Preloader
UN Chief lauds Pakistan’s mediation efforts

اہم نکات:

  • عالمی اعزاز: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو پاکستان کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’نشانِ امتیاز‘ سے نواز دیا گیا۔
  • سفارتی کاوشوں کا اعتراف: سیکرٹری جنرل نے امریکہ-ایران بندیِ نزاع (سیز فائر)، اسلام آباد یادداشتِ سمجھوتہ (MoU) اور آئندہ کے مذاکراتی فریم ورک کی تشکیل میں پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہا۔
  • تصفیہ و ثالثی: اقوام متحدہ کی جانب سے کشیدگی میں کمی، تنادعات کے حل اور بین الاقوامی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی جدوجہد کی تعریف کی گئی۔
  • تاریخی شراکت داری: عالمی امن مشنز (UN Peacekeeping) اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے فروغ میں پاکستان کا دیرینہ اور کلیدی کردار اجاگر کیا گیا۔

اسلام آباد: اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں، ثالثی کے فعال کردار اور عالمی و علاقائی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی پالیسی کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی قیادت کی دانشمندانہ پالیسیوں اور مسلسل سفارتی تحرک کے نتیجے میں ’اسلام آباد یادداشتِ سمجھوتہ‘ (MoU)، امریکہ اور ایران کے درمیان بندیِ نزاع (سیز فائر) اور مستقبل کے پائیدار مذاکرات کا بنیادی فریم ورک ممکن ہو سکا۔

اس اہم پیش رفت اور سیکرٹری جنرل کی اقوامِ متحدہ کے لیے عظیم خدمات و پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعاوّن کے اعتراف میں، ایوانِ صدر اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صدرِ مملکت نے انتونیو گوٹیرس کو پاکستان کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’نشانِ امتیاز‘ سے نوازا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی آمد اور اعلیٰ ترین اعزاز کی تفویض

ایوانِ صدر میں منعقدہ پروقار تقریب میں وزیراعظم، وفاقی وزراء، عسکری قیادت اور سفارتی برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ صدرِ مملکت نے عالمی امن، آب و ہوا کی تبدیلی (Climate Change) کے خلاف جنگ، اور مظلوم اقوام کی آواز بننے پر انتونیو گوٹیرس کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

تقریب کے دوران انتونیو گوٹیرس کو دیے جانے والے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ‘نشانِ امتیاز’ کا سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ گوٹیرس نے نہ صرف عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کے مقاصد کو آگے بڑھایا، بلکہ پاکستان میں قدرتی آفات اور معاشی چیلنجز کے مواقع پر بھی عالمی برادری کی توجہ پاکستان کی طرف مبذول کروانے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔

اعزاز حاصل کرنے کے بعد اپنے خطاب میں سیکرٹری جنرل نے پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:

“پاکستان کا اقوامِ متحدہ کے ساتھ رشتہ محض باہمی تعلق کا نہیں بلکہ امن اور انسانیت کے لیے مشترکہ عزم کا نام ہے۔ اقوامِ متحدہ پاکستان کی امن پسندانہ پالیسیوں اور سفارتی بصیرت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔”

اسلام آباد معاہدہ اور امریکہ-ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کا سفارتی معجزہ

مڈل ایسٹ اور بین الاقوامی افق پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان کا کردار حالیہ تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خصوصی طور پر ان تین اہم پیش رفتوں پر پاکستان کی تعریف کی:

  1. اسلام آباد یادداشتِ سمجھوتہ (Islamabad MoU): علاقائی امن و امان کی بحالی اور فریقین کو ایک میز پر لانے کے لیے پاکستان میں ہونے والی بین الاقوامی گفت و شنید۔
  2. امریکہ-ایران بندیِ نزاع (US-Iran Ceasefire): مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے اور تباہ کن تصادم کو روکنے کے لیے پاکستان کے پائیدار اور غیر جانبدارانہ سفارتی تعلقات کا مؤثر استعمال۔
  3. مستقبل کا مذاکراتی فریم ورک: وقتی سیز فائر کے ساتھ ساتھ دائمی امن کی بحالی کے لیے آئندہ کے جامع مذاکرات کے خاکہ کی تیاری۔

سیکرٹری جنرل نے زور دے کر کہا کہ اگر پاکستان کی قیادت کی جانب سے بروقت اور دانشمندانہ ثالثی کا عمل شروع نہ کیا جاتا تو علاقائی کشیدگی ایک ہمہ گیر جنگ کی شکل اختیار کر سکتی تھی جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑتے۔

اعداد و شمار کی روشنی میں: پاکستان اور اقوامِ متحدہ کا تاریخی تعاوّن

پاکستان دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کا ایک متحرک، فعال اور ذمہ دار رکن رہا ہے۔ مختلف عالمی محاذوں اور امن مشنز میں پاکستان کی خدمات اعداد و شمار کی روشنی میں درج ذیل ہیں:

  • امن مشنز میں پیش پیش: پاکستان 1960ء سے اقوامِ متحدہ کے پیس کیپنگ مشنز (UN Peacekeeping) کا حصہ ہے اور اب تک 2 لاکھ سے زائد پاکستانی فوجی و سویلین اہلکار 46 سے زائد عالمی مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
  • عظیم قربانیاں: عالمی امن کی بحالی کی خاطر اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے 160 سے زائد پاکستانی جلاوطن اور فوجی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
  • خواتین کی نمائندگی: اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان نے خاتون پولیس اور ملٹری آفیسرز کے خصوصی دستے بھیج کر صنف کی مساوات اور امنِ عامہ کے قیام کا نیا معیار قائم کیا۔
  • مہاجرین کی میزبانی: پاکستان گزشتہ 4 دہائیوں سے 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر کے انسانیت اور عالمی یکجہتی کی بہترین مثال قائم کیے ہوئے ہے۔

تنازعات کے حل میں پاکستان کا باوقار اور غیر جانبدارانہ اندازِ فکر

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق، پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی “سب کے ساتھ دوست، کسی کے ساتھ دشمنی نہیں” کے اصول پر گامزن ہے۔ امریکہ، چین، روس اور مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک کے ساتھ یکساں اور متوازن تعلقات نے پاکستان کو ایک ایسے بااعتماد ثالث کا درجہ دے دیا ہے جس کی بات کو تمام فریقین سنجیدگی سے سنتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے اپنے بیانات میں اس بات کا اعادہ کیا کہ دنیا اس وقت شدید دھڑے بندی کا شکار ہے، ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کا غیر جانبدار رہتے ہوئے ڈائیلاگ (گفتگو)، میڈی ایشن (ثالثی) اور ڈی ایسکلیشن (کشیدگی میں کمی) کو فروغ دینا ایک نعمت کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین جیسے طویل المدتی تنازعات کا حل بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور باہم بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور پاکستان کا اس اصولی موقف پر قائم رہنا قابلِ تحسین ہے۔

عالمی اور علاقائی سطح پر اثرات

اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے اس دورے اور اعتراف سے پاکستان کے سفارتی وقار میں نماءیں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے اہم اثرات درج ذیل صورتوں میں سامنے آئیں گے:

1. عالمی اعتماد میں اضافہ

سیکرٹری جنرل کی جانب سے پاکستان کو ایک “امن پسند اور ثالث ملک” قرار دیے جانے سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا امیج مزید بہتر ہوگا، جس سے سیاحت، تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔

2. سیکیورٹی کونسل میں بااثر کردار

پاکستان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے اپنے اس سفارتی اثاثے کو عالمی تنازعات کی منصفانہ حل پر مؤثر طریقے سے استعمال کر سکے گا۔

3. معاشی اور سفارتی استحکام

امریکہ، ایران اور دیگر طاقتور ممالک کے درمیان کامیاب ثالثی کے باعث پاکستان خطے میں معاشی اور تجارتی راہداریوں کی تحفظ کو یقینی بنانے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔

ایڈیٹوریل نوٹ اور حاصلِ کلام

سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کا دورۂ پاکستان اور ‘نشانِ امتیاز’ کا عطیہ صرف ایک انتظامی تقریب نہیں بلکہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سفارتکاری کی ایک بڑی فتح ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا جنگوں اور اقتصادی بحرانوں سے گھری ہوئی ہے، پاکستان کی جانب سے امن، توازن اور مذاکرات کا راستہ دکھانا یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم اور ذمہ دار ملک ہے۔

عالمی برادری کے ساتھ اقوامِ متحدہ کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کی ان کاوشوں کا نہ صرف اعتراف جاری رکھے بلکہ علاقائی استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے پاکستان کا ہاتھ بٹائے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔