Preloader
Public protest on the rights of settlers

جمعیت علماء اسلام کی جانب سے آبادگاروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور فصلوں کے مناسب نرخ نہ ملنے کے خلاف جمعیت علماء اسلام ضلع جیکب آباد کے سیکریٹری جنرل مولانا سلیم اللہ خان بروہی کی قیادت میں جامع مسجد امروٹی سے مکی چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس کے بعد مکی چوک پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنا دیا گیا۔ احتجاج میں آبادگاروں، کسانوں، سیاسی کارکنوں اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

احتجاج میں جمعیت علماء اسلام تحصیل گڑھی خیرو کے امیر مولانا عبدالوحید بروہی، جنرل سیکریٹری اسداللہ حیدری، مولانا محکم الدین بروہی، مولانا فضل الرحمٰن مکی، وڈیرہ محمد صلاح بروہی، حاجی جان محمد جمالی، بابو محمد پناہ بروہی، منیب الرحمٰن بروہی، حاجی علی نواز، مولانا امداداللہ، وڈیرہ عبدالفتاح بروہی، محمد حنیف جکھرو، محمد سلیم کھوسو اور دیگر مقامی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور آبادگاروں کے حقوق کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ حکام سے زرعی شعبے کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر رہنماؤں نے کہا کہ آبادگار سال بھر محنت کرکے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور عوام کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ زرعی اخراجات میں مسلسل اضافے، بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور فصلوں کے مناسب نرخ نہ ملنے کے باعث آبادگار شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زرعی اشیاء کی بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری کے باعث آبادگاروں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ فصلوں کے مناسب نرخ نہ ملنے کی وجہ سے انہیں اپنی محنت اور سرمایہ کاری کا جائز معاوضہ نہیں مل رہا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ آبادگاروں کو ریلیف فراہم کرکے ان کے معاشی تحفظ کو یقینی بنائیں۔

رہنماؤں نے مزید کہا کہ سندھ کی معیشت میں زراعت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور آبادگاروں کی خوشحالی کے بغیر زرعی شعبے کی ترقی ممکن نہیں۔ آبادگاروں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ ملنے سے نہ صرف ان کے معاشی حالات متاثر ہوتے ہیں بلکہ زرعی پیداوار اور عوام کو خوراک کی فراہمی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ آبادگاروں کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فصلوں کے مناسب نرخ مقرر کیے جائیں، بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور آبادگاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔