اہم نکات (خلاصہ) ماہرین کی رائے: نیویارک کے ماؤنٹ سائنائی فسٹر ہارٹ ہسپتال کی سینئر ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر اناپورنا کِنی کے مطابق “چقندر” (Beetroot) بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر کنٹرول کرنے والی بہترین سبزی ہے۔ طبی خصوصیات: چقندر میں نائٹریٹ (Nitrate) کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو جسم میں جا کر نائٹرک آکسائیڈ میں تبدیل ہوتی ہے اور شریانوں کو کشادہ کر کے خون کے بہاؤ کو بہتر بناتی ہے۔ غیر ادویاتی علاج: وزن میں کمی، باقاعدہ ورزش اور متوازن غذا کے ذریعے ہائی بلڈ پریشر کو ادویات کے بغیر کنٹرول کرنا ممکن ہے۔ عالمی تناظر: ہائی بلڈ پریشر دل کے دورے اور فالج کا اہم ترین سبب ہے، جس سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ ابتدائیہ ہائی بلڈ پریشر (بلند فشارِ خون) کو طب کی دنیا میں “خاموش قاتل” کا نام دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ بغیر کسی واضح علامت کے انسان کے قلبی نظام کو اندر سے کھوکھلا کرتا رہتا ہے۔ دل کی بیماریوں، فالج اور گردوں کی خرابی کا ایک بڑا سبب یہی ہائی بلڈ پریشر ہے۔ تاہم، جہاں جدید ادویات اس مرض کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہیں، وہیں طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ طرزِ زندگی اور بالخصوص غذائی عادات میں تبدیلی کے ذریعے بلڈ پریشر کو ادویات کے بغیر بھی نچلی سطح پر لایا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں نیویارک کے مشہور ‘ماؤنٹ سائنائی فسٹر ہارٹ ہسپتال’ (Mount Sinai Fuster Heart Hospital) کی معروف ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر اناپورنا کِنی (Dr. Annapoorna Kini) نے ایک خصوصی طبی رپورٹ میں بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر کم کرنے کے لیے ایک خاص سبزی کے استعمال پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر آپ واقعی ادویات کے بغیر یا ان کے ساتھ اپنے بلڈ پریشر کو متوازن رکھنا چاہتے ہیں تو چقندر (Beetroot) کو اپنی روزمرہ غذا کا حصہ بنائیں۔ چقندر میں کیا خاص بات ہے؟ سائنس اور طبی حکمتِ عملی چقندر کو طویل عرصے سے ایک انتہائی غذائیت بخش سبزی شمار کیا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ قلبی تحقیقات نے اس کی افادیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔ ڈاکٹر اناپورنا کِنی کا کہنا ہے کہ: “اگر آپ واقعی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کون سی غذا بلڈ پریشر کو تیزی سے اور مؤثر طریقے سے کم کرتی ہے، تو وہ چقندر یعنی چقندر کی جڑ ہے۔” یہ کیسے کام کرتا ہے؟ چقندر میں قدرتی طور پر ڈائٹری نائٹریٹس (Dietary Nitrates) کی بھاری مقدار موجود ہوتی ہے۔ جب ہم چقندر کھاتے ہیں یا اس کا رس پیتے ہیں، تو ہمارا جسم ان نائٹریٹس کو نائٹرک آکسائیڈ (Nitric Oxide) میں تبدیل کر دیتا ہے۔ نائٹرک آکسائیڈ خون کی نالیوں (شریانوں) کو سستے اور کشادہ کرنے کا کام کرتا ہے۔ جب خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں تو خون کا بہاؤ آسان ہو جاتا ہے اور دل کو جسم کے دیگر حصوں تک خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ زور نہیں لگانا پڑتا، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کا پس منظر اور عالمی صورتحال دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارے صحت (WHO) کی رپورٹس کے مطابق اس وقت دنیا میں 1 ارب 28 کروڑ سے زائد بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں، جن میں سے اکثریت کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں۔ پاکستان اور جنوبی ایشیائی ممالک میں غیر متوازن غذا، چکنائی کا کثرت سے استعمال، نمک کی زیادہ مقدار اور جسمانی تحرک کی کمی کے باعث یہ مرض وبا کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق 30 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کو باقاعدگی سے اپنا بلڈ پریشر چیک کرواتے رہنا چاہیے۔ کیا ادویات کے بغیر بلڈ پریشر کنٹرول ممکن ہے؟ ڈاکٹر کِنی اور دیگر بین الاقوامی طبی ماہرین کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ اگر بیماری ابتدائی مراحل میں ہو تو طرزِ زندگی میں درج ذیل 3 بڑی تبدیلیاں لا کر ادویات کے بغیر بھی نارمل بلڈ پریشر حاصل کیا جا سکتا ہے: وزن پر قابو پانا: اضافی وزن دل پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ وزن میں چند کلو کی کمی بھی بلڈ پریشر میں واضح بہتری لاتی ہے۔ باقاعدہ ورزش: روزانہ 30 منٹ کی تیز walk (پیدل چلنا) یا ہلکی ورزش شریانوں کی لچک کو برقرار رکھتی ہے۔ غذائی تبدیلی (چقندر اور DASH ڈائٹ): غذا میں نمک کی مقدار کم کرنا اور پوٹاشیم و نائٹریٹ سے بھرپور غذائیں (جیسے چقندر، پالک، اور دیگر سبز پتیوں والی سبزیوں) کو شامل کرنا۔ چقندر کو اپنی غذا میں کیسے شامل کریں؟ چقندر کا استعمال انتہائی آسان اور مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ ماہرینِ غذائیت درج ذیل طریقوں کی تجویز دیتے ہیں: تازہ چقندر کا رس: روزانہ ایک گلاس چقندر کا جوس پینا بلڈ پریشر کو فوری اور درمیانی مدت میں متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ سلاد کے طور پر: کچے چقندر کو باریک کاٹ کر یا کدوکش کر کے لیموں کے رس کے ساتھ سلاد میں استعمال کریں۔ پکا کر یا بھون کر (Roasted): چقندر کو زیتون کے تیل میں ہلکا سا بھون کر بھی کھایا جا سکتا ہے، جس سے اس کا ذائقہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ اسموتھیز (Smoothies): سیب، گاجر اور چقندر کو ملا کر بنائی گئی اسموتھی نا صرف بلڈ پریشر کے لیے بہترین ہے بلکہ خون کی کمی (Anemia) کو بھی دور کرتی ہے۔ دیگر سبزیاں اور غذائی اجزاء جو مددگار ہیں اگرچہ چقندر اس فہرست میں سرِفہرست ہے، لیکن ماہرین امراضِ قلب کے مطابق درج ذیل غذائیں بھی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے مفید ہیں: پالک اور ساگ: ان میں پوٹاشیم اور میگنیشیم کی وافر مقدار ہوتی ہے جو نمک کے منفی اثرات کو زائل کرتی ہے۔ لہسن: اس میں موجود ‘الیسن’ (Allicin) نامی جز شریانوں کو کشادہ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ بیریز (Berry fruits): ان میں اینٹی آکسیڈنٹس کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو شریانوں کی صحت کو بہتر بناتی ہے۔ ایڈیٹوریل نوٹ اور احتیاطی تدابیر چقندر کے بے شمار طبی فوائد کے باوجود، ماہرینِ صحت یہ تنبیہ بھی کرتے ہیں کہ یہ کسی طبی علاج یا ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا مکمل متبادل نہیں ہے۔ ادویات کی تبدیلی: اگر آپ پہلے سے ہائی بلڈ پریشر کی ادویات استعمال کر رہے ہیں تو اپنے ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر ادویات کا استعمال بند نہ کریں۔ گردے کے پتھری کے مریض: چقندر میں ‘آکسیلیٹس’ (Oxalates) کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس لیے جن افراد کو گردے میں پتھری کا مسئلہ ہو، وہ اس کا استعمال اپنے معالج کے مشورے سے کریں۔ ذیابیطس کے مریض: چقندر میں قدرتی مٹھاس موجود ہوتی ہے، لہٰذا ذیابیطس کے مریض اس کے جوس کے بجائے چقندر کو سالن یا سلاد کے روپ میں استعمال کریں۔ حاصلِ کلام طبی سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہماری کچن میں موجود قدرتی چیزیں ادویات جتنی ہی طاقتور ہو سکتی ہیں۔ نیویارک کے ماہرین کی یہ جدید تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ہائی بلڈ پریشر جیسے موذی مرض پر قابو پانے کے لیے مہنگی ادویات کے ساتھ ساتھ اگر قدرت کی عطا کردہ ان نعمتوں—خصوصاً چقندر—کا باقاعدگی سے استعمال کیا جائے، تو ایک صحت مند اور طویل زندگی کا خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔ Post navigation گلوبل ہنگر انڈیکس 2026 رپورٹ جاری: پاکستان میں خوراک کی سیکیورٹی، غذائی قلت اور بھوک کے بحران پر تشویشناک انکشافات