خبر کے اہم نکات (خلاصہ) امریکی سینٹکام کا مؤقف: امریکی ملٹری سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اس دعوے کو سخت الفاظ میں رد کر دیا ہے کہ تنگہ ہرمز پر ان کا مکمل کنٹرول ہے اور وہ امریکی جنگی جہازوں کو غرق کر دیں گے۔ تند و تیز بیان: سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی نیوی کمانڈر کے پاس کوئی حقیقی نیوی نہیں ہے اور تنگہ ہرمز کا کنٹرول امریکی افواج اور ان کے علاقائی اتحادیوں کے پاس ہے۔ جیو پولیٹیکل اہمیت: تنگہ ہرمز دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے سب سے اہم ترین سمندری راستہ ہے، جہاں سے عالمی سطح پر روزانہ کروڑوں بیرل تیل کا گزر ہوتا ہے۔ علاقائی اثرات: دونوں ممالک کے درمیان اس سخت جملہ بازی نے خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی خدشات اور عالمی انرجی مارکیٹ میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی سینٹکام کا ٹویٹ اور ایرانی دعووں کی نفی واشنگٹن / دبئی (خصوصی رپورٹ): امریکی مسلح افواج کی مرکزی کمانڈ (سینٹکام) نے منگل کے روز ایران کے پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کے بحری کمانڈر کے اس حالیہ دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تنگہ ہرمز پر ایران کا مکمل تصرف ہے اور وہ قریب آنے والے کسی بھی امریکی بحری جنگی جہاز کو غرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے ایک جاری کردہ باضابطہ اور جارحانہ ردِعمل میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری قوت کی حیثیت کو چیلنج کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے لکھا: “آئی آر جی سی کے نیوی کمانڈر کے پاس کوئی حقیقی نیوی نہیں ہے۔ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی واضح طور پر تنگہ ہرمز پر مکمل کنٹرول اور نگرانی رکھتے ہیں۔” امریکی فوج کا یہ تند و تیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج فارس، بحرِ عمان اور بحیرہ احمر کے پانیوں میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی اور سیکورٹی کے حوالے سے پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ تنازع کا پس منظر: تنگہ ہرمز اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اقدامات تنگہ ہرمز (Strait of Hormuz) طویل عرصے سے ایران، امریکہ اور اس کے مغربی و علاقائی اتحادیوں کے درمیان جغرافیائی اور سیاسی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ (IRGC Navy) متواتر یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ خلیج فارس اور تنگہ ہرمز کی علاقائی حدود کی پاسبانی کرتی ہے اور عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ کا اس خطے میں وجود غیر قانونی اور بلا جواز ہے۔ ایرانی فوجی حکام کی جانب سے متعدد بار یہ بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ اگر ایران کو انرجی برآمدات سے روکا گیا یا اس پر کوئی حملہ ہوا تو وہ اس اہم سمندری گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کر دیں گے۔ دوسری جانب، امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت سمندری حدود میں آزادیِ جہاز رانی (Freedom of Navigation) کو قائم رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ کسی بھی ملک کو اس اہم تجارتی راستے میں رکاوٹ ڈالنے نہیں دیں گے۔ تنگہ ہرمز کی عالمی اور معاشی اہمیت: اعداد و شمار کی روشنی میں تنگہ ہرمز کو دنیا کے تمام انرجی ‘چوک پوائنٹس’ (Choke Points) میں سب سے اہم ترین سمجھا جاتا ہے۔ اس تنگ سمندری راستے کی معاشی اور تجارتی اہمیت کو ذیل میں درج اہم نکات کے ذریعے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے: عالمی تیل کا گزرگاہ: دنیا بھر میں سمندری راستے سے سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد سے 30 فیصد حصہ اسی واحد تنگہ سے ہو کر گزرتا ہے۔ روزانہ کی برآمدات: اوسطاً 2 کروڑ بیرل سے زائد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات روزانہ کی بنیاد پر تنگہ ہرمز سے عالمی منڈیوں کو منتقل ہوتی ہیں۔ ایل این جی (LNG) کی تجارتی شاہراہ: دنیا میں مائع قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ، بالخصوص قطر سے نکلنے والی گیس، اسی راستے کے ذریعے یورپ اور ایشیا پہنچتی ہے۔ تنگ ترین نقطہ: سٹریٹجک لحاظ سے یہ سمندری راستہ اپنے سب سے تنگ مقام پر صرف 21 میل (تقریباً 39 کلومیٹر) چوڑا ہے، جس میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے قائم کردہ دو طرفہ روٹس صرف 2, 2 میل چوڑی لینز پر مشتمل ہیں۔ امریکی بحری موجودگی اور علاقائی اتحاد (Regional Coalitions) امریکہ نے اپنی پانچویں بحری آرماڈا (U.S. Navy 5th Fleet) کا ہیڈ کوارٹر بحرین میں قائم کر رکھا ہے، جو خلیج فارس، بحرِ ہند اور تنگہ ہرمز کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔ امریکہ نے حالیہ سالوں میں اپنے علاقائی اور بین الاقوامی اتحادیوں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹاسک فورس بھی تشکیل دی ہے جس کا مقصد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔ سینٹکام کے اس حالیہ بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں (جن میں خلیجی ممالک اور دیگر اتحادی شامل ہیں) کے ساتھ مل کر اس خطے میں اپنی ملٹری موجودگی کو ہر حال میں قائم رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سینٹکام کی جانب سے ایرانی نیوی کو “عدم وجود” سے تشبیہ دینا امریکی ملٹری کے اس اعتماد کو ظاہر کرتا ہے جو وہ اپنی جدید تکنیکی اور سمندری برتری پر رکھتا ہے۔ عالمی منڈیوں اور سیکیورٹی پر ممکنہ اثرات امریکی سینٹکام اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان تحریری اور لفظی جنگ کے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں: تیل کی قیمتوں میں سنسنی: امریکہ اور ایران کے درمیان جب بھی تنگہ ہرمز کے معاملے پر بیان بازی یا فوجی تلخی بڑھتی ہے، عالمی مارکیٹ میں خام تیل (Brent Crude) کی قیمتوں میں اچانک اور فوری اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ سمندری انشورنس کی شرح میں اضافہ: خلیج سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کے لیے انشورنس پریمیئم (War Risk Insurance) میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے عالمی تجارت کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ فوجی تصادم کا خطرہ: دونوں ممالک کی بحری افواج کے ڈرونز، فاسٹ اٹیک بوٹس اور جنگی جہاز ایک دوسرے کے انتہائی قریب موجود رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی ایک غلط فہمی یا اشتعال انگیزی کے نتیجے میں براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ ہر وقت برقرار رہتا ہے۔ جدول: فریقین کا موقف اور موجودہ صورتحال پہلوایران (IRGC) کا موقفامریکہ (CENTCOM) کا ردِعملتنگہ ہرمز پر کنٹرولتنگہ پر کامل ایرانی تصرف اور کنٹرول کا دعویٰایرانی دعوے کی نفی؛ امریکی و اتحادی فورسز کا کنٹرولامریکہ کا بحری وجودامریکی نیوی کو خطے کے لیے خطرہ اور ناقابلِ برداشت قرار دیاایرانی بحری قوت کی نفی اور اپنی موجودگی کو قانونی و ناگزیر بتایاجنگی طاقت کا استعمالقریب آنے والے امریکی بحری جہازوں کو غرق کرنے کی دھمکیبین الاقوامی پانیوں میں آزادیِ جہاز رانی کے دفاع کا عزم ایڈیٹوریل نوٹ تنگہ ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی صورتحال اور امریکہ و ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے بیانات عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ اگرچہ اس نوعیت کی لفظی جنگ خلیج فارس میں پہلی بار دیکھنے میں نہیں آئی، لیکن موجودہ جیو پولیٹیکل حالات اور مشرقِ وسطیٰ میں مجموعی طور پر بڑھی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بیانات خطرے کی زنگار بن سکتے ہیں۔ ایک غیر جانبدار صحافتی نقطہ نظر سے، دنیا کی سب سے اہم تجارتی گزرگاہ پر سیکیورٹی کے کسی بھی بحران کو ٹالنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ سفارتی ذرائع کو بحال رکھنا اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی پاسداری کرنا ہی اس خطے اور عالمی معیشت کو کسی بڑے بحران سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ Post navigation آئی ایم ایف کی جانب سے بھارت کی اقتصادی شرح نمو کا تخمینہ بڑھا کر 7 فیصد کر دیا گیا: مضبوط ملکی طلب اور خدمات کے شعبے کی بہترین کارکردگی کا اہم کردار ریاض ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کا مہلک میزائل حملہ: سعودی عرب میں شدید جانی نقصان، مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی بحران کی نئی لہر