اہم نکات (خلاصہ)ثالثی کا خیرمقدم: افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاک افغان کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودی عرب کی ممکنہ ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔مذاکرات کی پیشکش: کابل انتظامیہ نے اسلام آباد کے ساتھ دوطرفہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور تعاون جاری رکھنے کی خواہش کا اعادہ کیا ہے۔پاکستان کا موقف: پاکستان طویل عرصے سے افغان سرزمین سے کالعدم تنظیموں کی جانب سے ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں اور کابل کی جانب سے ان کی مبینہ سرپرستی پر شدید خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے۔خطے پر اثرات: سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی اور جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔اسلام آباد / کابل (خاص رپورٹ) پاک افغان تعلقات میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور سفارتی ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے خطے کی اہم مذہبی و سیاسی قوت سعودی عرب کا کردار ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سعودی عرب کی جانب سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان سفارتی پیش رفتوں سے دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان بنیادی تنازعات کے حل میں پیش رفت ہوگی۔طالبان ترجمان کے مطابق، کابل حکومت پاکستان کے ساتھ مثبت، تعمیری اور پائیدار تعلقات کی خواصت مند ہے اور دوطرفہ تحفظات کو ڈائیلاگ اور باہمی تعاون کے ذریعے ختم کرنا چاہتی ہے۔ تاہم، دوسری جانب پاکستان کا موقف ہے کہ جب تک افغان سرحد سے سیکیورٹی کے سنگین خطرات اور عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کو نہیں روکا جاتا، تب تک سفارتی تعلقات کا مکمل بحالی کی طرف جانا مشکل ہوگا۔کابل کا موقف: مذاکرات اور سعودی ثالثی کی امیدیںذبیح اللہ مجاہد کے تازہ ترین بیان سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت پاکستان کے ساتھ پائے جانے والے شدید سفارتی تناؤ کو کم کرنے کے لیے ثالثی کے فارمولے پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے۔ کابل کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور معاشی استحکام کے لیے اسلام آباد اور کابل کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔افغان ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان اپنی سیکیورٹی، تجارتی اور سفارتی چیلنجز کا حل باہمی گفت و شنید میں دیکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریاض کی فعال سفارت کاری اور برادرانہ مداخلت سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود غلط فہمیاں دور ہوں گی، جس سے نہ صرف سرحدی رکاوٹیں دور ہوں گی بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیاں بھی بحال ہو سکیں گی۔اسلام آباد کے تحفظات: سرحد پار عسکریت پسندی کا مسئلہدوسری جانب، پاکستان کے سیاسی اور عسکری حکام کا طویل عرصے سے یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں عسکریت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے عسکریت پسندوں کو افغان سرزمین پر ملنے والی مبینہ پناہ گاہوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔پاکستان کے دفاعی اور سفارتی حلقوں کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:افغان سرزمین کا استعمال: پاکستان کا مطالبہ ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرے۔عسکریت پسندوں کی سرپرستی کا الزام: اسلام آباد کا الزام ہے کہ طالبان انتظامیہ پاکستان مخالف عناصر کے خلاف واضح ایکشن لینے سے گریزاں ہے۔بارڈر سیکیورٹی اور باڑ کا معاملہ: پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) کی انتظامی دیکھ بھال، غیر قانونی آمد و رفت کی روک تھام اور باڑ کی حفاظت کے حوالے سے دونوں ممالک کے سیکیورٹی اداروں کے درمیان تسلسل سے تصادم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔پاک افغان تعلقات کا پس منظر: بڑھتا ہوا تناؤافغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد جب اگست 2021 میں طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا، تو ابتدائی طور پر یہ توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ پاک افغان تعلقات میں ایک نئے اور مثبت باب کا آغاز ہوگا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی خدشات اور سرحدی تنازعات نے جنم لیا۔گزشتہ چند سالوں کے دوران سرحد پار سے ہونے والے حملوں اور اس کے جواب میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں نے سفارتی تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے۔ تجارتی راہداریوں کی بار بار بندش اور افغان مہاجرین کی پاکستان سے واپسی کی پالیسی نے بھی دونوں طرف کے تعلقات میں تلخی پیدا کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تعطل کو توڑنے کے لیے کسی بااثر تیسرے فریق کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔سعودی عرب کا سفارتی کردار: خطے کی صورتحال پر اثراتسعودی عرب کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جن کے پاکستان اور افغانستان دونوں کی قیادت کے ساتھ دیرینہ، مذہبی اور حکمت عملی پر مبنی تعلقات ہیں۔ ریاض نے ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے پس پردہ سفارت کاری کا سہارا لیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر سعودی عرب اس ثالثی کے عمل کو باقاعدہ شکل دیتا ہے، تو اس کے خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال پر درج ذیل اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:اعتماد سازی کے اقدامات: سعودی عرب کی ضمانت سے دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل عرصے کے بعد سنجیدہ اور اعلیٰ سطحی سیکیورٹی مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔سرحدی تجارت کی بحالی: اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کم ہونے سے تورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت ہموار ہوگی، جس سے مقامی معیشت کو سہارا ملے گا۔مشترکہ سیکیورٹی میکانزم: سعودی ثالثی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان عسکریت پسندی کی روک تھام اور معلومات کی فراہمی کا مشترکہ فریم ورک قائم ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔مستقبل کا منظرنامہ: چیلنجز اور پیش رفت کا امکانی راستہاگرچہ کابل نے سعودی عرب کے کردار کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے، تاہم اس سفارتی پیش رفت کی کامیابی کا دارومدار عملی اقدامات پر ہے۔ پاکستان کا حتمی موقف یہ رہا ہے کہ صرف زبانی باتوں یا بیانات کے بجائے افغان سرزمین پر پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے حوالے سے ٹھوس اور واضح پیش رفت دیکھنا چاہتا ہے۔سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ریاض کی جانب سے اسلام آباد اور کابل کے اعلیٰ سطحی وفود کی میزبانی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ اگر سعودی عرب دونوں فریقین کو ایک مشترکہ نکتے پر لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے جنوب اور وسطی ایشیائی خطے میں پائیدار امن اور معاشی ترقی کی طرف ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationکینیڈی سینٹر کی بندش اور مسماری کی دھمکی: واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج بلوچستان میں بڑی سیکیورٹی کارروائی: پنجگور اور چاغی میں 11 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ و بارود برآمد