Preloader
Amar registered as UK citizen

​اہم نکات (خلاصہ)

  • ​افغانستانپریمیئرلیگمیںشمولیت: پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر محمد عامر نے افغانستان پریمیئر لیگ کی کھلاڑیوں کے انتخاب کی ڈرافٹنگ عمل کے لیے اپنا نام درج کرا دیا ہے۔
  • ​برطانویشہریتکےتحترجسٹریشن: برطانوی پاسپورٹ کے حامل بائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر نے غیر ملکی کھلاڑیوں کی فہرست میں برطانیہ کے شہری کے طور پر اپنا انداراج کرایا ہے۔
  • ​عالمیتجارتیلیگزمیںمسلسلموجودگی: قومی کرکٹ ٹیم کے لیے بین الاقوامی خدمات کے بعد محمد عامر دنیا بھر کی تجارتی (فرنچائز) کرکٹ میں مسلسل حصہ لے رہے ہیں۔
  • ​کھلاڑیوںکیڈرافٹنگکاعمل: لیگ کے نئے سیزن کے لیے دنیا بھر سے غیر ملکی کھلاڑیوں کی فہرست کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جس میں محمد عامر کی شمولیت کو نمایاں مانا جا رہا ہے۔

​تعارف: عالمی کرکٹ اور محمد عامر کا نیا سنگِ میل

​دنیا بھر میں تجارتی کرکٹ لیگز کے فروغ نے کرکٹرز کے لیے اپنے کھیل کو جاری رکھنے اور عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ پاکستان کے نامور اور بائیں ہاتھ سے گیند بازی کرنے والے سابق فاسٹ باؤلر محمد عامر نے ایک بار پھر کھیل کے میدان سے جڑی ایک اہم خبر کے ذریعے کرکٹ کے شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔

​افغانستان پریمیئر لیگ کے آنے والے سیزن کے لیے کھلاڑیوں کی چون (ڈرافٹ) کا عمل شروع ہونے والا ہے، جس کے لیے محمد عامر نے اپنا نام ایک غیر ملکی یعنی برطانوی شہری کی حیثیت سے رجسٹر کرا لیا ہے۔ محمد عامر، جو کہ اب برطانیہ کی مکمل شہریت حاصل کر چکے ہیں، نے غیر ملکی کھلاڑیوں کے ڈرافٹ کے زمرے (اوورسیز پلیئر پول) میں خود کو شامل کیا ہے۔ پاکستان قومی ٹیم کے لیے طویل عرصے تک شاندار خدمات انجام دینے کے بعد، اب وہ دنیا کی مختلف فرنچائز لیگز میں ایک آزاد کرکٹر کی حیثیت سے کھیل رہے ہیں۔

​برطانوی پاسپورٹ اور ڈرافٹنگ کی تفصیلات

​محمد عامر نے چند سال قبل اپنی اہلیہ کی نسبت اور قانونی عمل مکمل کرنے کے بعد برطانیہ کی مستقل رہائش اور بعد ازاں پاسپورٹ حاصل کیا تھا۔ برطانوی شہری بننے کے بعد یہ ان کے کیریئر کا ایک نیا موڑ تھا جس نے انہیں مختلف عالمی لیگز میں بغیر کسی علاقائی پابندی یا انتظامی رکاوٹ کے کھیلنے کی سہولت فراہم کی۔

​افغانستان پریمیئر لیگ کے انتظامی حکام اور کھلاڑیوں کے انتخابی عمل کے مطابق:

  • ​رجسٹریشنکینوعیت: محمد عامر نے پاکستانی کھلاڑی کی بجائے برطانوی پاسپورٹ ہولڈر کے طور پر رجسٹریشن کرائی ہے۔
  • ​کھلاڑیوںکازمرہ: انہیں اوورسیز (غیر ملکی) فاسٹ باؤلرز کے اہم پول میں شامل کیا گیا ہے۔
  • ​فرنچائززکیدلچسپی: بائیں ہاتھ سے تیز گیند بازی اور شروعاتی اوورز میں سوئنگ کرنے کی ان کی صلاحیت کی وجہ سے متعدد فرنچائزز ان کو اپنی ٹیموں میں شامل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

​محمد عامر کے کیریئر پر ایک نظر: اعداد و شمار کی روشنی میں

​محمد عامر کا شمار دنیا کے ان باؤلرز میں ہوتا ہے جنہوں نے چھوٹی عمر میں ہی اپنی سوئنگ اور رفتار سے عالمی کرکٹ کے بڑے سے بڑے بلے بازوں کو پریشان کیا۔ اگرچہ ان کا کیریئر مختلف اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، تاہم ان کے اعداد و شمار اور کامیابیاں ان کی اعلیٰ صلاحیتوں کی گواہی دیتی ہیں:

  • ​بینالاقوامیٹیسٹکرکٹ: 36 ٹیسٹ میچوں میں 119 وکٹیں حاصل کیں۔
  • ​ایکروزہبینالاقوامیمیچز: 61 ایک روزہ میچز میں 81 وکٹیں حاصل کیں، جن میں 2017ء کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف ان کی تباہ کن باؤلنگ تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔
  • ​بینالاقوامیٹی 20 کرکٹ: 50 سے زائد ٹی 20 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 50 سے زیادہ وکٹیں اپنے نام کیں۔
  • ​تجارتیلیگزکاتجربہ: دنیا بھر کی مشہور لیگز جیسے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)، کیریبین پریمیئر لیگ (سی پی ایل)، بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل)، اور انگلینڈ کے ٹی 20 بلاسٹ میں مجموعی طور پر 250 سے زائد وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

​افغانستان پریمیئر لیگ کا پس منظر اور اہمیت

​افغانستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے شروع کی گئی یہ پریمیئر لیگ خطے کی اہم ترین ٹی 20 لیگز میں شمار کی جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لیگ کا بنیادی مقصد افغانستان کے مقامی اور ابھرتے ہوئے نوجوان کرکٹرز کو دنیا کے بہترین اور تجربہ کار بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر کھیلنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

​ماضی میں بھی اس لیگ میں دنیا بھر سے نامور کھلاڑیوں نے شرکت کی ہے۔ اس لیگ کے قیام سے افغان کرکٹ کو درج ذیل فوائد حاصل ہوئے ہیں:

  1. ​مقامیاستعدادمیںاضافہ: نوجوان افغان کرکٹرز کو محمد عامر جیسے تجربہ کار باؤلرز سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
  2. ​عالمیتوجہ: غیر ملکی اسٹارز کی شمولیت سے لیگ کو بین الاقوامی سطح پر نشریاتی اور تجارتی پذیرائی ملتی ہے۔
  3. ​کھیلکامعیار: اعلیٰ درجے کے باؤلرز اور بلے بازوں کی آمد سے مقابلے سخت اور پرکشش ہو جاتے ہیں۔

​تجارتی کرکٹ اور کھلاڑیوں کی جغرافیائی تبدیلی

​موجودہ دور میں کرکٹ کا فریم ورک کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ اب کھلاڑی کسی ایک ملک کے لیے کھیلنے تک محدود رہنے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر آزادانہ طور پر اپنی خدمات پیش کر سکتے

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔