خبر کے اہم نکات:سپہ سالار نے نوجوان نسل پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے گمراہ کن پراپیگنڈے کا توڑ کرنے کے لیے “حقائق پر مبنی تجزيات” (Fact-based Analytics) کا سہارا لیں۔ملک و قوم کی پائیدار ترقی کے لیے تعلیم کی فراہمی، ہنر مندی کی ترغیب (Skill Development) اور روزگار کے نئے مواقع (Entrepreneurship) کو بنیادی ستون قرار دیا گیا۔ہارورڈ بزنس اسکول (HBS) کے وفد اور پاکستانی طلبہ سے خصوصی ملاقات کے دوران ملکی سیکیورٹی، معاشی اصلاحات اور پاک سعودی تعاون کے وسیع افق پر تفصیلی تبادلہ خیال۔قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کے لیے نوجوانوں کے مثبت اور تعمیری کردار کو انتہائی ضروری اور بنیادی شرط قرار دیا گیا۔سوشل میڈیا کے زہریلے پراپیگنڈےراولپنڈی: پاک فوج کے سربراہ نے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ اور بین الاقوامی علمی وفود، بشمول ہارورڈ بزنس اسکول (HBS) کے نمائندوں سے اہم ملاقات کے دوران پاکستان کے روشن مستقبل اور نوجوانوں کی ذمہ داریوں پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے جدید دور کے سب سے بڑے چیلنج یعنی سوشل میڈیا پر جاری ففتھ جنریشن وارفیئر اور گمراہ کن پراپیگنڈے کا تذکرہ کرتے ہوئے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی افواہ یا یکطرفہ بیانیے پر اندھا دھند یقین کرنے کے بجائے حقائق پر مبنی تجزیاتی فکر (Fact-based Analytics) کو اپنا شعار بنائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ قوم کا اصل اثاثہ اس کا نوجوان طبقہ ہے اور جب تک نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی کی ہنر مندی اور کاروباری صلاحیتوں سے آراستہ نہیں کیا جائے گا، ملک عالمی سطح پر درپیش معاشی اور نظریاتی چیلنجز کا باوقار مقابلہ نہیں کر سکتا۔دیجیٹل پراپیگنڈہ اور حقائق پر مبنی تجزیاتی فکر کی ضرورتموجودہ دور میں جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے معلومات کی رسائی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے، وہیں فیک نیوز، جعلی ویڈیوز اور منظم پراپیگنڈے کے ذریعے معاشرتی ہیجان پھیلا کر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں بھی عروج پر ہیں۔سپہ سالار نے اس نازک صورتحال کی عکاسی کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی:غیر تصدیق شدہ معلومات کا تدارک: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سنسنی خیز اور منفی خبروں کی ترویج سے قبل ان کی باقاعدہ تصدیق اور غیر جانبدارانہ تحقیق انتہائی لازمی ہے۔تحقیقی اندازِ فکر: نوجوانوں کو سائنسی اور منطقی نقطہ نظر اپناتے ہوئے ڈیٹا اور مستند ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ وہ ملک دشمن عناصر کے زہریلے بیانیے کا شکار نہ بنیں۔قومی تشخص کا تحفظ: آن لائن پلیٹ فارمز کو مایوسی اور ناامیدی پھیلانے کے بجائے پاکستان کی مثبت تصویر اور معاشی و صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔تجزئے کے مطابق، فوج کے سربراہ کا یہ پیغام اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ جدید جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ذھنوں میں لڑی جاتی ہیں، اور اس نظریاتی معرکے میں نوجوان ہی سب سے بڑا دفاعی حصار ہیں۔تعلیم، ہنر مندی اور اینٹرپرینیورشپ: ملکی ترقی کے تین بنیاد ستونخطاب کے دوران آرمی چیف نے ملک میں موجود بے پناہ انسانی وسائل بالخصوص نوجوانوں کی صلاحیتوں کو درست سمت میں گامزن کرنے کے لیے تین اہم شعبوں کو کلیدی قرار دیا۔1۔ معیاری تعلیم اور تنقیدی فکر ان کا کہنا تھا کہ روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم اور دنیا میں رونما ہونے والی تکنیکی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ تعلیمی نظام کا مقصد صرف ڈگریاں بانٹنا نہیں بلکہ طلبہ میں تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتیں بیدار کرنا ہونا چاہیے۔2۔ ہنر مندی کی تربیت (Skill Development) عالمی مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی چیف نے تکنیکی ہنر مندی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سافٹ ویئر ڈیوپمنٹ اور صنعتی مہارتوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ہنر مند نوجوان پاکستان کے زر مبادلہ میں اضافے اور روزگار کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔3۔ روزگار اور کاروباری مواقع (Entrepreneurship) نوجوانوں کو صرف نوکریوں کی تلاش کے روایتی عمل تک محدود رہنے کے بجائے خود روزگار اور نئے کاروبار (Startups) شروع کرنے کی ترغیب دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اینٹرپرینیورشپ کے فروغ سے نا صرف معاشی پہیہ تیز ہوگا بلکہ پاکستان عالمی سطح پر اختراع اور جدت کا مرکز بن سکتا ہے۔ہارورڈ بزنس اسکول کے وفد سے ملاقات اور پاک سعودی تعاون پر گفتگواس دورے کے دوران ہارورڈ بزنس اسکول (HBS) کے وفد، پاکستانی یونیورسٹیوں کے نمایاں طلبہ اور محققین کی موجودگی نے اس تقریب کو ایک بین الاقوامی علمی و فکری چہرے میں ڈھال دیا۔ ملاقات کے دوران جہاں ملکی سلامتی کے امور پر بات ہوئی، وہاں معاشی ڈپلومیسی اور علاقائی تعاون پر بھی سیر حاصل بحث ہوئی۔خصوصی طور پر پاک سعودی تعاون کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے درج ذیل پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا:سرمایہ کاری کے نئے افق: سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں معدنیات، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انرجی سیکٹر میں کی جانے والی تاریخی سرمایہ کاری پر تفصیلی تبادلہ خیال۔اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC): ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ اور تیز رفتار عملدرآمد کے لیے ایسے اقدامات کو سراہا گیا جن سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔علاقائی استحکام: پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کی تزویراتی اہمیت اور اس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے معاشی استحکام پر روشنی ڈالی گئی۔نوجوان نسل کی ذمہ داری اور مستقبل کے اثراتپاکستان کی آبادی کا تقریباً 60 فیصد سے زائد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو کہ ایک زبردست ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ ہے۔ اس کثیر انسانی سرمائے کی صحیح سمت میں رہنمائی ہی پاکستان کی بقا اور ترقی کا ضامن ہے۔سیکورٹی اور معاشی ماہرین کے مطابق، مسلح افواج کی قیادت کی جانب سے تعلیمی اداروں اور طلبہ کے ساتھ مسلسل رابطہ درج ذیل مثبت اثرات کا باعث بنے گا:اعتماد کا فروغ: سول ملٹری ہم آہنگی اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مکالمے سے نوجوانوں میں ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہوتا ہے۔گمراہی کا خاتمہ: طلبہ جب خود اعلیٰ ترین قیادت سے سوالات کرتے ہیں اور حقائق جانتے ہیں، تو ان کے اندر سے ہر قسم کا ابہام اور بدمزگی ختم ہو جاتی ہے۔معاشی تحریک: ہنر مندی اور اینٹرپرینیورشپ پر زور دینے سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں ناامیدی ختم ہوگی اور وہ ملکی معیشت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا دینے کے قابل بنیں گے۔حتمی جائزہآرمی چیف کا یہ پیغام محض ایک روایتی خطاب نہیں بلکہ وقت کی ایک اہم ضرورت اور آئندہ کے لیے ایک جامع روڈ میپ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام اور ففتھ جنریشن وار جیسے پیچیدہ مسائل کا سامنا کر رہا ہے، نوجوانوں کو حقائق اور منطق کا راستے دکھانا بے حد ضروری تھا۔ اگر پاکستان کا نوجوان طبقہ سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کی صلاحیت پیدا کر لے اور اپنی تمام تر توانائیوں کو تعلیم، ہنر اور اختراع کی سمت موڑ دے، تو کوئی بھی سیکیورٹی چیلنج یا منفی پراپیگنڈہ ملک کی پیش رفت کو نہیں روک سکتا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationکرپٹ اور بدعنوان پولیس افسران کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر کارروائی کا آغاز ہندوستانی فوج کا امریکہ کے ساتھ اہم دفاعی معاہدہ: جدید جیولن اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل سسٹم خریدنے کا فیصلہ