Preloader
More than 300,000 have fled fighting in western Yemen

اہم نکات

  • یمن کے مغربی علاقوں میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ سرکاری فورسز کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے باعث تین لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
  • بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین کے مطابق تقریباً تمام افراد گزشتہ دو ماہ کے دوران نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
  • بے گھر ہونے والے شہریوں کو فوری طور پر سرپناہ، خوراک، صاف پانی اور طبی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔
  • مسلسل جاری تنازعے نے خطے میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جس پر عالمی اداروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

لڑائی کا پس منظر اور مغربی یمن کی موجودہ صورتحال

یمن کے مغربی محاذ پر جاری کشمکش میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے، جہاں حوثی جنگجوؤں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے مابین شدید لڑائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں اور امدادی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹس کے مطابق اس تازہ ترین محاذ آرائی نے عام شہریوں کی زندگیوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ فریقین کے درمیان توپ خانے اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کے باعث عام آبادی کے لیے خطے میں رہنا ناممکن ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں عوام نے محفوظ مقامات کی تلاش میں ہجرت کا کٹھن راستہ چنا ہے۔

مغربی یمن کا یہ خطہ اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم مانا جاتا ہے، جہاں بندرگاہوں اور سپلائی کے اہم راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طویل عرصے سے خونریز تصادم جاری ہے۔ زمینی جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں کی زد میں آنے والے عام دیہات اور قصبات اب ویران ہو چکے ہیں، اور لوگ اپنا سب ਕੁਝ وہیں چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

بے گھری کے اعداد و شمار اور متاثرین کی حالتِ زار

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ بحران کے زمینی حقائق کو مندرجہ ذیل نکات میں دیکھا جا سکتا ہے:

  • کل متاثرہ افراد: تین لاکھ سے زائد شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
  • پیمائشِ وقت: تقریباً تمام نقل مکانی گزشتہ دو ماہ کے قلیل عرصے کے دوران پیش آئی ہے۔
  • بنیادی ضروریات کا فقدان: بے گھر ہونے والے خاندانوں کو فوری طور پر محفوظ سرپناہ (خیموں یا عارضی چھتوں)، خوراک، پینے کے صاف پانی اور طبی دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہے۔
  • مہاجرین کے کیمپوں پر دباؤ: عارضی کیمپوں میں گنجائش کم پڑ چکی ہے جبکہ امدادی سامان کی ترسیل میں سکیورٹی اور راستوں کی خرابی کے باعث رکاوٹیں حائل ہیں۔

یمن کے تنازع کا تاریخی پس منظر

یمن میں جاری اس خانہ جنگی کی جڑیں 2014 اور 2015 کے سیاسی بحران میں پیوست ہیں، جب حوثی تحریک نے دارالحکومت صنعا اور ملک کے بڑے حصوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے عسکری اتحاد نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی بحالی کے لیے مداخلت کی، جس کے نتیجے میں یہ تنازع ایک بڑی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر گیا۔

اس طویل اور تباہ کن جنگ نے دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے والے یمن کو بدترین معاشی اور انسانی تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ اسپتال تباہ ہو چکے ہیں، تعلیمی نظام مفلوج ہے، اور زرعی و تجارتی سرگرمیاں بند پڑی ہیں، جس کی وجہ سے کروڑوں افراد براہِ راست فاقہ کشی اور بیماریوں کے خطرے کی زد میں ہیں۔

انسانی المیہ اور امدادی تنظیموں کے چیلنجز

مغربی یمن میں لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے سے ایک نیا انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فورا ہنگامی بنیادوں پر فنڈز اور رسد فراہم نہ کی گئی تو خوراک کی کمی اور وبائی امراض بالخصوص ہیضہ اور خسرہ کی وجہ سے ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔

امدادی کارکنوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جنگ زدہ علاقوں تک رسائی انتہائی مشکل اور خطرناک ہو چکی ہے۔ سکیورٹی خدشات اور راستوں پر فائرنگ کے تبادلے کے باعث ٹرکوں کی آمدورفت معطل ہے، جس کی وجہ سے امدادی سامان بروقت ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ پا رہا۔

بین الاقوامی ردِعمل اور ایڈیٹوریل تجزیہ

اقوام متحدہ اور دیگر عالمی حقوقِ انسانی کے اداروں نے یمن میں فوری جنگ بندی اور فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عسکری کارروائیوں کے ذریعے اس مسئلے کا کوئی حل ممکن نہیں ہے، اور اس کا خمیازہ صرف اور صرف یمن کے بے گناہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ایک سینئر صحافتی اور معروضی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مغربی یمن کی موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس انسانی بحران کے حل کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کریں۔ جب تک ملک میں دیرپا امن قائم نہیں ہوتا اور سیاسی حل تلاش نہیں کیا جاتا، تب تک یمن کے عوام اس خوفناک جنگ اور بدترین بے گھری کے عذاب سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔