بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے سرکاری ادارے ‘ڈی آر ڈی او’ کی تیار کردہ تمام روایتی میزائل سسٹمز کی ٹیکنالوجی پرائیویٹ کمپنیوں کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اس پالیسی کے تحت اہل، تکنیکی طور پر تصدیق شدہ اور ضوابط پر پورا اترنے والی نجی کمپنیاں میزائلوں کی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے حقوق حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کر سکیں گی۔وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کا بنیادی مقصد میزائلوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار کو تیز کرنا اور غیر ملکی برآمدات پر انحصار ختم کرنا ہے۔اس اقدام سے بھارت کی دفاعی صنعت میں سرکاری اجارہ داری کا خاتمہ ہوگا اور نجی سرمایہ کاری کے ذریعے ملٹری سیلف ریلائنس (خود کفالت) کی راہ ہموار ہوگی۔ہندوستان کی دفاعی پالیسی میں تاریخی تبدیلینئی دہلی: ہندوستان نے اپنی دفاعی پیداوار کے سب سے حساس اور تزویراتی شعبے یعنی میزائل ٹیکنالوجی کو نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کا ایک بے مثال اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے سرکاری دفاعی تحقیقاتی ادارے ‘ڈی آر ڈی او’ (Defence Research and Development Organisation) کے تیار کردہ تمام روایتی میزائل سسٹمز کی ٹیکنالوجی پرائیویٹ انڈسٹری کو منتقل کرنے کی نئی پالیسی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔اس فیصلے کو بھارتی دفاعی صنعت کی تاریخ میں ایک بہت بڑا تحرک اور انقلابی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں جہاں یہ شعبہ مکمل طور پر سرکاری کمپنیوں، آرڈیننس فیکٹریوں اور ریسرچ لیبارٹریز کی اجارہ داری میں رہا ہے، وہیں اب پرائیویٹ سیکٹر کے لیے راکٹ اور میزائل سسٹمز کی تجارتی سطح پر پیداوار کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔نئی پالیسی کے خطوط اور نجی شعبے کی شمولیت کا طریقہ کاروزارتِ دفاع کے مطابق، ٹیکنالوجی کی اس منتقلی (Transfer of Technology – ToT) کے تحت تمام بھارتی نجی کمپنیوں کو یکساں موقع فراہم کیا جائے گا۔ تاہم، حساس سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی نوعیت کے پیشِ نظر صرف وہی کمپنیاں اس عمل میں حصہ لے سکیں گی جو سخت معیار اور تکنیکی ضوابط پر پورا اتریں گی۔نجی کمپنیوں کی شمولیت کے بنیادی اصول اور طریقہ کار درج ذیل ہیں:تکنیکی اہلیت اور قابلیت: ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی خواہش مند کمپنیوں کو اپنی صلاحیت، اعلیٰ معیار کے مینوفیکچرنگ پلانٹس اور انجینئرنگ ٹیم کی قابلیت ثابت کرنا ہوگی۔محکماتی تصدیق اور سیکیورٹی کلیئرنس: حساس ڈیٹا اور ڈیزائنز کے تحفظ کے لیے کمپنیوں کو دفاعی سیکیورٹی کلیئرنس اور بین الاقوامی کوالٹی سرٹیفیکیشنز حاصل کرنا ہوں گی۔شفاف مقابلے کا عمل: تکنیکی ضوابط پر پورا اترنے والی کمپنیوں کے مابین پیداواری حقوق حاصل کرنے کے لیے شفاف بنیادوں پر مقابلے کی فضائی قائم کی جائے گی۔صرف روایتی میزائل سسٹمز: اس پالیسی کا اطلاق تمام روایتی (Conventional) یعنی غیر ایٹمی ہتھیاروں اور میزائل سسٹمز پر ہوگا، جبکہ ایٹمی صلاحیت کے حامل تزویراتی میزائل فی الحال مکمل طور پر حکومت کی تحویل میں رہیں گے۔حکومتی مقصد: تیز رفتار پیداوار اور غیر ملکی انحصار میں کمیوزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں قائم حکومت نے اس پالیسی کا اہم مقصد ہندوستان کو دفاعی میدان میں “آتم نربھر” (خود کفیل) بنانا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق، اب تک دفاعی تحقیق اور پیداوار کا سست روی سے شکار ہونا ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ ڈی آر ڈی او میں جب کوئی نیا میزائل سسٹم ڈیزائن اور کامیاب تجربے کے مرحلے سے گزرتا تھا، تو سرکاری آرڈیننس فیکٹریوں کی محدود گنجائش کی وجہ سے اسے تجارتی بنیادوں پر بڑے پیمانے پر تیار کرنے میں سالوں لگ جاتے تھے۔نئی پالیسی کے اہم سٹریٹجک مقاصد درج ذیل ہیں:ماس پروڈکشن میں تیزی: نجی کمپنیوں کے بنیادی ڈھانچے، وسائل اور سرمایہ کاری کو استعمال میں لا کر جدید میزائلوں کی مینوفیکچرنگ کی رفتار کو کثیر گنا بڑھایا جائے گا۔درآمدات کے بوجھ میں کمی: بھارت تاریخی طور پر دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ درآمد کنندگان میں شامل رہا ہے۔ مقامی سطح پر پیداوار بڑھا کر روس، امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک سے مہنگے ہتھیاروں کی خرید پر اٹھنے والے خطیر زرمبادلہ کو بچایا جائے گا۔دفاعی برآمدات کا فروغ: پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت سے بھارت نہ صرف اپنی فوج کی ضرورت پوری کرے گا بلکہ دوستانہ تعلقات رکھنے والے دیگر ممالک کو بھی دفاعی ساز و سامان برآمد کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکے گا۔پس منظر: بھارت کی دفاعی صنعت کا تاریخی خاکہہندوستان میں دفاعی پیداوار کا شعبہ دہائیوں سے مکمل طور پر سرکاری تحویل (Public Sector Undertakings) میں رہا ہے۔ بھارت کے قیام سے لے کر 21ویں صدی کے اوائل تک بیشتر ہتھیار، بارود، اور فوجی گاڑیاں ڈائریکٹوریٹ آف آرڈیننس (اب توڑ کر تشکیل دی گئی نئی نو سرکاری کمپنیاں) اور ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) جیسے ادارے تیار کرتے تھے۔تاہم، اس سرکاری ماڈل کو ہمیشہ شدید تنقید کا سامنا رہا:تاخیر اور لاگت کا اضافہ: اکثر بنیادی اور اہم دفاعی منصوبے (مثلاً تیجس جنگی طیارہ یا مختلف اینٹی ٹینک میزائل) دہائیوں تاخیر کا شکار رہے، جس سے منصوبوں کا بجٹ کثیر گنا بڑھ گیا۔جدت اور تحقیق کی کمی: سرکاری اداروں میں مقابلے کا رجحان نہ ہونے کی وجہ سے جدید ترین گلوبل ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار سست رہی۔اس صورتحال کو بدلنے کے لیے مودی حکومت نے گزشتہ چند سالوں میں دفاعی شعبے میں نجی کمپنیوں کی شمولیت کو تدریجی طور پر بڑھایا ہے۔ ٹاٹا (Tata)، لارسنائڈ اینڈ ٹوبرو (L&T)، اور بھارت فورج (Bharat Forge) جیسے بڑے بھارتی صنعتی گروپس پہلے ہی دفاعی سامان کے پرزے، توپیں اور بکتر بند گاڑیاں تیار کر رہے ہیں، لیکن میزائل سسٹمز کا مکمل ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کا لائسنس دینا ایک بہت بڑی تزویراتی تبدیلی ہے۔عالمی اور علاقائی سیکیورٹی پر ممکنہ اثراتہندوستان کا اپنے نجی شعبے کے لیے میزائل راز اور ٹیکنالوجی کھولنے کا یہ فیصلہ محض ایک اندرونی معاشی پالیسی نہیں بلکہ اس کے علاقائی اور عالمی سیکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ہمسایہ ممالک پر اثرات: جنوبی ایشیا میں چین اور پاکستان کے ساتھ جاری سرحد پر کشیدگی کے تناظر میں، بھارت کی جانب سے میزائلوں کی تیز رفتار پیداوار کی صلاحیت کا حصول خطے میں روایتی فوجی توازن پر اثر انداز ہوگا۔دفاعی پیداوار کا نیا حب: گلوبل سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پالیسی کامیابی سے نافذ ہوتی ہے تو بھارت کا گجرات، تامل ناڈو اور اتر پردیش میں قائم ڈیفنس کوریڈور ایک بڑے عالمی مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر ابھر سکتا ہے۔عالمی اسلحہ ساز کمپنیوں کی آمد: لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ اور ریتھیون جیسی امریکی و یورپی دفاعی کمپنیاں اب بھارتی نجی اداروں کے ساتھ جوائنٹ وینچرز (Joint Ventures) قائم کر کے بھارت میں ہی میزائل اور ملٹری سسٹمز بنانے میں مزید دلچسپی ظاہر کریں گی۔حتمی جائزہہندوستان کی جانب سے پرائیویٹ سیکٹر کو روایتی میزائل سسٹمز کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی نئی پالیسی، ملک کو دفاعی مینوفیکچرنگ میں خود کفیل بنانے کی سمت ایک جرات مندانہ اور غیر معمولی پیش رفت ہے۔ اگرچہ نجی کمپنیوں کے لیے معیار، محکماتی سیکیورٹی، اور حساس معلومات کا تحفظ جیسے چیلنجز بدستور موجود رہیں گے، تاہم اس اقدام سے بھارتی مسلح افواج کی اپ گریڈیشن اور انڈسٹریل بیس کو ایک جدید موڑ ملے گا۔ اس پالیسی سے ہندوستان کی دفاعی صنعت میں سرکاری اجارہ داری کا سورج غروب ہو رہا ہے اور ایک نئے آزادانہ و مسابقتی دور کا آغاز ہو رہا ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationہندوستانی فوج کا امریکہ کے ساتھ اہم دفاعی معاہدہ: جدید جیولن اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل سسٹم خریدنے کا فیصلہ امریکی خلائی صلاحیتوں کا نیا افق: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ‘یو ایس سپیس اکیڈمی’ کے قیام کے لیے انتظامی حکم نامے پر دستخط