اہم نکات (خلاصہ) تعزیتی دورہ: انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے مردان میں کوہاٹ پولیس لائنز مسجد دھماکے میں شہید ہونے والے ایس پی ٹریفک اکبر خان شنواری کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ اہلخانہ سے ہمدردی: آئی جی پی نے شہید کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مکمل حکومتی و محکماتی تعاون کا یقین دلایا۔ قومی عزم: آئی جی پی خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ شہداء کے خون کا ایک قطرہ بھی رائیگاں نہیں جائے گا اور امن کے دشمنوں کا بلا تفریق مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ محکمے کا فخر: خیبر پختونخوا پولیس اپنے شہداء کو فورس کا فخر اور ان کے خاندانوں کو اپنا حصہ سمجھتی ہے، جنہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ مردان / پشاور (خصوصی رپورٹ): خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار سرحدوں اور شہروں کی حفاظت کرنے والی پولیس فورس کا حوصلہ اور جذبہ مسلسل جوان ہے۔ اسی سلسلے میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) خیبر پختونخوا جناب ذوالفقار حمید نے کوہاٹ پولیس لائنز کی جامع مسجد میں ہونے والے المناک بم دھماکے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے بہادر افسر، ایس پی ٹریفک اکبر خان شنواری کی رہائش گاہ کا خصوصی دورہ کیا۔ آئی جی پی خیبر پختونخوا نے مردان کے علاقے لونڈ خوڑ میں شہید کے گھر پہنچ کر ان کے غمزدہ اہلخانہ، بچوں اور دیگر لواحقین سے ملاقات کی، ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور شہید کے بلند درجات کے لیے خصوصی فاتحہ خوانی کی۔ فرض کی راہ میں عظمت کی مثال تعزیت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ “شہید ایس پی اکبر خان شنواری نے فرض کی ادائیگی، قوم کے تحفظ اور پولیس کے مقدس مشن کی تکمیل میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے شجاعت و بسالت کی ایک ایسی روشن مثال قائم کی ہے جس پر پورے محکمے اور قوم کو فخر ہے۔” انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے افسران اور جوانوں نے وطن عزیز کی سلامتی اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کی خاطر ہمیشہ اپنے سینوں پر گولیاں کھائی ہیں اور اپنے خون سے تاریخ کے سنہرے باب رقم کیے ہیں۔ آئی جی پی نے تعزیت کے دوران درج ذیل اہم باتوں پر زور دیا: خاندان کی کفالت: شہداء کے اہلخانہ محکمے کا اپنا خاندان ہیں، اور ان کی دیکھ بھال، بہبود اور بچوں کی دیکھ بھال پولیس فورس کی اولین ترجیح رہے گی۔ مکمل سپورٹ: شہید کے ورثاء کو کسی بھی موڑ پر تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور محکمے کی جانب سے ہر ممکن قانونی، مالی اور اخلاقی تعاون جاری رہے گا۔ حوصلہ و استقامت: آئی جی پی نے شہید کے والدین اور بچوں کے صبر و استقامت کو سراہا اور ان کی ہمت کو پوری فورس کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ “شہداء کے خون کا بدلہ امن کی صورت میں لیں گے” دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں آئی جی پی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے نہایت سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “شہداء کے پاک خون کا کوئی بھی قطرہ رائیگاں نہیں جائے گا۔ امن کے دشمن اور ملک میں انارکی پھیلانے والے عناصر جنسی، مالی يا نظریاتی طور پر جہاں بھی چھپے ہوں، ان کا مکمل خاتمہ کر کے ہی دم لیا جائے گا۔” انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پولیس لائنز مسجد جیسے مقدس مقام پر حملہ کرنے والے عناصر کا کسی دین، مذہب یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس قسم کی بزدلانہ کارروائیاں خیبر پختونخوا پولیس کے عزم و حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتیں بلکہ یہ فورس کے جذبے کو مزید جلا بخشتی ہیں۔ پس منظر: کوہاٹ پولیس لائنز مسجد کا المناک واقعہ کوہاٹ پولیس لائنز کی جامع مسجد میں ہونے والا دھماکہ ایک ایسا المناک واقعہ تھا جس نے پورے صوبے کو سوگوار کر دیا۔ نماز کے وقت کیے جانے والے اس بزدلانہ حملے کا نشانہ وہاں موجود پولیس افسران، اہلکار اور عام شہری بنے۔ اس واقعے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی اور شہید ہوئے، جن میں ایس پی ٹریفک اکبر خان شنواری جیسے اعلیٰ، ایماندار اور انتہائی فرض شناس افسر بھی شامل تھے۔ ایس پی اکبر خان شنواری کا شمار خیبر پختونخوا پولیس کے ان نڈر افسران میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں جہاں بھی خدمات انجام دیں، ایمانداری، قابلیت اور عوام کے ساتھ حسنِ اخلاق کے نقوش چھوڑے۔ ان کی شہادت سے نہ صرف ان کا خاندان بلکہ خیبر پختونخوا پولیس ایک باصلاحیت اور متحرک افسر سے محروم ہو گئی ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس: قربانیوں کی ناقابلِ فراموش تاریخ خیبر پختونخوا پولیس کی تاریخ دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ جغرافیائی موقعیت اور خطے کے نازک حالات کی وجہ سے خیبر پختونخوا کی پولیس فورس ہراول دستے (First Line of Defense) کے طور پر کام کرتی رہی ہے۔ گزشتہ دہائیوں کے اعداد و شمار اور اثرات: شہداء کی تعداد: خیبر پختونخوا پولیس کے 1800 سے زائد افسران اور جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا ہے۔ ہر رتبے کی قربانی: اس جنگ میں کانسٹیبل سے لے کر ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جی اور ایس پی رینک کے اعلیٰ افسران نے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔ عوامی اعتماد: ان بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں عوام کا پولیس پر اعتماد مزید بحال ہوا ہے اور فورس کو صوبائی اور قومی سطح پر بے حد احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ صحافتی و ایڈیٹوریل تجزیہ: شہداء کے اہلخانہ کی دیکھ بھال کا نظام آئی جی پی خیبر پختونخوا کے اس دورے سے جہاں شہید کے لواحقین کو اخلاقی اور نفسیاتی حوصلہ ملا ہے، وہیں یہ باقی پولیس فورس کے لیے بھی ایک مضبوط پیغام ہے کہ محکمہ اپنے شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرتا۔ تاہم، صحافتی نقطہ نظر سے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ شہداء پیکج اور ویلفیئر فنڈز کی فراہمی میں دفتری اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم سے کم کیا جائے۔ شہداء کے بچوں کی معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے لیے جو وعدے کیے جاتے ہیں، ان کی بروقت اور شفّاف ترسیل ہی ان بہادر شہداء کو حقیقی خراجِ تحسین پیش کرنے کا طریقہ ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کا اپنے شہداء کے ورثاء کے ساتھ یہ قوی اور مضبوط رابطہ اس بات کی ضمانت ہے کہ سخت ترین حالات کے باوجود پولیس فورس کے قدَم جادۂ حق اور فرض کی راہ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ Post navigation خیبر پختونخوا میں جیل اصلاحات اور قیدیوں کی بحالی: محکمہ جیل خانہ جات اور کا مشترکہ اجلاس، یورپی یونین کے پروگرام فیز 2کے جلد آغاز پر اتفاق لمس جامشورو میں “ایوانِ آزادی” کے عنوان سے تقریری مقابلے: طبی تعلیم کے ساتھ طلبا کی شخصیت سازی اور آزادیِ اظہار کا فروغ