Preloader
Sydney shark attack survivor

اہم نکات:

  • آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے کوجی بیچ (Coogee Beach) پر سمندر میں تیراکی کے دوران 34 سالہ لیا اسٹوارٹ (Leah Stewart) پر 4 میٹر لمبی گریٹ وائٹ شارک نے اچانک حملہ کر دیا۔
  • شدید حملے کے دوران خاتون نے ہمت نہ ہاری اور اپنے چہرے کے قریب آتے شارک کے کھلے منہ پر زوردار مکا (Left Hook) مار کر اپنی جان بچائی۔
  • واقعے میں اپنا ایک بازو گنوانے کے باوجود لیا اسٹوارٹ نے اس دردناک لمحے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے خود سے پوچھا تھا کہ وہ کس اعضا کو قربان کرنے پر تیار ہیں۔
  • طبی ماہرین اور ساحلی تحفظ کی ٹیموں نے خاتون کے فوری ردِعمل اور حواس بحال رکھنے کی صلاحیت کو ان کی زندگی بچنے کی اہم ترین وجہ قرار دیا ہے۔

سڈنی (خصوصی رپورٹ):

زندگی اور موت کے درمیان حائل فاصلہ کبھی کبھی چند سیکنڈوں اور ایک مضبوط فیصلے کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور کوجی بیچ (Coogee Beach) پر پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے میں 34 سالہ آسٹریلوی خاتون لیا اسٹوارٹ نے چار میٹر (تقریباً 13 فٹ) لمبی گریٹ وائٹ شارک کا مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی جان بچائی بلکہ حیران کن شجاعت کی نئی مثال قائم کی ہے۔

جون کے مہینے میں پیش آنے والے اس دردناک واقعے میں اگرچہ لیا اسٹوارٹ اپنا ایک بازو گنوا بیٹھیں، لیکن انہوں نے پہلی بار میڈیا کے سامنے اس خوفناک منظر اور اپنی بقا کی جنگ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “سمندر کے اندر وہ لمحہ کسی ڈائناسور سے لڑنے جیسا تھا، جہاں ہر سیکنڈ موت کا پیغام دے رہا تھا۔”

موت کے منہ میں بقا کی جنگ: “لیلا کا وہ زوردار مکا”

واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے لیا اسٹوارٹ نے بتایا کہ وہ معمول کے مطابق کوجی بیچ کی ساحلی لہروں میں تیراکی کر رہی تھیں کہ اچانک پانی کے نیچے ایک بھاری اور طاقتور وجود نے ان پر حملہ کر دیا۔ سڈنی کے ساحل پر اچانک نمودار ہونے والی یہ گریٹ وائٹ شارک اتنی بڑی اور خوفناک تھی کہ لیا کے بقول ان کا پہلا تاثر یہی تھا کہ وہ کسی قبل از تاریخ دور کے عظیم الجثہ جانور کا شکار بن چکی ہیں۔

شارک نے جب اپنے تیز دھار دانتوں سے ان کا بازو جکڑ لیا، تو وہ انہیں گہرے پانی میں لے جانے کی کوشش کرنے لگی۔ اس ہولناک صورتحال میں لیا کے چہرے سے محض چند سینٹی میٹر کے فاصلے پر شارک کا کھلا ہوا منہ تھا، جس میں اس کے ہولناک دانت واضح دکھائی دے رہے تھے۔

لیا نے اپنے انٹرویو میں بتایا: “اس لمحے میرے ذہن میں ایک عجیب سوال کوندا کہ میں اپنے جسم کا کون سا حصہ گنوانے پر تیار ہوں تاکہ میری جان بچ سکے۔ میں نے تمام تر طاقت جمع کی اور اپنے بائیں ہاتھ سے شارک کے منہ پر ایک زوردار مکا (Left Hook) جڑ دیا۔” اس اچانک اور غیر متوقع ردِعمل نے شارک کو چند لمحوں کے لیے حواس باختہ کر دیا اور اس کی گرفت ڈھیلی ہو گئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لیا ساحل کی جانب تیرنے میں کامیاب ہوئیں۔

طبی امداد اور نجات کا معجزہ

ساحل پر موجود دیگر پیراکوں اور لائف گارڈز نے جیسے ہی لیا کو زخمی حالت میں پانی سے باہر نکلتے دیکھا، فوری طور پر ہنگامی طبی امداد کا آغاز کیا گیا۔ شارک کے حملے کی وجہ سے ان کا ایک بازو شدید متاثر ہو چکا تھا اور جسم سے تیزی سے خون بہہ رہا تھا۔

لائف گارڈز نے موقع پر ہی خون کا بہاؤ روکنے کے لیے جدید طبی تکنیک (Tourniquet) کا استعمال کیا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر سڈنی کے قریبی پوزیشن والے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شدید زخموں اور خون کے شدید ضیاع کے باوجود لیا کا زندہ بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ اگرچہ سرجنز ان کا متاثرہ بازو نہ بچا سکے، لیکن ان کے بروقت مکا مارنے اور لائف گارڈز کی فوری کارروائی نے ان کی زندگی محفوظ کر لی۔

حقائق اور اہم اعداد و شمار

سڈنی کے ساحلوں پر شارک کے حملے اور اس واقعے سے متعلق بنیادی معلومات درج ذیل ہیں:

عنصر / تفصیلصورتحال
متاثرہ خاتونلیا اسٹوارٹ (عمر: 34 سال)
مقامکوجی بیچ (Coogee Beach)، سڈنی، آسٹریلیا
واقعے کا وقتجون
شارک کی قسم و سائزگریٹ وائٹ شارک (تقریباً 4 میٹر / 13 فٹ)
نتیجہخاتون ایک بازو سے محروم، تاہم جان بچانے میں کامیاب

سڈنی کے ساحلوں پر شارک کے حملے: پس منظر اور اثرات

آسٹریلیا کے ساحل اپنی قدرتی خوبصورتی اور تیراکی کی بہترین سہولیات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں، تاہم یہاں شارک کے حملوں کا خطرہ بھی ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ سڈنی کے مشرقی ساحلی علاقوں، بالخصوص کوجی اور بونڈائی بیچ پر شارک کے حملوں کی روک تھام کے لیے جدید ترین نیٹ اور ڈرون کیمرے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور ساحلی سیکیورٹی کے اداروں نے کوجی بیچ پر سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔

  1. ڈرون کے ذریعہ نگرانی: ساحل کے قریب ڈرون طیاروں کی پروازوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ گہرے پانی میں بڑی شارک کی موجودگی کا قبل از وقت پتہ لگایا جا سکے۔
  2. عوامی آلاٹ: شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صبح سویرے یا غروبِ آفتاب کے وقت سمندر کی گہرائی میں تیراکی سے گریز کریں، کیونکہ یہ وقت شارک کے شکار کا بنیادی وقت ہوتا ہے۔

لیا اسٹوارٹ کا عزم اور حوصلہ

اس دردناک اور زندگی بدل دینے والے حادثے کے باوجود لیا اسٹوارٹ کے حوصلے بلند ہیں۔ اپنے بحالی کے عمل (Rehabilitation) کے دوران بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے اپنا ایک بازو کھو دیا ہے، لیکن وہ زندہ رہنے کی خوشی کو ہر چیز پر ترجیح دیتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں ناگہانی حالات کا سامنا کسی بھی وقت ہو سکتا ہے، اہم بات یہ ہے کہ انسان خوف کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے اور آخری سانس تک اپنی بقا کی جنگ لڑے۔ ان کی یہ داستانِ شجاعت اس وقت آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں حوصلے اور ہمت کی ایک علامت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

ایڈیٹوریل نوٹ

یہ آرٹیکل آسٹریلین میڈیا اور لیا اسٹوارٹ کے جاری کردہ بیانات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ خبر میں تمام معلومات کی معروضیت اور صحت کو مدِنظر رکھا گیا ہے، اور کسی بھی غیر تصدیق شدہ بات سے گریز کیا گیا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025