Preloader
Federal Minister visit Madrasa Haqaniya

اہم نکات (خلاصہ)

  • وزیر اعظم کی ہدایت پر دورہ: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے وزیر اعظم کی بالخصوص ہدایت پر دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا دورہ کیا اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔
  • قیام امن و مذہبی ہم آہنگی: دورے کا بنیادی مقصد ملک میں مذہبی رواداری، امن و استحکام کے فروغ اور اتحاد بین المسلمین کی فضا کو استوار کرنا تھا۔
  • علماء کرام کا کردار: قومی پیغام امن کمیٹی اور مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام نے دہشت گردی کی روک تھام اور قومی بیانیے کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کو دہرایا۔
  • تاریخی مقامات کا دورہ: وفاقی وزیر نے دارالعلوم حقانیہ، جامع مسجد عبدالحق کا معائنہ کیا اور سابقہ اکابرینِ دین کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

پشاور / نوشہرہ (انورزیب خان، خصوصی رپورٹ): پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کی حکومتی کاوشوں کے سلسلۂ عمل میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کی بالخصوص ہدایت پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں واقع خطے کے معروف دینی درسگاہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا اہم دورہ کیا۔

اس اعلیٰ سطحی دورے کا بنیادی مقصد تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور مذہبی طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے ملک و قوم کو درپیش امن و امان کے چیلنجز سے نمٹنا اور بین المسلمین ہم آہنگی کو فروِغ دینا ہے۔

شاندار استقبال اور وفد کی ترکیب

وفاقی وزیر اطلاعات کے اس اہم دورے میں ان کے ہمراہ وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان اور رکن صوبائی اسمبلی جلال خان بھی موجود تھے۔ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک آمد پر قومی پیغام امن کمیٹی کے اراکین اور دارالعلوم کے اکابرین نے وفد کا پرتباک استقبال کیا۔

استقبالیہ ٹیم میں دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم مولانا راشد الحق حقانی، جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر مولانا عبدالحق ثانی، اور ممتاز مذہبی رہنما مولانا سید محمد یوسف شاہ کے علاوہ دیگر جید علماء اور قومی پیغام امن کمیٹی کے عہدیدار شامل تھے۔ دورے کے دوران ملک کے مختلف حصوں اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء کرام نے بھی شرکت کی، جس سے اس نشست کی افادیت مزید نمایاں ہوئی۔

امن و استحکام اور قومی بیانیے کی مضبوطی

دارالعلوم حقانیہ میں منعقدہ اہم اجلاس میں قومی پیغام امن کمیٹی کے اراکین اور مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کے درمیان تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ نشست کا مرکز و محور ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، پائیدار استحکام اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مشترکہ جدوجہد کا عزم تھا۔

اجلاس سے خطاب اور گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ “اس وقت ملک جن حالات سے گزر رہا ہے، ان میں امن، رواداری اور قومی یکجہتی کے پیغام کو عام کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ نفرت انگیز سوچ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے سدباب کے لیے دینی مراکز اور جید علماء کا کردار بے حد اہمیت کا حامل ہے۔

وفاقی وزیر نے قومی پیغام امن کمیٹی کے متحرک کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ:

  • قومی پیغام امن کمیٹی ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
  • دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو گراس روٹ لیول تک پہنچانے میں اس کمیٹی کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔
  • وزارت اطلاعات و نشریات اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے امن و استحکام اور بھائی چارے کا مثبت پیغام عامۃ الناس تک مسلسل پہنچاتی رہے گی۔

دارالعلوم حقانیہ کی تعلیمی و دینی خدمات اور معائنہ

ملاقات کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور قومی پیغام امن کمیٹی کے اراکین کو دارالعلوم کے مختلف حصوں اور شعبہ جات کا دورہ کرایا گیا۔ دارالعلوم کے مہتمم اور انتظامیہ نے وفد کو ادارے کی تاریخی، تعلیمی اور دینی خدمات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

وفد نے دارالعلوم کے اندر واقع تاریخی جامع مسجد عبدالحق کا معائنہ بھی کیا اور اس کے تاریخی و معمارانہ پس منظر میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اور علماء کرام نے اکابرینِ ملت بالخصوص شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی، مولانا حامد الحق حقانی، اور مولانا سمیع الحق شہید کی دینی و ملی خدمات کا اعتراف کیا اور ان کے اعلیٰ درجات کی بلندی کے لیے اجتماعی دعا کی۔

پس منظر اور صحافتی تجزیہ: دینی مدارس اور قومی امن

پاکستانی معاشرے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کی لہر کے مستقل خاتمے کے لیے دینی مدارس اور مذہبی قیادت کا تعاون ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے۔ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے خطے میں ایک تاریخی اور معتبر دینی درسگاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

حالیہ برسوں میں ریاست کی جانب سے یہ کوششیں تیز کی گئی ہیں کہ مذہبی طبقے کو قومی دھارے میں مؤثر طریقے سے شامل کیا جائے تاکہ عسکریت پسندی، فرقہ واریت اور عدم برادشت کے خاتمے کے لیے ایک یکساں بیانیہ ترتیب دیا جا سکے۔ وزیراعظم کی جانب سے وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ دورہ دراصل اسی حکومتی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد ریاست اور دینی اداروں کے درمیان روابط کی مضبوطی ہے۔

دورے کے متوقع مثبت اثرات

  1. قومی یکجہتی کا فروغ: وفاقی حکومت اور تمام مکاتب فکر کے علماء کے درمیان اس نوعیت کے براہ راست رابطوں سے قومی یکجہتی اور یکسوئی کو تقویت ملتی ہے۔
  2. بیانیہ پاکستان کی ترویج: “پیغامِ پاکستان” اور اس نوعیت کے دیگر امن بیانیوں کو دینی مدارس کے ذریعے طالب علموں اور عام عوام تک مؤثر انداز میں منتقل کیا جا سکے گا۔
  3. دہشت گردی کے خلاف یکسوئی: انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار سیکیورٹی اداروں کو مذہبی قیادت کی مکمل اخلاقی و فکری تائید حاصل ہوگی، جو اس ناسور کی جڑیں کاٹنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

علماء کرام کا مشترکہ عزم

دورے کے اختتام پر قومی پیغام امن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے تمام شرکاء اور علماء کرام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے تمام مکاتب فکر کو آپسی اختلافات کو بالاے طاق رکھ کر یکجا ہونا ہو گا۔ علماء کرام نے ملک میں امن و امان کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومتی کاوشوں میں بھرپور تعاون کا اعادہ کیا۔