالرز کا ریکارڈ خسارہ ظاہر کیا ہے۔ ایوی ایشن ماہرین اور ایئرلائن کی اعلیٰ انتظامیہ نے اس تاریخی مالیاتی خسارے کی سب سے بڑی وجہ پاکستانی ایئر اسپیس کی بندش اور اس کے نتیجے میں آپریشنل اخراجات میں ہونے والے بے پناہ اضافے کو قرار دیا ہے۔

ایئر انڈیا کی وہ پروازیں جو پہلے پاکستان کے اوپر سے گزر کر انتہائی کم وقت اور ایندھن میں یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکہ (امریکہ و کینیڈا) پہنچ جاتی تھیں، انہیں اب بحیرہ عرب، عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے اوپر سے لمبا چکر کاٹ کر جانا پڑ رہا ہے۔ اس سے نہ صرف فلائٹ کا وقت 2 سے 4 گھنٹے تک بڑھ گیا ہے بلکہ جیٹ فیول (ایندھن) کی کھپت میں بھی فی پرواز اربوں روپے کا اضافی خرچ آ رہا ہے۔

ہوائی سفر کی طوالت اور مسافروں کی مشکلات

پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث نہ صرف ایئرلائنز کا مالی خسارہ بڑھ رہا ہے بلکہ مسافروں کو بھی متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے:

  • پروازوں کے دورانیے میں اضافہ: دہلی، ممبئی اور دیگر شمالی بھارتی شہروں سے یورپ اور امریکہ جانے والی پروازوں کا وقت کئی گھنٹے بڑھ چکا ہے۔
  • کرایوں میں نمایاں اضافہ: ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بھارتی ایئرلائنز نے اپنے بین الاقوامی روٹس کے کرائے کافی حد تک بڑھا دیے ہیں، جس کا بوجھ عام مسافروں پر پڑ رہا ہے۔
  • کریو اور عملے کے اخراجات: پروازوں کی طوالت کے باعث ایئرلائنز کو فلائٹ کریو (پائلٹس اور کیبن کریو) کی ڈیوٹی کے اوقات سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے اضافی عملہ اور تکنیکی اسٹاپ اوورز کا انتظام کرنا پڑتا ہے، جس سے آپریٹنگ لاگت مزید بڑھ جاتی ہے۔

پس منظر: فضائی حدود کی بندش کا تاریخی تناظر

پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی حدود کا تعطل کوئی نیا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدہ سیاسی و سیکیورٹی تعلقات کا عکس ہے۔

  1. جغرافیائی اہمیت: پاکستان کا جغرافیائی موقع محل جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ سے جوڑنے میں انتہائی اہم ہے۔ بھارتی پروازوں کے لیے مغربی اور شمالی دنیا تک پہنچنے کا سب سے مختصر اور سستا راستہ پاکستانی فضائی حدود سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔
  2. سیکیورٹی اور سفارتی فیصلے: پاک بھارت تعلقات میں آنے والے شدید کھنچاؤ اور سیکیورٹی چیلنجز کے باعث پاکستان نے اپنی قومی سلامتی اور پالیسی کے پیشِ نظر بھارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
  3. مستقبل کے اثرات: 16 ماہ کے طویل عرصے سے جاری اس بندش نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور سفارتی توازن کے بغیر ایوی ایشن جیسے بڑے اور حساس شعبے کس طرح بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایڈیٹوریل تجزیہ: کیا بندش کا حل ممکن ہے؟

ایوی ایشن کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک پاک بھارت تعلقات میں سیاسی اور سفارتی سطح پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوتی، تب تک فضائی حدود کی بندش کا مسئلہ حل ہونا دشوار نظر آتا ہے۔

جہاں ایک طرف بھارت کی فضائی صنعت بالخصوص ایئر انڈیا اور انڈیگو جیسی کمپنیاں اس بندش سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل روٹس پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، وہیں دوسری طرف پاکستان کا یہ واضح موقف ہے کہ اپنی فضائی حدود کے استعمال کا فیصلہ اس کی ملکی پالیسی اور سیکیورٹی ضروریات سے مشروط ہے۔ اس تعطل کے نتیجے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کا معاشی خسارہ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025