اہم نکات (خلاصہ) پابندیوں میں سختی کا خوف: امریکہ کی جانب سے اقتصادی محاصرے اور اقتصادی پابندیوں میں مزید سختی کے خدشات کے پیشِ نظر ایرانی شہریوں میں شدید تشویش اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ خوراک اور ادویات کی ذخیرہ اندوزی: ممکنہ شدید قحط اور ضروری اشیاء کی قلت سے بچنے کے لیے عام شہریوں نے روزمرہ اشیائے خورونوش اور حیاتیاتی ادویات کی خریداریاں تیز کر کے ذخیرہ اندوزی شروع کر دی ہے۔ معاشی دباؤ اور افراطِ زر: ایران میں مقامی کرنسی (ریال) کی قدرافتادگی اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث عام آدمی کی قوتِ خرید شدید متاثر ہو چکی ہے۔ انسانی بحران کا خدشہ: معاشی و طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ادویات اور بنیادی خوراک کی سپلائی چین متاثر ہوئی تو ملک کو ایک بڑے انسانی و طبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تہران (مانیٹرنگ ڈیسک): امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر اقتصادی محاصرے اور مالیاتی پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید سخت کیے جانے کی اطلاعات کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں عوامی سطح پر شدید پریشانی اور بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ تہران، اصفہان اور شیراز سمیت اہم شہروں میں شہری اس خوف سے خوراک، بنیادی راشن اور ضروری ادویات کا ذخیرہ کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ملک کو اشیائے ضرورت کی شدید اور ہنگامی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں ایرانی کرنسی کی مسلسل گرتی ہوئی قدر اور سپلائی چین کی ممکنہ معطلی نے عوام کو پیشگی خریداریاں کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث سپر مارکیٹوں اور فارمیسیوں پر شہریوں کا غیر معمولی rush اور ازدحام نظر آ رہا ہے۔ عوامی ردِعمل اور مارکیٹوں کی موجودہ صورتحال تہران کی مرکزی منڈیوں اور گروسری اسٹورز کے تاجروں کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران خشک راشن، جیسے چاول، آٹا، کوکنگ آئل، دالیں اور ڈبہ بند غذاؤں کی مانگ میں اچانک کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ شہری اپنی ماہانہ ضرورت سے زیادہ راشن خرید کر گھروں میں محفوظ کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں پابندیوں کے سبب اگر قیمتیں مزید بڑھیں یا سامان مارکیٹ سے غائب ہو تو بنیادی ضروریات متاثر نہ ہوں۔ اسی طرح طبی شعبے میں بھی ملتا جلتا صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دائمی بیماریوں (مثلاً شوگر، بلڈ پریشر، کینسر اور دل کے امراض) میں مبتلا مریض اور ان کے لواحقین فارمیسیوں کے چکر کاٹ رہے ہیں تاکہ چند ماہ کی ضروری ادویات پہلے سے حاصل کر سکیں۔ اگرچہ طبی مصنوعات اور ادویات بظاہر بین الاقوامی پابندیوں کی استثنیٰ فہرست میں شامل ہوتی ہیں، تاہم ایران کے بین الاقوامی بینکنگ نظام (SWIFT) سے کٹے ہونے کی وجہ سے ان ادویات کی درامد کے لیے ادائیگیوں کا عمل انتہائی پیچیدہ اور مشکل ہو چکا ہے۔ امریکی پابندیوں کا پس منظر اور تجارتی محاصرہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے، تاہم سنہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2015 کے عالمی ایٹمی معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ علیحدگی کے بعد سے ایران پر انتہائی سخت معاشی پابندیاں عائد کی گئیں۔ امریکی انتظامیہ نے اپنی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” (Maximum Pressure) کی پالیسی کے تحت درج ذیل اہم شعبوں کو نشانہ بنایا: تیل کی برآمدات: ایران کی معیشت کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی یعنی خام تیل کی عالمی فروخت پر سخت ترین قدغنیں لگائیں۔ بینکاری اور مالیاتی نظام: ایرانی مرکزی بینک سمیت تمام تجارتی بینکوں کو عالمی مالیاتی نیٹ ورک اور ڈالر کی لین دین سے محروم کر دیا گیا۔ صنعتی و تجارتی شعبہ: پیٹروکیمیکلز، دھات کاری اور دیگر اہم برآمدی صنعتوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ حال ہی میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے ان پابندیوں کے نفاذ میں مزید سختی لانے اور تھرڈ پارٹی کمپنیوں (جو ایران سے تجارتی روابط رکھتی ہیں) کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے اشاروں نے ایرانی مارکیٹ میں بے یقینی کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ معاشی اشاریے اور عام آدمی کی قوتِ خرید طویل عرصے سے جاری معاشی محاصرے نے ایران کی داخلی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکومتی اور غیر حکومتی ڈیٹا کے مطابق ملک کو درج ذیل معاشی چیلنجز کا سامنا ہے: کرنسی کی قدر میں کمی: ایرانی ریال (IRR) امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی ترین نچلی سطح پر پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے تمام در آمدی اشیاء انتہائی مہنگی ہو گئی ہیں۔ افراطِ زر (مہنگائی): ملک میں سالانہ افراطِ زر کی شرح مسلسل 40 سے 50 فیصد کے درمیان ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس نے عام شہریوں بالخصوص دیہاڑی دار اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ ادویات کی قلت: مقامی سطح پر ادویات بنانے کی صنعت موجود ہونے کے باوجود 30 سے 40 فیصد خام مال اور جدید ادویات غیر ملکی درامدات پر منحصر ہیں، جو پابندیوں کی وجہ سے وقت پر پہنچنے میں ناٹک کا شکار رہتی ہیں۔ انسانی بحران کے خدشات اور عالمی ردِعمل اقوامِ متحدہ اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے ماضی میں بھی اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگرچہ اقتصادی پابندیاں حکومتوں کو سیاسی مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے لگائی جاتی ہیں، لیکن ان کا سب سے زیادہ اثر عام اور بے گناہ شہریوں پر پڑتا ہے۔ طبی ماہرین اور عالمی ریڈکراس کی رپورٹوں کے مطابق مالیاتی پابندیوں کے سبب جیورنبل ادویات اور جدید طبی آلات کی درامد میں رکاوٹوں کے باعث ایرانی اسپتالوں کو سنگین مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بینکنگ راستوں کو مزید مسدود کیا تو انسانی بنیادوں پر غذائی اجناس اور میڈیکل سپلائی کی فراہمی بالکل رک سکتی ہے، جو ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دے گی۔ ایرانی حکومت کا موقف اور تدابیر ایرانی حکام نے امریکی پابندیوں کو “اقتصادی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن ملک کے عوام میں نفاق اور مایوسی پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ تجارت اور وزارتِ صحت کے حکام نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں بنیادی اشیائے خورونوش اور ادویات کا کافی ذخیرہ موجود ہے اور شہریوں کو خوفزدہ ہو کر غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کرنا چاہیے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پڑوسی ممالک اور ایشیائی اتحادیوں کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں تجارت اور متبادل مالیاتی راستوں کے ذریعے ضروری سامان کی درامد کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، عام شہریوں کا کہنا ہے کہ بازار میں مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں اور سامان کی نایابی حکومتی دعووں کے برعکس ایک تلخ حقیقت کو بیان کرتی ہے۔ صورتحال کے آیندہ اثرات اگر امریکہ کی جانب سے اقتصادی گھیراؤ کو مزید سخت کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے پر بھی اس کے گہرے سیاسی اور معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ جہاں ایک طرف ایرانی عوام کی معاشی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے معاشی دباؤ سے خودمختار تجارتی راستوں کی تلاش اور غیر رسمی معیشت کو تو فروغ مل سکتا ہے، لیکن عام شہری کے کچن کا بجٹ اور صحتی سہولیات مزید ابتر ہوتی چلی جائیں گی۔ Post navigation امریکہ میں 12 کروڑ ڈالر سے زائد کا جعلی پوسٹیج اسکینڈل: خانیوال کے رہائشی پاکستانی شہری پر فردِ جرم عائد