Preloader
Public protested against PPHI center

📌 خبر کے اہم نکات (خلاصہ)

  • مبینہ بدعنوانی: تحصیل دوداپور کے پی پی ایچ آئی (PPHI) مرکز میں ڈلیوری وظیفے کی رقم اپ ڈیٹ کرنے کے عوض مبینہ طور پر رشوت طلب کرنے کا انکشاف۔
  • انکوائری کی منسوخی: ڈی ایم او جیکب آباد کی جانب سے مقرر کردہ انکوائری کے لیے دور دراز سے آئے متاثرہ مرد و خواتین افسر کی عدم موجودگی پر شدید پریشان ہوئے۔
  • شدید احتجاج: محبت کٹوہر، فاطمہ بلوچ، بلقیس شیخ اور دیگر شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
  • حکام کا موقف: ڈی ایم او جنسار بھٹی کا کہنا ہے کہ وہ اہم سرکاری کام کے سلسلے میں سکھر میں تھے، انکوائری اب جمعرات کو کی جائے گی۔

جیکب آباد: عوامی مسائل اور انتظامی غفلت کی گونج

جیکب آباد (خاص رپورٹ): سندھ کے ضلع جیکب آباد کی تحصیل دوداپور میں بنیادی صحت کے مرکز (PPHI) میں مبینہ رشوت خوری اور انتظامی عدم توجہی کا ایک شدید واقعہ سامنے آیا ہے۔ ڈلیوری وظیفے کی رقم کی آپ ڈیشن کے نام پر غریب شہریوں سے مبینہ طور پر رشوت طلب کیے جانے کی شکایت پر جہاں ایک طرف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب انکوائری افسر کی وقت پر عدم دستیابی نے انتظامیہ کے سنجیدہ رویے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق، مرکزِ صحت میں مبینہ طور پر غریب اور مستحق خواتین سے حکومت کی جانب سے ملنے والے مالی امدادی وظیفے کو فعال کرنے کے لیے ناجائز رقم کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، جس کی شکایت پر ڈسٹرکٹ منیجر آفیس (DMO) جیکب آباد جنسار بھٹی نے نوٹس لیتے ہوئے ایک باضابطہ انکوائری کا حکم دیا تھا۔ تاہم، طے شدہ دن پر جب متاثرہ مرد و خواتین سخت گرمی اور سفری صعوبتیں برداشت کر کے پہنچے، تو انکوائری افسر کی غیر موجودگی نے حالات کو مزید کشیدہ کر دیا۔

متاثرین کا سڑکوں پر احتجاج اور شدید نعرے بازی

انکوائری منسوخ ہونے اور متعلقہ افسر کے نہ پہنچنے پر متاثرہ شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ محبت کٹوہر، فاطمہ بلوچ، بلقیس شیخ اور دیگر درجنوں متاثرہ خواتین و مردوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ:

  1. سفر کی صعوبتیں: انہیں دور دراز کے دیہاتوں اور گوٹھوں سے انکوائری کے لیے خصوصی طور پر بلایا گیا تھا، جہاں پہنچنے کے لیے انہوں نے کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کی۔
  2. انتظامی لاپروائی: گھنٹوں انتظار کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ انکوائری افسر موجود ہی نہیں ہیں، جو کہ عوامی وقت اور جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
  3. معاشی استحصال: غریب خواتین سے ان کے حق کی رقم (ڈلیوری وظیفہ) دینے کے عوض رشوت کا مطالبہ کیا جانا کھلم کھلا ظلم ہے۔

مظاہرین نے سندھ حکومت، محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کے اعلیٰ حکام سے مطالبات کیے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور مبینہ رشوت خوری میں ملوث اہلکاروں سمیت انکوائری میں تاخیر کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی و ڈسپلنری کارروائی کی جائے۔

ڈی ایم او جیکب آباد کا موقف: مجبوری کا عذر اور نیا شیڈول

اس صورتحال اور عوامی احتجاج کے پیش نظر جب ڈسٹرکٹ منیجر (DMO) جنسار بھٹی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی عدم موجودگی قصداً نہیں تھی۔

  • سکھر میں سرکاری مصروفیت: ڈی ایم او کے مطابق، انہیں ایک انتہائی اہم اور ناگزیر سرکاری کام کے سلسلے میں اچانک سکھر جانا پڑا، جس کے باعث وہ دوداپور کے پی پی ایچ آئی مرکز نہیں پہنچ سکے۔
  • نئی تاریخ کا اعلان: انہوں نے واضح کیا کہ انکوائری ختم نہیں کی گئی بلکہ صرف ملتوی ہوئی ہے، اور وہ جمعرات کے روز خود دوداپور مرکز پہنچ کر شہریوں کی شکایات سنیں گے اور معاملے کی شفاف تحقیقات مکمل کریں گے۔

پس منظر: پی پی ایچ آئی اور زچگی کے وظائف کی اہمیت

پاکستان بالخصوص سندھ کے دہی علاقوں میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشیٹو (PPHI) بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

  • حکومتی وظیفہ کا مقصد: حکومتِ سندھ کی جانب سے دیہی علاقوں کی غریب اور نادار خواتین میں زچگی (Delivery) کے دوران صحت کی بہتر سہولیات کو یقینی بنانے اور غذائی ضرورت پورا کرنے کے لیے ایک خاص رقم بطور وظیفہ دی جاتی ہے۔
  • سسٹم کی خامی: اس رقم کے حصول کے لیے کاغذی کارروائی اور ڈیٹا کی آن لائن آپ ڈیشن لازمی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے، مختلف مراکز میں نچلے درجے کا عملہ اس پیچیدہ مرحلے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سادہ لوح دیہاتیوں سے غیر قانونی کٹوتی یا رشوت کا مطالبہ کرتا ہے، جس سے اس فلاحی منصوبے کی افادیت کو نقصان پہنچتا ہے۔

عوام اور نظام کے درمیان بڑھتا ہوا خلیج

سندھ کے دیہی اضلاع میں اس طرح کے واقعات پہلی بار سامنے نہیں آئے۔ جب بھی عوام اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، تو اکثر اوقات انہیں دفتری پیچیدگیوں اور تاخیری حربوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شہری تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ:

  • اگر وقت پر انکوائری مکمل کر کے ملوث افراد کو سزا نہ دی گئی تو شہریوں کا سرکاری اداروں پر سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔
  • شفافیت کے لیے آن لائن رجسٹریشن کے عمل کو انتہائی سادہ اور نچلے درجے کے عملے کے کنٹرول سے باہر کیا جانا چاہیے۔

آگے کا راستہ: شفافیت اور جوابدہی کی اشد ضرورت

دوداپور کا واقعہ محض ایک انکوائری کی منسوخی یا احتجاج کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات اور عوامی حقوق کی فراہمی میں موجود دفتری رکاوٹوں کا عکاس ہے۔

اب نظریں جمعرات کو ہونے والی انکوائری پر لگی ہیں کہ آیا ڈی ایم او جیکب آباد متاثرین کو انصاف فراہم کر پاتے ہیں یا یہ معاملہ بھی روایتی تاخیری حربوں کی نذر ہو جائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ صحت اس قسم کے مالی استحصال کے خاتمے کے لیے ایک خودکار اور شفاف نظام وضع کرے تاکہ غریب شہریوں کو ان کے حق کے لیے سڑکوں پر نہ نکلنا پڑے۔