Preloader
India's terrorist exports have gone from regional to global

اہم نکات (خلاصہ)

  • پروپیگنڈا بطور سفارتی ہتھیار: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی کونسلر صائمہ سلیم نے بھارتی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیو دہلی نے جھوٹے پروپیگنڈے اور فریب کو سرکاری سفارت کاری بنا لیا ہے۔
  • دہشت گردی کی برآمد اور عالمی تشویش: پاکستان نے واضح کیا کہ بھارت دہشت گردی کو اپنی ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اس کے اثرات علاقائی سرحدوں سے نکل کر امریکہ اور کینیڈا میں ٹارگٹ کلنگ کے منصوبوں کی صورت میں عالمی سطح پر سامنے آئے ہیں۔
  • پاکستان کا جانی و مالی نقصان: اقوامِ متحدہ میں پیش کردہ حقائق کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 1,00,000 (ایک لاکھ) انسانی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور معاشی سطح پر بھاری قیمت ادا کی۔
  • مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام کئی دہائیوں سے بھارتی قبضہ، جبر اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو برداشت کر رہے ہیں، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔

نیویارک (خاص رپورٹ)

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں پاکستان کے مستقل مشن کی کونسلر صائمہ سلیم نے بھارت کے جارحانہ رویے، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں اور جھوٹے پروپیگنڈے پر مبنی سفارت کاری کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مفصل اور سخت مؤقف میں کہا کہ نیو دہلی حکومت نے پروپیگنڈے کو باقاعدہ ریاستی حکمتِ عملی کا درجہ دے دیا ہے اور خطے سمیت عالمی سطح پر “دہشت گردی کی برآمد” کو اپنی غیر ملکی پالیسی کے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

پاکستانی سفارت کار نے واضح کیا کہ بھارت کا یہ منفی رویہ نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو تباہ کر رہا ہے بلکہ اب اس کی سرحدیں عالمی دنیا تک پھیل چکی ہیں، جہاں بھارتی ریاستی اہلکاروں کے ذریعے دیگر آزاد ممالک میں ٹارگٹ کلنگ کے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔

“پروپیگنڈا بطور سفارت کاری”: بھارتی بیانیے کی حقیقت

اقوامِ متحدہ کی نشست کے دوران پاکستانی کونسلر صائمہ نے بھارت کے اس دیرینہ بیانیے پر سخت تنقید کی جس کے تحت وہ عالمی سطح پر مظلوم بننے کا ڈرامہ رچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران طبقہ، خاص طور پر مودی حکومت، اپنے اندرونی سیاسی مقاصد اور انتہا پسندانہ نظریات کو چھپانے کے لیے بین الاقوامی برادری میں جھوٹا اور من گھڑت مواد پیش کرتی ہے۔

“نیو دہلی نے سچائی اور حقائق کا گلا گھونٹ کر ڈس انفارمیشن (جھوٹے پروپیگنڈے) کو سفارت کاری کا متبادل بنا لیا ہے۔ عالمی سطح پر جھوٹ پھیلانا اور ہمسایہ ممالک پر بے بنیاد الزامات لگانا اب بھارتی حکومتی مشینری کا بنیادی مشغلہ بن چکا ہے۔” — صائمہ سلیم (کونسلر، پاکستانی مشن برائے اقوامِ متحدہ)

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی تحقیقاتی اداروں اور آزاد سیکیورٹی واچ ڈاگز نے بھی متعدد بار ان بھارتی نیٹ ورکس کا بھانڈا پھوڑا ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف جعلی خبریں اور من گھڑت مواد پھیلانے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی تاریخ ساز قربانیاں

بھارت کی جانب سے لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی نمائندے نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی بے مثال قربانیوں کے اعداد و شمار عالمی برادری کے سامنے رکھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک نے خطے اور دنیا کے امن کے لیے اتنی بھاری قیمت ادا نہیں کی جتنی پاکستان نے کی ہے۔

پاکستان کا جانی و مالی نقصان (حقائق و اعداد و شمار):

  • انسانی جانوں کی قربانی: دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں پاکستان کے تقریباً 100,000 (ایک لاکھ) عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
  • معاشی تباہی: دہشت گردی کی لہر اور سیکیورٹی اقدامات کی وجہ سے قومی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا براہِ راست اور بالواسطہ معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
  • دہشت گردی کے خلاف آپریشنز: پاکستان نے رد الفساد اور ضربِ عضب جیسے متعدد کامیاب ملٹری آپریشنز کے ذریعے اپنے تمام علاقوں سے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا۔
  • پناہ گزینوں کی میزبانی: پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی دیکھ بھال کر کے خطے میں انسانی بحران کو روکنے میں پیش پیش رہا ہے۔

پاکستانی کونسلر نے کہا کہ اتنی عظیم الشان قربانیوں کے باوجود بھارت کی جانب سے پاکستان کو نشانہ بنانا دراصل اس کی اپنی ناکامیوں اور اندرونی مذہبی انتہا پسندی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

بھارت کی سرحد پار دہشت گردی: امریکہ اور کینیڈا کے کیسز کا حوالہ

پاکستان نے عالمی برادری کی توجہ اس سنگین پیش رفت کی طرف مبذول کروائی کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی اب محض جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔

کونسلر صائمہ نے امریکہ اور کینیڈا میں بھارتی حکومت کے ایماء پر تیار کیے جانے والے قتل اور ٹارگٹ کلنگ کے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیو دہلی کا یہ رویہ عالمی قوانین، دیگر ممالک کی خود مختاری اور سفارتی اخلاقیات پر کھلم کھلا حملہ ہے۔

  1. کینیڈا کا ہردیپ سنگھ نجر کیس: کینیڈین حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر بھارتی ایجنٹوں اور سفارت کاروں کو ایک کینیڈین شہری کے قتل میں ملوث قرار دیا جانا بھارتی ریاستی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے۔
  2. امریکہ میں قتل کا ناکام منصوبہ: امریکی عدالتوں میں بھارتی انٹیلی جنس اہلکار پر امریکی شہری کے قتل کی سازش تیار کرنے کے باضابطہ الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔
  3. مشرق وسطیٰ اور پاکستان میں تخریب کاری: پاکستان میں کلبھوشن یادو کی گرفتاری اور پاکستان کے اندر بھارتی ایجنٹوں کے ذریعے کروائے جانے والے ٹارگٹ کلنگز اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مودی حکومت بیرونِ ملک اپنے مخالفین کو خاموش کروانے کے لیے دہشت گردانہ حربے استعمال کر رہی ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں دہائیوں پر محیط مظالم

نیوز آرٹیکل کے اس حصے میں اقوامِ متحدہ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کا مقدمہ بھی بھرپور انداز میں اٹھایا گیا۔ پاکستانی کونسلر نے کہا کہ بھارتی غاصبانہ قبضہ اور غیر قانونی اقدامات کے باعث مقبوضہ وادی کے ملینز عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بدترین فوجی محاصرے، جبر اور بربریت کا شکار ہیں۔

5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی وفد نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی (آبادی کا تناسب) کو تبدیل کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی قرادادوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو دبانے کے لیے لاکھوں بھارتی فوجیوں کو وادی میں تعینات کیا گیا ہے جہاں ماورائے عدالت قتل، صحافیوں کی گرفتاری اور مواصلاتی پابندیاں روز مرہ کا معمول بن چکی ہیں۔

عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے فوری اپیل

پاکستان نے اپنے بیان کے اختتام پر اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک رویے کا فوری نوٹس لیں۔

پاکستان نے مطالبہ کیا کہ:

  • بھارت کو امریکہ، کینیڈا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں کی جانے والی ٹارگٹ کلنگز اور تخریبی کارروائیوں پر جوابدہ بنایا جائے۔
  • اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی القرارات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا کا بنیادی اور آئینی حقِ خودارادیت دلایا جائے۔
  • بھارت کے اندر اقلیتوں (مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں) پر بڑھتے ہوئے شدید مظالم اور ان کی نسل کشی کے خطرات کا نوٹس لیا جائے۔

سفارتی ماہرین کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے اس اعلیٰ ترین فورم پر پاکستان کی جانب سے دیے گئے حقائق پر مبنی جواب نے عالمی سطح پر بھارتی بیانیے کو شدید زائل کیا ہے اور نیو دہلی کے اس چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے جو خود کو جمہوریت کا دعویدار بتاتا ہے مگر عملی طور پر ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔