پریس کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی نائب صدر میر راجہ خان جکھرانی، جام محمد اسلم انڑ مہران سوشل فورم کے چیئرمین ایڈووکیٹ عبدالحئی سومرو، جماعت اسلامی کے ضلعی رھنما محمد ابوبکر سومرو، پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے ضلعی رہنما نور محمد منجھو، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر گلاب جان مینگل، جمعیت علماء اسلام کے رہنما حافظ محمد مزمل سومرو وکٹر، پبلک اسکول کے پرنسپل مسیحی رہنما ٹونی صاحب، اسٹوڈنٹس موومنٹ یونیورسٹی تحریک کے آرگنائزر مشرف خان جکھرانی، آل ڈومکی اتحاد کے چیئرمین حاجی شاہ مراد خان ڈومکی، جنرل سیکریٹری استاد عبدالفتاح ڈومکی، سیکریٹری تعلیم استاد رفیق احمد ڈومکی، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے ضلعی جنرل سیکریٹری فدا حسین لکھن، وحدت یوتھ ونگ کے مرکزی جنرل سیکریٹری اللہ بخش سجادی، مجلس علمائے مکتب اہل بیت کے ضلعی صدر علامہ سیف علی ڈومکی، سماجی رہنما ناچیز عادل ولی بروہی اور دیگر رہنما شریک تھے۔ جیکب آباد۔ پریس کانفرنستاریخ: 4 نومبر 2026ء محترم صحافی حضرات! جیکب آباد سندھ کا ایک تاریخی اور اہم ضلع ہے، جس کی آبادی تقریباً 15 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، لیکن افسوس کہ یہاں کے عوام آج بھی صحت، تعلیم، امن و امان، ٹرانسپورٹ، بجلی، پینے کے صاف پانی اور بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جیکب آباد کے مسائل کسی ایک جماعت یا تنظیم کے نہیں بلکہ پورے ضلع کے عوام کے مشترکہ مسائل ہیں۔ ان کے حل کے لیے تمام سیاسی، سماجی، مذہبی، قوم پرست جماعتوں، تاجروں، وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کو متحد ہو کر آواز بلند کرنا ہوگی۔ آج ہم جیکب آباد کے چند اہم مسائل اور اپنے مطالبات حکومت اور متعلقہ اداروں کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ 1۔ سول ہسپتال کی حالتِ زار اور صحت کی سہولیات سول ہسپتال جیکب آباد کے لیے کروڑوں روپے کا سالانہ بجٹ اور ادویات کے لیے خطیر فنڈز مختص ہونے کے باوجود مریضوں کو بنیادی ادویات اور طبی سہولیات میسر نہیں۔ عوام معمولی دوائیں بھی باہر سے خریدنے پر مجبور ہیں۔ ہسپتال میں ایمرجنسی نظام اور طبی سہولیات کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ مطالبات: سول ہسپتال میں ادویات، جدید طبی آلات اور تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ایمرجنسی سروس 24 گھنٹے فعال کی جائے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے۔ ہسپتال کے بجٹ اور ادویات کی خریداری کا شفاف آڈٹ کیا جائے۔-آنکھ کان ناک اور گلے کے ہاسپٹل، کو فعال کیا جائے۔ 2۔ سرکاری یونیورسٹی اور تعلیمی اداروں کی بحالی تقریباً 15 لاکھ آبادی کے ضلع جیکب آباد میں تاحال مکمل سرکاری یونیورسٹی موجود نہیں۔ طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے بالخصوص طالبات مشکلات کا شکار ہیں۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق ضلع جیکب آباد میں 162 سرکاری اسکول بند یا غیر فعال پائے گئے۔ کئی اسکولوں میں اساتذہ، عمارتوں، فرنیچر اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ سرکاری تعلیم کی تباہ حالی کے باعث غریب والدین مہنگے نجی اسکولوں میں بچوں کو پڑھانے پر مجبور ہیں۔ مطالبات: جیکب آباد میں فوری طور پر مکمل سرکاری یونیورسٹی قائم کی جائے۔ یونیورسٹی کے لیے زمین، بجٹ اور عملی منصوبہ مختص کیا جائے۔ تمام 162 بند اور غیر فعال اسکول فوری کھولے جائیں اور اساتذہ تعینات کیے جائیں۔ اسکولوں میں بجلی پنکھے فرنیچر، پینے کا پانی اور واش روم کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ نجی اسکولوں کی فیسوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹی قائم کی جائے۔ 3۔ امن و امان، چوری، ڈکیتی اور سیف سٹی منصوبہ جیکب آباد میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ موٹر سائیکلیں، موبائل فون، نقدی اور گھروں کا سامان دن دہاڑے چھینا اور چوری کیا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025ء میں ضلع جیکب آباد میں 1671 فوجداری مقدمات درج ہوئے، جن میں 36 قتل، 32 ڈکیتیاں، 36 راہزنیاں اور 89 گھروں میں چوری کے مقدمات شامل ہیں۔ بیشتر وارداتوں میں ملزمان کی گرفتاری اور مسروقہ سامان کی برآمدگی نہ ہونے کی شکایات ہیں۔ لاڑکانہ پولیس رینج میں موٹر سائیکل چوری اور چھیننے کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ صرف اگست 2026ء میں پولیس نے 32 موٹر سائیکلیں برآمد کیں، جو اس مسئلے کی سنگینی ظاہر کرتا ہے۔ متعدد متاثرین پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کرنے یا عدم تعاون کے باعث مقدمات بھی درج نہیں کروا پاتے۔ اس کے علاوہ قبائلی دشمنیاں، اغوا برائے تاوان اور کچے کے ڈاکوؤں کا راج بھی امن و امان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ مطالبات: جیکب آباد میں سیف سٹی منصوبہ فوری شروع کیا جائے۔ اہم چوراہوں، بازاروں اور داخلی و خارجی راستوں پر جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں۔ پولیس گشت بڑھایا جائے، تمام تھانوں میں مقدمات کا درست ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے اور چوری شدہ موٹر سائیکلوں و دیگر سامان کی برآمدگی یقینی بنائی جائے۔ قبائلی تنازعات، اغوا برائے تاوان اور کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ شہریوں کی شکایات پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ 4۔ منشیات، آئس، شراب اور فحاشی اڈوں کا خاتمہ جیکب آباد میں منشیات خصوصاً آئس کا استعمال نوجوان نسل کے لیے تباہ کن صورت اختیار کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 900 نوجوان آئس کے نشے سے متاثر ہیں۔ منشیات کے باعث خاندان تباہ ہو رہے ہیں اور نشے کے عادی نوجوان چوری اور جرائم انجام دے رہے ہیں۔ شہر میں شراب، آئس اور دیگر منشیات کے کاروبار کے ساتھ فحاشی کے اڈوں کی موجودگی بھی تشویش ناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایکسائز، نارکوٹکس کنٹرول اور پولیس جیسے متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں کیوں پوری نہیں کر رہے؟ مطالبات: آئس، شراب اور دیگر منشیات کے فروخت کنندگان اور بڑے نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ ایکسائز اور نارکوٹکس کنٹرول کے محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور انہیں جواب دہ بنایا جائے۔ فحاشی اڈوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ منشیات کے عادی نوجوانوں کے علاج اور بحالی کے مراکز قائم کیے جائیں اور موجودہ مراکز کی سرکاری سطح پر سرپرستی کی جائے۔ منشیات کے خلاف تعلیمی اداروں اور محلوں میں آگاہی مہم چلائی جائے۔ 5۔ شدید گرمی، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گیس کی فراہمی جیکب آباد دنیا کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 50 سے 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ شدید گرمی کے دوران 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ عوام کی زندگی اجیرن بنا دیتی ہے۔ بچے، بزرگ، مریض اور محنت کش شدید مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب جیکب آباد کے قریبی ضلع کشمور میں کندھ کوٹ گیس فیلڈ سمیت بڑے گیس ذخائر موجود ہیں، لیکن اس خطے کے عوام کو گیس اور اس کے ثمرات سے مناسب فائدہ نہیں مل رہا۔ مطالبات: شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ ختم کی جائے۔ کندھ کوٹ اور قریبی گیس فیلڈز سے ملحقہ علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی سہولت فراہم کی جائے۔ واپڈا کی جانب سے عوامی شکایات، زائد بلنگ اور غیر منصفانہ رویے کا فوری ازالہ کیا جائے۔ 6۔ پیپلز بس سروس اور ریلوے کی بحالی سکھر، شکارپور اور خیرپور سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں پیپلز بس سروس شروع کی گئی ہے، لیکن جیکب آباد کو اس سہولت سے محروم رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ریلوے کی سہولیات بھی مسلسل کم ہو رہی ہیں اور ٹرینوں کی غیر یقینی آمدورفت سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ مطالبات: جیکب آباد میں پیپلز بس سروس شروع کی جائے۔ سکھر ایکسپریس کی ختم کی گئی دو بوگیاں بحال کی جائیں۔ ٹرینوں کی باقاعدہ آمدورفت اور تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ ریلوے اسٹیشن اور مسافروں کی بنیادی سہولیات بہتر بنائی جائیں۔ 7۔ پبلک پارکس، شاہ لطیف اسٹیڈیم اور شجرکاری شہید اللہ بخش سومرو پارک، شہید میر مرتضیٰ بھٹو پارک اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پارک انتظامی عدم توجہی کا شکار ہیں۔ بچوں کے جھولے، صفائی، روشنی، دیواریں اور بیٹھنے کی سہولیات خراب حالت میں ہیں۔ اسی طرح شاہ لطیف اسٹیڈیم کی بحالی اور کھیلوں کی سہولیات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مطالبات: شہر کے تینوں بڑے پارکس کی فوری مرمت اور تزئین و آرائش کی جائے۔ شاہ لطیف اسٹیڈیم کو فعال بنایا جائے اور نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی جدید سہولیات فراہم کی جائیں۔ خواتین، بچوں اور خاندانوں کے لیے محفوظ تفریحی ماحول بنایا جائے۔ حکومت، شہری اداروں، تاجروں اور عوام سے اپیل ہے کہ شہر میں وسیع پیمانے پر شجرکاری اور صفائی مہم چلائی جائے۔ہمارا شہر ہمارا گھر ہے، اس کی خوبصورتی اور صفائی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 8۔ واپڈا اور نادرا دفاتر کی شہر سے باہر منتقلی واپڈا اور نادرا کے دفاتر شہر سے باہر منتقل ہونے کے باعث شہریوں، بزرگوں، خواتین اور دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ واپڈا کی عوامی شکایات اور ناجائز بلنگ کے خلاف حالیہ احتجاج بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ شہری ان اداروں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ مطالبات: واپڈا اور نادرا کے دفاتر کو دوبارہ شہر کے اندر مناسب اور قابل رسائی مقامات پر منتقل کیا جائے۔ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر شکایتی نظام قائم کیا جائے۔ واپڈا کی زائد بلنگ، ناجائز وصولیوں اور عوامی شکایات کی تحقیقات کی جائیں۔ 9۔ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور شہری سہولیات جیکب آباد میں ترقیاتی منصوبوں کی ناقص تعمیرات، فنڈز کے ضیاع اور کرپشن سے متعلق شکایات موجود ہیں۔ شہر کی متعدد سڑکیں اور گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں صاف پانی، سیوریج، نکاسی آب اور صفائی کے مسائل برقرار ہیں۔ مطالبات: گزشتہ پانچ سال کے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کا شفاف آڈٹ کیا جائے۔ ناقص تعمیرات اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔ تمام علاقوں میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کو فعال بنایا جائے۔ سیوریج، نکاسی آب، صفائی اور سڑکوں کی مرمت کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ جعلی ادویات، جعلی زرعی کھاد اور دیگر غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلان جیکب آباد کے ان بنیادی مسائل کے حل کے لیے ہم تمام سیاسی، سماجی، مذہبی، قوم پرست جماعتوں، وکلا، صحافیوں، تاجروں اور سول سوسائٹی کو مشترکہ جدوجہد کی دعوت دیتے ہیں۔ اسی سلسلے میں: 20 نومبر 2026ء کو جیکب آباد میں ایک عظیم الشان آل پارٹیز کانفرنس (APC) منعقد کی جائے گی۔ کانفرنس میں شہر کے بنیادی مسائل پر مشترکہ مشاورت، متفقہ قراردادوں کی منظوری اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ اس موقع پر ایک مشترکہ رابطہ و ایکشن کمیٹی کی تشکیل بھی زیر غور لائی جائے گی، جو حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبات کی منظوری اور عمل درآمد کے لیے رابطہ کرے گی۔ حکومت سے مطالبہ ہم وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، متعلقہ صوبائی وزراء، جیکب آباد سے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی و سینیٹ، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جیکب آباد کے عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں اور ضلع کی محرومیوں کے ازالے کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج دیا جائے۔ جیکب آباد کے عوام لاوارث نہیں! ہم اپنے شہر کے بچوں کے بہتر مستقبل، نوجوانوں کی تعلیم، مریضوں کے علاج، شہریوں کے تحفظ، منشیات سے پاک معاشرے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ جیکب آباد کو اس کا جائز حق دو! جیکب آباد کی ترقی، جیکب آباد کے عوام کا حق ہے! علامہ مقصود علی ڈومکیصوبائی صدر، مجلس وحدت مسلمین پاکستان، صوبہ سندھنائب صدر، جیکب آباد شہری اتحاد و دیگر رہنما آل پارٹیز کانفرنس Post navigation نوشہرہ میں عوامی حکومت کا احیا: ڈپٹی کمشنر گوہر زمان وزیر کی ‘اوپن ڈور پالیسی’ سے شہریوں کو موقع پر ریلیف کی فراہمی