تنازع کا پس منظر: شعبہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے سربراہ پر تعلیمی بدعنوانی اور شعبہ سٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ کو ہراساں کرنے کے الزامات کے بعد معطلی کا حکم دیا گیا۔احتجاج اور تصادم: معطلی کے خلاف طلبہ کے ایک گروپ کے احتجاج کے دوران سٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ کے ساتھ بدسلوکی اور دھمکیوں کا معاملہ سامنے آیا۔آرمی آفیسر کی آمد: اہلیہ کی جانب سے ہنگامی اطلاع پر آرمی آفیسر کی انفرادی آمد، بپھرے ہوئے ہجوم کا گھیراؤ اور خود دفاع میں ہوائی فائرنگ کا واقعہ۔انکوائری کا آغاز: پاک فوج اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے واقعے کے تمام پہلوؤں اور شفاف احتساب کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات کی ہدایت۔سرحسرحد یونیورسٹی بدنام زمانہ یونیورسٹی ہے، یہ کوئی پہلا واقع نہیں بلکہ اس سے قبل بھی کئی اس قسم کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ سرحد یونیورسٹی میں تعلیمی و انتظامی تنازع، ہراسانی کے سنگین الزامات اور طلبہ و انتظامیہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے نتیجے میں ایک شدید بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی۔ یونیورسٹی کی حدود میں ہونے والے اس واقعے نے نہ صرف تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور سیکیورٹی کی صورتحال پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ اس واقعے کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث بھی چھڑ گئی ہے۔سرحد یونیورسٹی واقعہواقعے کی شروعات تعلیمی بدعنوانی کے الزامات سے ہوئی جو بعد میں ایک نجی و انتظامی تصادم کی شکل اختیار کر گئی اور بالآخر سیکیورٹی بحران پر منتج ہوئی۔تعلیمی بدعنوانی اور ہراسانی کے الزامات: معاملے کا پس منظرذرائع اور دستیاب رپورٹوں کے مطابق، اس پورے تنازع کی بنیاد یونیورسٹی کے شعبہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز میں انتظامی بے ضابطگیوں سے پڑی۔ شعبے کے سربراہ پر طویل عرصے سے یہ الزامات عائد کیے جا رہے تھے کہ وہ پسند و ناپسند اور تعلیمی بے ضابطگیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ ان کی سرپرستی میں بعض طلبہ امتحانات اور اسائنمنٹس میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے رہے اور ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب شعبہ سٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ—جو کہ ایک سخت گیر اور اصول پسند خاتون کے طور پر جانی جاتی ہیں—نے ان بے ضابطگیوں پر موقف اپنایا اور تعلیمی بدعنوانی پر برہمی کا اظہار کیا۔ مبینہ طور پر شعبہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے معطل شدہ سربراہ کی جانب سے سٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ پر دباؤ ڈالنے اور انہیں ہراساں کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ ان مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد خاتون افسر نے ایک باضابطہ تحریری شکایت درج کروائی۔یونیورسٹی انتظامیہ نے ابتدائی جائزہ لینے کے بعد تحقیقات مکمل ہونے تک شعبہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے سربراہ کو معطل کر دیا اور واقعے کی جانچ کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔طلبہ کا احتجاج اور کشیدگی کا ڈرامائی موڑایچ او ڈی کی معطلی کے فوراً بعد، طلبہ کے ایک بڑے گروپ نے فیصلے کے خلاف یونیورسٹی کی حدود میں احتجاج شروع کر دیا اور ان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ صورتحال کو سنبھالنے اور انتظامی فیصلے کا پس منظر واضح کرنے کے لیے سٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ خود مظاہرین کے پاس گئیں۔تاہم، مذاکرات کا یہ عمل تیزی سے تلخی میں بدل گیا۔ وہاں موجود چند مشتعل طلبہ نے مبینہ طور پر نہ صرف نعرے بازی کی بلکہ انتظامی افسر کے ساتھ انتہائی بدسلوکی کی اور انہیں جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، ہجوم میں شامل ایک طالب علم نے خاتون کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ اس دوران یونیورسٹی کے سیکیورٹی اہلکار صورتحال کو قابو میں لانے اور خاتون افسر کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آئے۔آرمی آفیسر کی آمد اور صورتحال کا تناظرشدید خوف اور خطرے کی حالت میں، سٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ نے اپنے شوہر کو فون کر کے صورتحال سے آگاہ کیا، جو کہ پاکستان آرمی میں ایک کمیشنڈ آفیسر ہیں۔ اپنی اہلیہ کو لاحق فوری خطرے کا سن کر وہ صورتحال کا جائزہ لینے انفرادی طور پر یونیورسٹی پہنچے۔بتایا جاتا ہے کہ آفیسر نے کسی سیکیورٹی دستے یا پولیس فورس کو ساتھ لیے بغیر تنہا یونیورسٹی کا رخ کیا۔ جب وہ موقع پر پہنچے تو ان کی اہلیہ نے بدسلوکی کرنے والے طالب علم کی نشاندہی کی۔ آفیسر نے متعلقہ طالب علم سے سخت سوال جواب کیے اور نظم و ضبط کی حد قائم کرنے کے لیے چھڑی کا استعمال کیا۔اس عمل کے بعد وہاں موجود ہجوم مزید اشتعال میں آ گیا اور انہوں نے آفیسر اور ان کی اہلیہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔تصادم، خود دفاع اور ہوائی فائرنگموقع پر موجود ذرائع کے مطابق، بپھرے ہوئے ہجوم کی دھکم پیل اور ہاتھا پائی کے دوران سٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ زمین پر گر گئیں جبکہ آفیسر کا گھیراؤ کر کے ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ہجوم کی شدت: ہجوم کی طرف سے گھیرے جانے کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ اور بے قابو ہو گئی۔دفاعی اقدام: اپنی اور اپنی اہلیہ کی جان کو درپیش فوری خطرے کو محسوس کرتے ہوئے آفیسر نے اپنا سروس پسٹل نکالا۔خبردار کرنے والی فائرنگ: ہجوم کو پیچھے ہٹانے اور محفوظ راستہ بنانے کے لیے انہوں نے ہوا میں ہوائی فائرنگ کی تاکہ بپھرا ہوا ہجوم پیچھے ہٹ جائے اور وہ وہاں سے نکل سکیں۔فائرنگ کے بعد ہجوم پیچھے ہٹا اور دونوں افراد محفوظ طریقے سے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔واقعے پر تجزیہ اور عوامی و قانونی پہلواس واقعے کی ویڈیوز اور رپورٹس سامنے آنے کے بعد مختلف دھڑوں کی جانب سے مختلف ردعمل دیکھنے میں آیا ہے:دفاعی نقطہ نظر: متعدد قانونی اور انتظامی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک شوہر کا اپنی اہلیہ کو ہجوم کے ہاتھوں بدسلوکی سے بچانا اور خود دفاع (Self-Defense) کا حق استعمال کرنا ایک فطری انسانی ردعمل تھا۔ آفیسر کا پولیس کا انتظار کیے بغیر خود آنا اور بغیر کسی جانی نقصان کے صرف ہوائی فائرنگ کر کے دفاعی جگہ بنانا ان کی جانب سے انتہائی ضبط کا مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا: واقعے کے فوری بعد سوشل میڈیا پر بعض ادھوری اور سلیکٹو ویڈیوز کے ذریعے واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم واقعے کے تمام تر پس منظر کے سامنے آنے کے بعد اصل صورتحال واضح ہو چکی ہے۔ادارتی احتساب: پاکستان آرمی کے پیشہ ورانہ معیار کے مطابق معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اور متعلقہ آفیسر کو تحویل میں لے کر قانون اور ملٹری ڈسپلن کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔مستقبل کے اثرات اور درپیش چیلنجزسرحد یونیورسٹی کا یہ واقعہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں چند بنیادی اصلاحات کی ضرورت کی نشان دہی کرتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات، طلبہ میں بڑھتی ہوئی عدم برادشت اور خواتین عملے کو درپیش ہراسانی کے مسائل پر جیو اور غیر جانبدارانہ پالیسیوں پر عمل درآمد وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ پر اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شعبہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے معطل شدہ ایچ او ڈی کے خلاف زیر التواء انکوائری کو جلد از جلد شفاف انداز میں مکمل کرے اور سٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ کے ساتھ بدسلوکی میں ملوث عناصر کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائے تاکہ تعلیمی اداروں کے وقار کو بحال رکھا جا سکے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationآسٹریلیا کے ویزے اور رقم کے لالچ میں غیر ملکی شہری سے دھوکہ دہی: لاہور پولیس کا کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج