اہم نکات امریکہ نے مبینہ طور پر ایران کے خلاف ممکنہ ملٹری ایکشن اور فضائی حملوں کے متعدد فوجی منصوبے اور نقشے تیار کر لیے ہیں۔ واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ، پینٹاگون اور سلامتی کے اداروں کے مابین براہِ راست حملے یا معاشی ناکہ بندی جاری رکھنے پر شدید اختلافِ رائے موجود ہے۔ خلیجِ فارس، آبنائے ہرمز اور اہم بحری گزرگاہوں کی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ سخت مالیاتی پابندیاں پہلے ہی ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئے فوجی تصادم کے عالمی تیل کی قیمتوں، خطے کے امن اور بین الاقوامی سفارت کاری پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تعارف اور خبر کا بنیادی پس منظر عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں جاری کشیدگی ایک نئے اور انتہائی حساس موڑ میں داخل ہو گئی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اور پینٹاگون نے ایران کے خلاف ممکنہ عسکری کارروائی کے حوالے سے تمام تر آپریشنل تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ عسکری منصوبے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد کارروائی کے لیے تیار کیے گئے ہیں، تاہم تاحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال کا حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا۔ اس وقت واشنگٹن کے ایوانوں میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ آیا تہران پر براہِ راست عسکری حملہ کیا جائے یا پھر اقتصادی پابندیوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی موجودہ پالیسی کو جاری رکھ کر ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے۔ امریکہ کا یہ ممکنہ اقدام نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی ڈگر پر لے جا سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں تباہ کن جنگی حالات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے اندرونی اختلافات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور تحفظِ عامہ کے اداروں کے اندر ایران سے متعلق مستقبل کی حکمتِ عملی پر گہری تقسیم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس موضوع پر امریکی حکام بنیادی طور پر دو مختلف مکتبہ فکر میں بٹ چکے ہیں: 1. سخت گیر عسکری حکمتِ عملی کے حامی انتظامیہ اور قومی سلامتی کے بعض اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف محض اقتصادی پابندیاں اور بیانات کی حد تک محدود رہنا کافی نہیں ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ایرانی عسکری تنصیبات، ایٹمی صلاحیتوں اور علاقائی اتحادیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر ہی تہران کے جارحانہ رویے کو روکا جا سکتا ہے۔ اس دھڑے کا خیال ہے کہ فیصلہ کن عسکری حملہ ایران کے حوصلے کو تاحیات پست کر سکتا ہے۔ 2. سفارتی و معاشی ناکہ بندی کے حامی دوسری طرف، پینٹاگون اور عسکری ماہرین کا ایک بڑا حصہ براہِ راست جنگ کے خطرات سے خبردار کر رہا ہے۔ ان کے نزدیک اقتصادی ناکہ بندی، ایندھن کی فروخت پر پابندیاں اور بحری گزرگاہوں خصوصاً آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کا گشت ہی کافی مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ اس گروہ کی رائے ہے کہ براہِ راست عسکری تصادم امریکی افواج کو ایک اور طویل اور لاحاصل جنگ میں دھکیل سکتا ہے، جس کے بھیانک اثرات خود امریکی معیشت اور خطے میں قائم امریکی اڈوں پر پڑیں گے۔ اہم جغرافیائی و عسکری اعداد و شمار مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ فوجی تناظر اور مواصلاتی ناکہ بندی کو سمجھنے کے لیے درج ذیل حقائق اور اعداد و شمار کا جائزہ لینا ضروری ہے: آبنائے ہرمز کی اہمیت: دنیا بھر کے سمندری راستے سے سپلائی ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً بیس فیصد (20%) حصہ اسی تنگ بحری گزرگاہ سے گزرتا ہے، جس پر ایران کی قریبی نگرانی قائم ہے۔ معاشی پابندیوں کی شدت: امریکہ کی جانب سے ایران کی توانائی، بینکنگ اور تیل کی درامد و برآمد پر سخت ترین پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، جس سے ایرانی کرنسی کی قدر اور ملکی آمدنی متاثر ہوئی ہے۔ عسکری موجودگی: امریکہ نے خلیجِ فارس، عرب سمندر اور ارد گرد کے ممالک میں اپنے طیارہ بردار بحری جہاز، جدید جنگی طیارے اور ہزاروں فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کا فوری جواب دیا جا سکے ہے۔ ایرانی دفاعی صلاحیت: ایران کے پاس خطے کا سب سے بڑا اور جدید ترین بیلسٹک میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی موجود ہے، جو کسی بھی حملے کی صورت میں اسرائیل اور خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز کی تناؤ زدہ صورتِ حال امریکہ کی جانب سے ایرانی ایندھن اور تجارت کی ناکہ بندی کے بعد سے خلیجِ فارس کی صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے۔ واشنگٹن نے اپنے اتحاد کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ تہران کی بین الاقوامی تجارت اور ایندھن کی فروخت کو صفر پر لایا جا سکے۔ اس کے جواب میں، ایران نے بارہا یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر وہ اپنا تیل بیچنے سے محروم رہا، تو وہ کسی بھی دوسرے ملک کو اس راستے سے ایندھن منتقل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی پکڑ دھکڑ، ڈرون گرائے جانے اور بارودی سرنگوں کے واقعات نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کو انتہائی ناہموار اور خطرناک بنا دیا ہے۔ ممکنہ عسکری کارروائی کے عالمی و علاقائی اثرات اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر محدود یا وسیع پیمانے پر حملے کا حتمی حکم دیتے ہیں، تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کی لپیٹ میں پوری دنیا آ سکتی ہے: 1. ایندھن کے عالمی بحران اور قیمتوں میں اچھال جنگ چھیڑنے کی صورت میں سب سے پہلا دھچکا بین الاقوامی مارکیٹ کو لگے گا۔ خام تیل اور قدرتی گیس کی فراہمی میں تعطل پیدا ہونے سے عالمی بازار میں تیل کی قیمتیں ملکی و بین الاقوامی سطح پر ریکارڈ بلندی پر پہنچ جائیں گی، جس کے نتیجے میں غریب اور ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ جائے گا۔ 2. مشرقِ وسطیٰ میں ہمہ گیر جنگ کا خطرہ ایران پر حملہ خلیج کی دیگر ریاستوں کو بھی اس آگ میں دھکیل سکتا ہے۔ یمن، لبنان، عراق اور شام میں موجود ایران دوست گروہ فوری طور پر امریکی مفادات اور اتحادیوں کے خلاف فعال ہو سکتے ہیں، جس سے خطے کا پورا امن و امان تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ 3. بین الاقوامی سفارت کاری اور سلامتی کونسل میں تناؤ اس طرح کا کوئی بھی یکطرفہ اقدام اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین پر سنگین سوالات کھڑے کر دے گا۔ چین، روس اور دیگر عالمی طاقتیں اس قدم کی شدید مخالفت کریں گی، جس سے عالمی سفارتی تعلقات میں توازن بگڑنے کا قوی امکان ہے۔ ایڈیٹوریل تجزیہ اور مستقبل کا امکان ایک ذمہ دار صحافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو فی الوقت تمام تر نظریں وائٹ ہاؤس اور صدارتی فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عسکری تیاریاں اکثر اوقات محض سیاسی دباؤ بڑھانے اور فریقِ مخالف کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بطور حربہ بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ماضی کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں جو بیرونی ملکوں میں طویل جنگوں کے خلاف ہے، لیکن ساتھ ہی وہ اپنے حریفوں پر انتہائی دباؤ قائم کرنے کا فن بھی جانتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آیا امریکہ واقعی جنگ کا آغاز کرنے جا رہا ہے یا پھر یہ تہران کو نئی شرائط پر مجبور کرنے کی ایک وسیع سفارتی و عسکری حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ حاصلِ کلام امریکی عسکری تیاریاں اور انتظامیہ کے اندرونی اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن اس وقت ایک انتہائی باریک اور نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہ صرف امریکہ کے اپنے سیاسی و معاشی مفادات پر اثر انداز ہو گا بلکہ اس کے نتیجے میں جنم لینے والے حالات انیسویں اور بیسویں صدی کے سب سے بڑے سیاسی و فوجی بحران کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور سفارتی حلقوں کی یہی کوشش ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے اس تنازع کا حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے تاکہ دنیا کسی مزید بڑے نقصان سے بچ سکے۔ Post navigation “اگر امریکی مجھ سے تنگ آئے تو اسرائیل منتقل ہو کر وزیراعظم بن جاؤں گا”: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا متنازع اور غیر معمولی بیان مقامی صرافی مارکیٹ میں روپیا مستحکم: امریکی ڈالر، یورو، پاؤنڈ، ریال اور درہم کے تازہ ترین مبادلہ نرخ جاری