Preloader
Mumbai police detain pro-Palestine activists

اہم نکات (خلاصہ)

  • فعال پسندوں کی حراست: ممبئی میں فلسطینی بچوں کے ساتھ پتنگ بازی کی مہم کے ذریعے اظہارِ یکجہتی کرنے والے 3 انسانی حقوق کے کارکناں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔
  • بغیر وارنٹ چھاپہ: انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، پولیس نے ایک خاتون رضاکار کے گھر پر بغیر کسی قانونی وارنٹ کے تلاشی لی اور ہراساں کیا۔
  • بی جے پی کا دوہرا معیار: منصفانہ اور جمہوری اقدار کے دعویدار بھارت میں فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرنے والے شہریوں کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات پر مودی حکومت پر اندرون و بیرونِ ملک شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
  • جمہوری حقوق پر سوالات: بھارتی سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کی آزادی پر مسلسل قدغنیں لگائی جا رہی ہیں، بالخصوص جب معاملہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے برعکس ہو۔

ممبئی / نئی دہلی (خصوصی رپورٹ) بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی میں فلسطین کے مظلوم بچوں اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والے شہریوں پر مقامی پولیس کی جانب سے سخت گیر رویہ اور کارروائیاں سامنے آئی ہیں۔ ایک پرامن یکجہتی مہم کے دوران پتنگیں اڑا کر فلسطینی بچوں کا دُکھ بانٹنے کی کوشش کرنے والے تین فعال پسندوں کو ممبئی پولیس نے حراست میں لے لیا، جبکہ ایک خاتون رضاکار کے گھر پر بغیر کسی عدالت یا قانونی وارنٹ کے چھاپہ مارا گیا۔

اس واقعے کے بعد بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کا فلسطین-اسرائیل تنازع پر اپنایا گیا تنازعہ برپا کرنے والا اور دوہرا معیار ایک بار پھر انسانی حقوق کے اداروں اور اپوزیشن جماعتوں کی شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔

پرامن یکجہتی مہم اور ممبئی پولیس کا یکطرفہ ایکشن

واقعات کی تفصیلا ت کے مطابق، ممبئی میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور شائقین کی جانب سے غصے کا شکار فلسطینی بچوں کی حمایت میں ایک منفرد اور پرامن “پتنگ بازی مہم” کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس مہم کا مقصد عالمی برادری اور ہندوستانی عوام کا دھیان غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جاری انسانی بحران اور بچوں کی تکالیف کی طرف مبذول کرانا تھا۔

تاہم، پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے تین کارکناں کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا۔ حقوقِ انسانی کے دفاعی اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ:

  1. غیر قانونی کارروائی: ایک خاتون رضاکار کے گھر کی تلاشی بغیر کسی رسمی وارنٹ یا قانونی جواز کے لی گئی، جو کہ آئینی حقوق اور قانونی ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
  2. ہراسانی کا ماحول: پرامن طریقے سے آزادیِ اظہارِ رائے کا حق استعمال کرنے والے شہریوں کے ساتھ پولیس کا رویہ مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث افراد جیسا رہا۔
  3. خوف کا ماحول: اس قسم کے اقدامات کا بنیادی مقصد سول سوسائٹی کے اندر خوف و ہراس پھیلانا ہے تاکہ کوئی بھی حکومت کے بین الاقوامی موقف سے الگ رائے کا اظہار نہ کر سکے۔

بی جے پی حکومت کا فلسطین پر دوہرا معیار: تجزیہ و پس منظر

مودی حکومت کا فلسطین تنازع کے حوالے سے رویہ تاریخی لحاظ سے بھارتی خارجہ پالیسی کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ قیامِ ہند سے لے کر گزشتہ دہائیوں تک، بھارت روایتی طور پر فلسطین کے حقوق اور دو قومی نظریے (Two-State Solution) کا حامی رہا ہے۔ تاہم، بی جے پی کے دورِ حکومت میں اسرائیل کے ساتھ عسکری، دفاعی اور سفارتی تعلقات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کا عکس داخلی پالیسیوں میں بھی نظر آتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں اور حقوق عامہ کے کارکنوں کے مطابق مودی حکومت کے اس دوہرے معیار کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

  • بین الاقوامی بیانیے اور داخلی اقدامات میں تضاد: ایک طرف نیویارک اور اقوامِ متحدہ کے فورمز پر بھارت فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد کا اعلان کرتا ہے، لیکن دوسری جانب اپنے ہی ملک میں فلسطینیوں کے لیے پرامن آواز اٹھانے والے شہریوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔
  • اقلیتوں اور حقوق کے کارکناں کو نشانہ بنانا: گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بھارت کی مختلف ریاستوں (بالخصوص بی جے پی کی زیرِ حکومت ریاستوں) میں فلسطینی پرچم لہرانے یا مظاہرے کرنے والوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین یا سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
  • اسرائیل کے ساتھ گہرے روابط: مودی حکومت کی اسرائیل کے ساتھ سٹریٹیجک پارٹنرشپ اور گھریلو سیاسی بیانیے کے اثرات کی وجہ سے فلسطینی یکجہتی کی تمام سرگرمیوں کو حکومت مخالف رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔

آزادیِ اظہار اور آئینی حقوق کی خلاف ورزیاں

بھارتی آئین کی دفعہ 19 (Article 19) ہر شہری کو پرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کا حق فراہم کرتی ہے۔ تاہم، ممبئی میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا بھارت میں آئینی حقوق کا اطلاق صرف حکومت کی پسندیدہ سوچ پر ہوتا ہے؟

ممبئی پولیس کی اس پیش رفت پر ردِعمل دیتے ہوئے ہندوستانی سول سوسائٹی، وکلائے حقوق اور سیاسی حلقوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پولیس کی اس دھونس اور دھمکی آمیز رویے کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا۔ متعدد سماجی رہنماؤں نے سوال اٹھایا ہے کہ پتنگ اڑانا یا فلسطینی بچوں کے لیے ہمدردی کے دو الفاظ بولنا کس قانون کے تحت جرم بن سکتا ہے؟

عالمی اور علاقائی سطح پر اثرات

اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کے اس دعوے پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں جس میں وہ خود کو “دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت” قرار دیتا ہے۔ حقوقِ انسانی کے عالمی ادارے (بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ) مسلسل اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں اور سول سوسائٹی کی جگہ (Civil Space) مسلسل تنگ کی جا رہی ہے۔

ممبئی کا یہ واقعہ محض ایک مقامی پولیس کارروائی نہیں ہے بلکہ یہ مودی حکومت کی اس مجموعی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے جہاں بین الاقوامی انسانی حقوق اور شہریوں کے جمہوری حقوق کو سیاسی مقاصد کی قربان گاہ پر نچھاور کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس واقعے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ممبئی میں حراست میں لیے گئے کارکناں کو جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے گا۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔