Preloader
District government checks on health issues

اہم نکات (خلاصہ)

  • ڈسپنسریوں کا دورہ: ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے سندھ یونیورسٹی پی پی ایچ آئی ڈسپنسری، گورنمنٹ ڈسپنسری ایل ایس بی کالونی اور پی پی ایچ آئی جمعو خان شورو ڈسپنسری کا تفصیلی معائنہ کیا۔
  • ویکسین کی دستیابی اور ہدایات: طبی مراکز پر اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) کے اسٹاک اور سہولیات کی جانچ کی گئی، اور جانوروں کے کاٹنے کے متاثرین کو بلا تاخیر مفت طبی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا گیا۔
  • عوامی آگاہی و احتیاطی تدابیر: کتے یا دیگر جانوروں کے کاٹنے پر زخم کو صابن اور پانی سے 15 منٹ تک دھونے، ٹو Psych/گھریلو ٹوٹکوں سے پرہیز کرنے اور پورا ویکسین کورس مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
  • ضلعی و طبی حکام کی شرکت: دورے کے موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) جامشورو ڈاکٹر پیر منظور احمد اور پی پی ایچ آئی کے ڈاکٹرز سمیت دیگر سینئر افسران بھی ہمراہ تھے۔

جامشورو (رپورٹ: محمد نصیر ساگر): سگ گزیدگی (کتوں کے کاٹنے) اور ریبیز (الکلائے کتے کا باؤلاپن) کے خطرات سے عوام کو محفوظ رکھنے اور ضلعی سطح پر صحت کے مراکزمیں اینٹی ریبیز ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے انتظامی سطح پر اہم اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی اور پی پی ایچ آئی (PPHI) کے زیرِ انتظام قائم مختلف ڈسپنسریوں کا دورہ کیا اور ریبیز سے بچاؤ کے حوالے سے محکمہ صحت کی جانب سے کیے گئے انتظامات اور دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اس معائنے کا بنیادی مقصد دیہی اور شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو آوارہ کتوں یا دیگر جانوروں کے کاٹنے کی صورت میں فوری، بلا معاوضہ اور معياری علاج فراہم کرنا ہے تاکہ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث پیدا ہونے والے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

طبی مراکز کا تفصیلی جائزہ اور ویکسین کی دستیابی کی جانچ

اپنے دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے سندھ یونیورسٹی پی پی ایچ آئی ڈسپنسری، گورنمنٹ ڈسپنسری ایل ایس بی کالونی جامشورو اور پی پی ایچ آئی جمعو خان شورو ڈسپنسری کا خصوصی دورہ کیا۔ انہوں نے ڈسپنسریوں کے شعبہ معائنہ، ادویات کے ذخائر اور اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) کی دستیابی کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔

ڈپٹی کمشنر نے وہاں موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے سے گفتگو کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سگ گزیدگی کا کوئی بھی کیس سامنے آنے پر متاثرہ شخص کو کسی انتظامی تاخیر کے بغیر فوری طور پر اینٹی ریبیز ویکسین اور فرسٹ ایڈ (ابتدائی طبی امداد) دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت کے ان مراکز پر ویکسین کی شارٹیج (کمی) کا کوئی جواز قبول نہیں کیا جائے گا اور انتظامیہ تمام مراکز پر وافر مقدار میں اسٹاک برقرار رکھنے کی پابند ہوگی۔

ریبیز کی نوعیت اور ابتدائی طبی امداد سے متعلق طبی ہدایات

معائنے کے بعد ذرائع ابلاغ اور طبی عملے سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے کہا کہ ریبیز ایک انتہائی خطرناک، جان لیوا اور وائرل بیماری ہے، جس کے علامات ظاہر ہونے کے بعد علاج تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ تاہم، بروقت احتیاط، صحیح طریقے سے زخم کی صفائی اور ویکسینیشن کے مکمل کورس کے ذریعے اس بیماری سے 100 فیصد بچاؤ ممکن ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے عوام الناس اور متاثرہ افراد کے لیے درج ذیل اہم طبی و احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی زوردار اپیل کی:

  • زخم کی فوری صفائی: اگر کسی شخص یا بچے کو کتا، بلی یا کوئی بھی آوارہ جانور کاٹ لے یا خراش لگا دے تو سب سے پہلے متاثرہ جگہ کو صابن اور صاف بہتے ہوئے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک مسلسل اور اچھی طرح دھوئیں۔
  • گھریلو ٹوٹکوں سے مکمل پرہیز: اکثر دیہی یا پسماندہ علاقوں میں لوگ روایتی طور پر زخم پر لال مرچ، راکھ، تیل، یا دیگر گھریلو مادہ لگا دیتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا کہ ایسے ٹوٹکے انفیکشن کو مزید بڑھاتے ہیں اور وائرس کو جسم میں تیزی سے پھیلنے کا موقع دیتے ہیں، لہٰذا ان سے مکمل پرہیز کیا جائے۔
  • بروقت طبی رجوع: زخم دھونے کے بعد بغیر کسی تاخیر کے قریبی سرکاری ڈسپنسری یا اسپتال منتقل ہو کر ماہر ڈاکٹر کے مشورے سے اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) اور ایمونوگلوبولن (Anti-Rabies Immunoglobulin) کا کورس شروع کیا جائے۔
  • ویکسین کا مکمل کورس: ویکسین کی پہلی خوراک کے بعد ڈاکٹر کی بتائی گئی مقررہ تاریخوں پر باقی تمام ڈوز (مکمل کورس) لازمی طور پر لگوائیں، کیونکہ ادھورا علاج بیماری کے خطرے کو ختم نہیں کرتا۔

عوامی آگاہی مہم اور بینرز کا معائنہ

بیماریوں پر قابو پانے کے لیے آگاہی کو بنیادی ڈھال قرار دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے ڈسپنسریوں اور صحت کے مراکز پر ریبیز کے خطرات، علامات اور بچاؤ کی تدابیر پر مبنی آویزاں کیے گئے سائن بورڈز اور بینرز کا معائنہ کیا۔

انہوں نے محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کے حکام کو ہدایت کی کہ ان معلوماتی بینرز کو نہ صرف ڈسپنسریوں کے اندر بلکہ شاہراہوں، تعلیمی اداروں اور گنجان آباد دیہی علاقوں میں بھی نمایاں مقامات پر لگایا جائے تاکہ عام شہری اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کے بارے میں بیدار ہو سکیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے والدین کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کو آوارہ، بیمار یا غیر معمولی رویہ رکھنے والے جانوروں کے پاس جانے سے روکیں اور اپنے گھروں میں رکھے گئے پالتو جانوروں (کتوں اور بلیوں) کو بروقت اینٹی ریبیز ویکسین لازمی لگوائیں۔

پاکستان میں ریبیز کا پس منظر اور ضلعی چیلنجز

سندھ سمیت ملک بھر میں آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ اور سگ گزیدگی کے واقعات ایک سنگین عالمی و قومی صحت کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ صحت عامہ کے عالمی ادارے (WHO) اور طبی ڈیٹا کے مطابق ریبیز کے حوالے سے موجودہ صورتحال درج ذیل اہم حقائق کو ظاہر کرتی ہے:

  • سالانہ اموات کا تخمینہ: پاکستان میں ہر سال اندازاً 2,000 سے 5,000 کے قریب افراد سگ گزیدگی اور ریبیز کی بروقت ویکسین نہ ملنے کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
  • بچوں کی حساسیت: ریبیز کا شکار ہونے والے کل افراد میں سے تقریباً 40 فیصد تعداد 15 سال سے کم عمر بچوں کی ہوتی ہے، جو اکثر کھیلتے ہوئے یا اسکول آتے جاتے وقت جانوروں کے حملے کا نشانہ بنتے ہیں۔
  • ویکسین کی عدم دستیابی کا مسئلہ: ماضی میں نجی میڈیکل اسٹورز پر اینٹی ریبیز ویکسین کی گرانی اور نایابی کی وجہ سے غریب طبقات کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس کے بعد حکومتِ سندھ نے تمام بنیادی مراکزی صحت (BHUs) اور ڈسپنسریوں پر مفت ویکسین کی فراہمی کے احکامات جاری کیے۔

جامشورو جیسے تعلیمی اور نیم شہری ضلع میں جہاں سندھ یونیورسٹی، لمس اور دیگر تعلیمی ادارے اور وسیع دیہی آبادیاں واقع ہیں، وہاں آوارہ کتوں کے کنٹرول اور ویکسین کی بلاتعطل فراہمی انتہائی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

حکام کی شرکت اور مستقبل کا لائحہ عمل

ڈپٹی کمشنر جامشورو کے اس دورے کے دوران ضلعی صحت کے سینئر حکام اور شعبہ صحت کے ذمہ داران بھی موجود تھے، جن میں شامل ہیں:

  • ڈاکٹر پیر منظور احمد (ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر – DHO جامشورو)
  • پی پی ایچ آئی (PPHI) کے ڈسٹرکٹ اینڈ میڈیکل آفیسرز
  • مختلف ڈسپنسریوں کے انچارج ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف

حکام نے ڈپٹی کمشنر کو یقین دہانی کرائی کہ اضلاع کے تمام بنیادی صحت کے مراکزمیں اینٹی ریبیز ویکسین کی وافر مقدار موجود ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملہ 24 گھنٹے الرٹ رہے گا۔

مقامی سماجی اور طبی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر کے اس تحریکی دورے اور ریبیز جیسے حساس موضوع پر عوامی بیداری کی کوششوں کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ویکسینیشن کی دستیابی کے ساتھ ساتھ میونسپل کمیٹیوں کے تعاون سے آوارہ کتوں کی آبادی کو سائنسی بنیادوں (مثلًا نیوٹرنگ اور ربیز ویکسینیشن مہمات) کے ذریعے کنٹرول کرنے کے لیے پائیدار اقدامات بھی کیے جائیں۔