Preloader
US Afghanistan War Commission Delegation Meets Field Marshal Asim Munir

اہم نکات (خلاصہ)

  • جی ایچ کیو میں اعلیٰ سطحی ملاقات: امریکی افغانستان وار کمیشن (Afghanistan War Commission) کے اعلیٰ سطحی وفد نے جی ایچ کیو (GHQ) راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات کی ہے۔
  • وفد کی قیادت: امریکی وفد کی مشترکہ قیادت کمیشن کی کو چیئرز شمیلہ این چوہدری (Shamila N. Chaudhary) اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن (Dr. Colin F. Jackson) نے کی۔
  • ملاقات کے اہم محور: گفتگو کے دوران پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات، افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط امریکی جنگ کے اسباق، خطے کی موجودہ سلامتی اور پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
  • پاکستان کا کلیدی کردار: ملاقات میں افغان تنازع، انخلا اور اس کے بعد خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پاکستان کے تاریخی و تزویراتی (Strategic) کردار کا اعتراف کیا گیا۔

راولپنڈی — امریکہ کے اعلیٰ سطحی ‘افغانستان وار کمیشن’ (US Afghanistan War Commission) کے ایک اہم وفد نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات سے تفصیلی ملاقات کی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطحی امریکی وفد کی قیادت کمیشن کی کو-چیئرز شمیلہ این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن کر رہے تھے۔ ملاقات میں پاک امریکہ دفاعی و سیکیورٹی تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور خاص طور پر افغانستان سے متعلق جغرافیائی و تزویراتی چیلنجز پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس دورے کو پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی سیاسی و سیکیورٹی حرکیات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی افغانستان وار کمیشن: پس منظر اور اہداف

امریکی افغانستان وار کمیشن ایک اعلیٰ سطحی دو جماعتوں (Bipartisan) پر مشتمل خودمختار کمیشن ہے، جسے امریکی کانگریس نے قائم کیا ہے۔ اس کمیشن کا بنیادی مقصد 2001 سے 2021 تک افغانستان میں امریکہ کی 20 سالہ ملٹری اور سیاسی مداخلت کا غیر جانبدارانہ اور باریک بینی سے جائزہ لینا ہے۔

امریکی کانگریس کی جانب سے اس کمیشن کی تشکیل کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ دو دہائیوں پر محیط اس طویل جنگ میں کون سی حکمتِ عملی کامیاب رہی اور کہاں غلطیاں سرزد ہوئیں۔ کمیشن کے بنیادی مقاصد اور دائرہ کار درج ذیل اہم نکات پر مشتمل ہیں:

امریکی افغانستان وار کمیشن کے اہم مقاصد:
• 2001 سے 2021 تک افغان جنگ کی فیصلہ سازی کا تاریخی تجزیہ۔
• امریکی افواج کی تعیناتی، انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں اور انخلا کے عمل کا جائزہ۔
• افغان حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی کیپیسٹی بلڈنگ (Capacity Building) کی ناکامی کی وجوہات کی نشاندہی۔
• خطے کے اہم ممالک، بالخصوص پاکستان، کے سفارتی اور ملٹری کردار کا مطالعہ۔
• مستقبل میں امریکی دفاعی پالیسی سازوں کے لیے عملی اسباق اور سفارشات کی تدوین۔

اس تناظر میں، کمیشن کے سربراہان کا جی ایچ کیو کا دورہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان جنگ کی تاریخ اور اس کے نتائج کا درست اندازہ لگانے کے لیے پاکستان کے نقطہ نظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ملاقات کے اہم خد و خال اور تبادلہ خیال کے موضوعات

جی ایچ کیو میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے افغانستان کے ماضی، حال اور مستقبل کے خد و خال پر کھل کر بات چیت کی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں پائیدار امن، استقامت اور علاقائی تعاون کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے نہ صرف دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بیش بہا جانی و مالی قربانیاں بھی دیں۔

پاکستان کے بنیادی موقف اور تحفظات کے اہم نکات:
• افغان سرزمین کا کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونا۔
• پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) پر سیکیورٹی کے موثر نظام اور بارڈر مینجمنٹ کی ضرورت۔
• افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے مسلسل امداد۔
• خطے میں دیرپا امن کے لیے تمام علاقائی اسٹیک ہولڈرز کا باہمی تعاون۔

امریکی وفد کی جانب سے کو-چیئرز شمیلہ این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن نے افغان تنازعے کے مختلف ادوار میں پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی لاجسٹک، انٹیلی جنس اور سفارتی معاونت کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں کو سراہا۔

پاک امریکہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر اثرات

افغانستان سے امریکی اور ناٹو افواج کے انخلا کے بعد سے پاک امریکہ تعلقات میں ایک نئے موڑ کا آغاز ہوا ہے۔ جہاں ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات کا زیادہ تر محور افغانستان تھا، وہیں اب دونوں ممالک اقتصادی، سیکیورٹی اور علاقائی استحکام کے مختلف ابعاد پر تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکی افغانستان وار کمیشن کے اس دورے سے درج ذیل اہم اثرات مرتب ہوں گے:

  1. تاریخی حقائق کی درستی: ماضی میں بعض مغربی حلقوں کی جانب سے افغان ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ جی ایچ کیو میں براہِ راست بریفنگ اور تبادلہ خیال سے امریکی کمیشن کو پاکستان کے اصل موقف اور جغرافیائی حقائق کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔
  2. انسدادِ دہشت گردی پر نیا تعاون: افغانستان میں متحرک کالعدم تنظیموں اور دہشت گرد گروہوں کے سدِباب کے لیے امریکہ اور پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور ٹیکنالوجی کی سطح پر رابطہ کاری کو تقویت مل سکتی ہے۔
  3. بارڈر سیکیورٹی اور بارڈر مینجمنٹ: پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے اور چیک پوسٹوں کے قیام کے معاملے پر پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لے کر امریکہ مستقبل کی سرحدی حکمتِ عملی کے لیے بہتر تجاویز مرتب کر سکے گا۔

موجودہ افغان صورتحال اور چیلنجز

افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان کو متعدد نوعیت کے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں کابل کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط قائم رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف سرحد پار سے بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں پر اسلام آباد نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

چیلنج / موضوعموجودہ صورتحال اور اثرات
سرحدی سیکیورٹیسرحد پار سے عسکریت پسندوں کی دراندازی کو روکنے کے لیے پاک فوج کی سخت تر کارروائیاں۔
انسانی بحرانافغان عوام کی معاشی بدحالی اور عالمی برادری کی جانب سے بینکنگ پابندیوں کا اثر۔
کالعدم تنظیمیںافغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے کابل پر مسلسل سفارتی دباؤ۔
علاقائی رابطہ کاریپاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کا افغانستان میں استحکام کے لیے مشترکہ عزم۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی وفد کے درمیان اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کا حتمی اور پرامن حل صرف اسی صورت ممکن ہے کہ عالمی برادری اور علاقائی ممالک مل کر ایک تعمیری اور تعارف پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کریں۔

ایڈیٹوریل تجزیہ: مستقبل کا راستہ

امریکی وار کمیشن کا یہ دورہ محض ایک تاریخی جائزہ نہیں ہے، بلکہ یہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان سیکیورٹی کے شعبے میں جاری رابطہ کاری کا ایک اہم حصہ ہے۔ دو دہائیوں پر محیط افغان جنگ نے جہاں امریکہ کو کئی تلخ اسباق سکھائے، وہیں پاکستان نے بھی اس کا براہِ راست خمیازہ بھگتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے بغیر جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں معاشی ترقی اور رابطہ کاری کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس ملاقات سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ امریکی کمیشن اپنی حتمی رپورٹ میں پاکستان کے مثبت اور فعال کردار کو شامل کرے گا، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے مابین قائم باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل میں انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی سیکیورٹی کی مشترکہ پالیسیوں کو درست سمت دینے میں بھی مدد ملے گی۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔