Preloader
India signs deal with US to buy Javelin anti-tank missile

خبر کے اہم نکات:

  • ہندوستانی فوج نے امریکہ کے ساتھ انتہائی جدید FGM-148 ‘جیولن’ (Javelin) فائر اینڈ فارگیٹ اینٹی ٹینک میزائل سسٹم کی خرید کا باضابطہ معاہدہ طے کر لیا ہے۔
  • نئی دہلی میں واقع امریکی سفارت خانے نے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق کی ہے، تاہم اس سودے کی کل مالیاتی قدر اور فراہم کیے جانے والے میزائلوں کی حتمی تعداد کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔
  • جیولن میزائل سسٹم اپنی جدید ترین “ٹاپ اٹیک” (Top-Attack) صلاحیت اور شانہ بہ شانہ داغے جانے والے پورٹیبل ڈیوائس کی وجہ سے دُنیا بھر میں بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کی تباہی کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔
  • اس دفاعی معاہدے سے جنوبی ایشیا کی دفاعی توازن، ہندوستانی فوج کے زمینی شعبے کی جدید کاری اور امریکہ بھارت تزویراتی شراکت داری پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
  • ہندوستانی فوج کا امریکہ کے ساتھ اہم دفاعی معاہدہ

نئی دہلی: ہندوستانی فوج نے اپنی اینٹی ٹینک جنگی صلاحیتوں کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے اور زمینی افواج کی فائر پاور میں اضافے کے لیے امریکہ کے ساتھ FGM-148 جیولن (Javelin) فائر اینڈ فارگیٹ اینٹی ٹینک میزائل سسٹمز کی خرید کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے ایک باضابطہ بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ اگرچہ فریقین کی جانب سے اس تجارتی و دفاعی معاہدے کی مجموعی مالیت یا میزائلوں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی، تاہم اسے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ہند-امریکہ دفاعی تعلقات میں ایک انتہائی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی مسلح افواج اپنی روایتی دفاعی حکمتِ عملی کو تکنیکی طور پر اپ گریڈ کر رہی ہیں تاکہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں، جیسے کہ ہمالیائی سرحدوں اور وسیع صحرائی میدانوں میں ممکنہ بکتر بند خطرات کا کامیابی سے مقابلہ کیا جا سکےے۔

FGM-148 ‘جیولن’ میزائل سسٹم کی خصوصیات اور تکنیکی ڈیٹا

جیولن کو امریکی دفاعی کمپنیوں ریتھیون (Raytheon) اور لاک ہیڈ مارٹن (Lockheed Martin) نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ یہ نظام تکنیکی اعتبار سے دنیا کے سب سے کامیاب اور خطرناک ترین اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائلوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس سسٹم کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • فائر اینڈ فارگیٹ صلاحیت (Fire-and-Forget): اس میزائل میں انفراریڈ سیکر (Infrared Seeker) ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ داغے جانے کے بعد یہ میزائل اپنے ہدف کو خودکار طریقے سے تلاش کرتا ہے، جس کے بعد آپریٹر کو گائیڈ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی اور وہ فوراً دوسری پوزیشن پر منتقل ہو سکتا ہے۔
  • ٹاپ اٹیک موڈ (Top-Attack Capability): یہ اس سسٹم کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اینٹی ٹینک میزائل ٹینک کے فرنٹ یا سائیڈ آرمر پر سیدھا حملہ کرنے کے بجائے فضا میں بلند ہو کر اوپر سے (جہاں ٹینک کا آرمر سب سے کمزور ہوتا ہے) چھلانگ لگا کر حملہ کرتا ہے، جس سے جدید ترین ٹینک بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔
  • ڈائریکٹ اٹیک موڈ (Direct Attack): یہ موڈ بنکرز، عارضی مورچوں، نچلی سطح پر اڑنے والے ہیلی کاپٹرز اور قلعہ بند عمارتوں پر مستقیم حملے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
  • وزن اور پورٹیبلٹی: پورے سسٹم (میزائل، ٹیوب اور کمانڈ لانچ یونٹ) کا کل وزن تقریباً 22.3 کلوگرام ہوتا ہے، جسے دو فوجی یا ایک تنہا اہلکار بھی باآسانی پیادہ حالت میں لے جا سکتا ہے۔
  • مؤثر رینج: اس سسٹم کی تباہ کن کارروائی کی رینج 2,500 میٹر سے 4,000 میٹر (ترقی یافتہ ویرینٹس میں) تک ہے۔

ہندوستانی فوج کے لیے جیولن کی اہمیت اور پس منظر

ہندوستانی فوج ایک طویل عرصے سے اپنے اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل (ATGM) کے ذخیرے کو جدید بنانے کے لیے کوشاں تھی۔ بھارتی زمینی فورسز کے پاس فی الوقت روسی ساختہ کورنیٹ (Kornet) اور ڈائریکٹ اٹیک کنکورز (Konkurs) سسٹمز موجود ہیں، لیکن جدید دور کی نیٹ ورک سینٹرک جنگوں میں ہلکے وزن اور خطرناک “ٹاپ اٹیک” صلاحیت کی حامل فورسز کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔

اگرچہ بھارت نے اپنے مقامی سطح پر “ناگ” (Nag) اور “ہیلي نا” (Helina) اینٹی ٹینک میزائل سسٹمز بھی تیار کیے ہیں، تاہم پیداواری سست روی اور مختلف جغرافیائی آزمائشوں کی وجہ سے پورٹیبل جیولن کی خریداری کو فوری ضرورت قرار دیا گیا۔ اس سے قبل بھارت نے اسرائیلی ساختہ ‘سپائیک’ (Spike) میزائل کی محدود تعداد بھی خریدی تھی، لیکن جیولن کا امریکی سسٹمز کے ساتھ انضمام بھارتی صلاحیت کو ایک نیا رخ دے گا۔

خاص طور پر مشرقی لداخ اور خطہ ہمالیہ کے بلند و بالا اور انتہائی سرد علاقوں میں، جہاں وزنی ٹینکوں اور توپ خانے کی نقل و حرکت انتہائی دشوار ہوتی ہے، وہاں پیادہ دستوں (Infantry) کے ہاتھ میں جیولن جیسے ہلکے اور مہلک ہتھیار انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

امریکہ اور بھارت کے دفاعی تعلقات کا نیا افق

امریکہ اور بھارت کے درمیان اس معاہدے کا طے پانا دونوں ممالک کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے تزویراتی تعلقات کا واضح ثبوت ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت نے امریکی دفاعی ساز و سامان کی خریداریاں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس میں سی-17 گلوب ماسٹر، سی-130 جے ہرکولیس، اپاچے اٹیک ہیلی کاپٹرز، چنوک ہیلی کاپٹرز اور پی-8 آئی بحری گشتی طیارے شامل ہیں۔

واشنگٹن اور نئی دہلی کے مابین قائم یہ دفاعی شراکت داری درج ذیل مقاصد کو ظاہر کرتی ہے:

  1. انڈو-پیسیفک ریجن میں توازن: امریکہ خطے میں بھارت کو ایک مضبوط سیکیورٹی پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے تاکہ طاقت کا توازن برقرار رہے۔
  2. روس پر انحصار میں کمی: ہند-امریکہ دفاعی معاہدات کا ایک مقصد بھارت کا روسی ساختہ روایتی اسلحے پر تاریخی انحصار تدریجی طور پر کم کرنا بھی ہے۔
  3. ٹیکنالوجی کی منتقلی کا امکان: اگرچہ موجودہ معاہدہ خریدارانہ نوعیت کا ہے، لیکن طویل المدتی بنیادوں پر بھارت امریکی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ پیداوار (Co-production) اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دیتا رہا ہے۔

علاقائی سیکیورٹی اور تزویراتی اثرات

جنوبی ایشیا کی نازک جغرافیائی سیکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں، ہندوستانی فوج کے پاس جیولن جیسے جدید میزائل سسٹم کی آمد سے علاقے میں روایتی جنگی توازن پر عمیق اثرات مرتب ہوں گے۔

  • زمینی سرحدوں پر ردِعمل کی رفتار: لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) اور لائن آف کنٹرول (LoC) پر کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی چیلنج کی صورت میں بھارتی انفنٹری یونٹس کا ردِعمل زیادہ تیز اور مہلک ہو جائے گا۔
  • دفاعی اخراجات کا حجم: عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اس سودے کی مالیاتی قدر ظاہر نہیں کی گئی، لیکن اتنے جدید ہتھیاروں کے حصول کے لیے بھارتی دفاعی بجٹ پر ایک قابلِ ذکر بوجھ پڑے گا، جس کی بھرپائی زمینی صلاحیتوں میں اضافے سے کی جائے گی۔
  • علاقائی تقابل: ہمسایہ ممالک کے دفاعی ماہرین اس پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اپنی پیش قدمی اور بکتر بند فارمیشنز کے تحفظ کے لیے نئے کاؤنٹر میژرز (ضدِ تدابیر) پر کام کیا جا سکے۔

حتمی جائزہ

ہندوستانی فوج اور امریکی حکومت کے درمیان جیولن اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل سسٹم کا یہ معاہدہ محض ایک تجارتی سودا نہیں ہے بلکہ ہندوستانی انفنٹری کی صلاحیتوں میں ایک جدید موڑ ہے۔ امریکہ کی اس جدید ترین ‘فائر اینڈ فارگیٹ’ اور ‘ٹاپ اٹیک’ ٹیکنالوجی کے حصول سے بھارتی فورسز کو پہاڑی اور سخت ترین زمینی معرکوں میں ایک زبردست دفاعی اور جارحانہ برتری حاصل ہوگی۔ یہ معاہدہ ایک طرف بھارتی مسلح افواج کی اپ گریڈیشن اور جدت طرازی کا مظہر ہے تو دوسری طرف واشنگٹن اور نئی دہلی کے تزویراتی روابط کے مزید مضبوط ہونے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025