اہم نکات (خلاصہ) اعلیٰ عسکری عہدے دار کی برطرفی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جائنٹ چیفس آف اسٹاف کے شعبہ حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلیویا کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ ایران پر حملوں کی تیاری: امریکی جریدے ‘دی اٹلانٹک’ کے مطابق یہ غیر معمولی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کی تجدید کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ عسکری پالیسی میں اختلاف: دفاعی ذرائع کے مطابق پینٹاگون کے سینیئر حکام اور وائٹ ہاؤس کے درمیان ایران پالیسی اور ممکنہ فوجی مہم جوئی کے دائرہ کار پر سنگین اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ عالمی اثرات: امریکی دفاعی ادارے میں اس اچانک تبدیلی کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے اور بڑے عسکری تصادم کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مقدمہ: پینٹاگون میں اچانک تبدیلی اور عالمی تناظر امریکی ایوانِ صدر اور عسکری ہیڈ کوارٹر پینٹاگون میں حکمتِ عملی کی سطح پر ایک بڑا اور نایاب زلزلہ محسوس کیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ طور پر دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی حملے شروع کرنے کے اشاروں کے بعد، امریکی فوج کے اعلیٰ ترین ملٹری پلانر اور حکمتِ عملی کے سربراہ کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ امریکی جریدے ‘دی اٹلانٹک’ کی بدھ کے روز شائع ہونے والی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، زمینی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلیویا کو رواں ہفتے جائنٹ چیفس آف اسٹاف کے شعبہ حکمتِ عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کی سربراہی سے مفلوج کر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پینٹاگون کے غیر نامزد اعلٰی عہدے داروں کے حوالے سے سامنے آنے والی اس خبر نے دنیا بھر کی سفارتی اور عسکری راہداریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ برطرفی کے اسباب: عسکری حکمتِ عملی اور وائٹ ہاؤس کی ترجیحات امریکی فوج کے جائنٹ چیفس آف اسٹاف کا شعبہ حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی کسی بھی بین الاقوامی تنازع میں امریکی افواج کی نقل وحرکت، جیو اسٹریٹجک پلاننگ اور عسکری کارروائیوں کا بنیادی نقشہ تیار کرتا ہے۔ اس شعبے کے سربراہ کی برطرفی کا واقعہ انتہائی غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے۔ اس اچانک فیصلے کی بنیادی وجوہات ذیل کے اہم نکات سے واضح ہوتی ہیں: طویل مدتی جنگ سے گریز کی عسکری سوچ: پینٹاگون کے پیشہ ور ماہرین اکثر وائٹ ہاؤس کے فوری عسکری اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں تاکہ امریکی افواج کو کسی دوسری طویل اور بلاجواز جنگ سے بچایا جا سکے۔ ایران پالیسی پر اختلافات: ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف انتہائی جارحانہ اور بڑے پیمانے پر بمباری کی حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے، جبکہ تجربہ کار ملٹری پلانرز اس کے تباہ کن اثرات کے پیشِ نظر محدود کارروائی پر زور دیتے رہے ہیں۔ صدارتی احکامات کی فوری تعمیل کا دباؤ: وائٹ ہاؤس کے فیصلے اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ امریکی صدر کو ایسے عسکری کمانڈروں کی ضرورت ہے جو اعلیٰ ترین صدارتی احکامات پر بغیر کسی ہچکچاہٹ اور تاخیر کے عمل درآمد کو یقینی بنا سکیں۔ ایران اور امریکہ کشیدگی: پس منظر اور تاریخی تسلسل امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اس میں شدید تلخی اور حدت دیکھی گئی ہے۔ سالوں سے جاری اس تنازع کا پس منظر اور موجودہ لائحہ عمل خطے کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان محاذ آرائی کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں: جوہری معاہدے سے الخروج: امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ طے شدہ عالمی جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کر کے ایران پر سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کی تھیں۔ سخت گیر معاشی و عسکری حصار: امریکہ کی جانب سے ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پالیسی کے تحت ایران کے معاشی ذرائع اور تیل کی برآمدات کو سخت نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ نیابتی جنگیں اور فضائی حملے: مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص عراق، شام اور بحرِ احمر میں دونوں ممالک کی حامی افواج اور تنصیبات کے درمیان وقفے وقفے سے پرتشدد تصادم ہوتے رہے ہیں۔ اب جبکہ امریکی صدر کی جانب سے ایران پر براہِ راست اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں دکھائی دے رہی ہیں، پینٹاگون میں سینیئر پالیسی سازوں کو ہٹانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آنے والے دنوں میں جنگی بادل مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ پینٹاگون کے اندرونی خدشات اور ملٹری لیڈرشپ پر اثرات امریکی دفاعی ادارے کے اندر اتنی بڑی سطح پر ناگہانی تبدیلی کے بعد امریکی فوج کی صفوں میں خاموش تشویش اور تحفظات جنم لے رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکمتِ عملی کے سربراہ کو اچانک ہٹانے سے درج ذیل سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں: منصوبہ بندی میں تعطل: ایران جیسے اہم اور جیو پولیٹیکل لحاظ سے حساس ملک پر حملوں کی منصوبہ بندی کا مرکز ہی اگر قیادت سے محروم ہو جائے، تو اس سے فوری عسکری تیاریوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ عسکری پیشہ ورانہ مہارت بمقابلہ سیاسی دباؤ: امریکی عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ فوج کو سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر زمینی حقائق کی روشنی میں فیصلے کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اس قسم کی برطرفیوں سے دیگر سینیئر کمانڈروں میں خوف اور بے یقینی پھیلتی ہے۔ اتحادیوں کا اعتماد: امریکہ کے عالمی اور علاقائی اتحادی، جو پہلے ہی کسی نئی جنگ کے خدشے سے خائف ہیں، اس انتظامی ابتری کو دیکھ کر تذبذب کا شکار ہو سکتے ہیں۔ عالمی اور علاقائی اثرات: مشرقِ وسطیٰ کس طرف جا رہا ہے؟ اگر امریکہ سچ مچ ایران کے خلاف دوبارہ وسیع پیمانے کی فوجی کارروائی کا آغاز کرتا ہے، تو اس کے نتائج صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی زد میں آئے گی۔ اس ممکنہ عسکری پیش رفت کے اہم اثرات کا احاطہ ذیل کے نکات میں کیا جا سکتا ہے: عالمی توانائی کا بحران: خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے شریان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنگ کی صورت میں تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہو سکتا ہے جو عالمی معیشت کو اپاہج کر دے گا۔ علاقائی جنگ کا پھوٹ پڑنا: ایران کے ساتھ تنازع کی صورت میں لبنانی، عراقی اور یمنی حامی گروہ بھی میدان میں اتر سکتے ہیں، جس سے پورا مشرقِ وسطیٰ ایک ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ بین الاقوامی سفارت کاری کا خاتمہ: چین اور روس جیسی عالمی طاقتیں امریکہ کے ان یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کریں گی، جس سے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کی اہمیت مزید کمزور ہو جائے گی۔ ایڈیٹوریل تبصرہ اور معروضی جائزہ ایک صحافتی اور ایڈیٹوریل نقطہ نظر سے، اگرچہ ‘دی اٹلانٹک’ کی رپورٹ پینٹاگون کے باخبر ذرائع پر مبنی ہے، تاہم امریکی وزارتِ دفاع نے ابھی تک اس برطرفی کی کسی باضابطہ وجہ کا برائے راست اعلان نہیں کیا ہے۔ کسی بھی عسکری ادارے میں قیادت کی تبدیلی معمول کا حصہ بھی ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ سیاسی ماحول، ایران کی طرف امریکی سخت گیری اور ٹرمپ انتظامیہ کے جارحانہ انداز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس خبر کے عسکری اور سیاسی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی ایوانِ صدر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکمتِ عملی کے ماہرین کا کام صرف احکامات کی تعمیل نہیں بلکہ کسی بھی جنگ کے بدترین نتائج سے ملک کو خبردار کرنا بھی ہوتا ہے۔ اگر اعلیٰ ترین عسکری پلانرز کو صرف اس لیے ہٹایا جا رہا ہے کہ وہ ایک نئی اور خطرناک جنگ کے پھیلاؤ پر تحفظات رکھتے تھے، تو یہ نہ صرف امریکی قومی سلامتی بلکہ عالمی امن کے لیے ایک انتہائی تشویش ناک لمحہ ہے۔ دنیا کو اس وقت مزید تنازعات کے بجائے سفارت کاری اور دانشمندی کی ضرورت ہے، تاکہ خطے کو کسی دوسرے بڑے اور دردناک المیے سے بچایا جا سکے۔ Post navigation کراچی: گلستانِ جوہر میں جوہر موڑ کے قریب تلخ کلامی اور سڑک کی بندش، حادثے کے بعد ٹریفک معطل