Preloader
AITP organized protest against price hike

اہم نکات (خلاصہ)

  • احتجاجی ریلی کا انعقاد: عام انسان تحریک پاکستان کے زیرِ اہتمام جیکب آباد کے شہید اللہ بخش پارک سے آٹے اور بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پرامن اور پرزور احتجاجی ریلی۔
  • عوامی شرکت اور نعرے بازی: سید علی شاہ کی قیادت میں نکالے جانے والے اس مظاہرے میں شہریوں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور “مہنگائی کا بوجھ نامنظور” کے نعرے لگائے۔
  • رہنماؤں کا موقف: مقررین نے حکمرانوں کی پالیسیوں اور بے حسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ غریب اور محنت کش طبقے پر معاشی خودکش حملہ ہے۔
  • مطالبات: آٹے اور دیگر روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں فوری کمی، ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے اور غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ۔

جیکب آباد: آٹے کی بڑھتی قیمتوں پر عوام کا شدید ردِعمل

جیکب آباد (رپورٹ: اے جی بلوچ) ملک بھر میں جاری معاشی بحران اور روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر سندھ کے ضلع جیکب آباد میں آٹے کی قیمتوں میں یکلخت اضافے کے خلاف عوام کا غصہ سڑکوں پر آ گیا۔ عام انسان تحریک پاکستان کے زیرِ اہتمام شہر کے تاریخی شہید اللہ بخش پارک سے ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں شہریوں، محنت کشوں، تاجر برادری اور مختلف مکاتبِ فکر کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ریلی کی قیادت عام انسان تحریک پاکستان کے مرکزی و مقامی رہنما سید علی شاہ اور دیگر نمائندگان کر رہے تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز، بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی، گرانی، اور آٹے کی گراں فروشی کے خلاف سخت تحریریں درج تھیں۔ شہر کی مختلف مرکزی شاہراہوں پر گشت کے دوران مظاہرین نے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور “مہنگائی کا بوجھ نامنظور” اور “غریب کو جینے دو” کے نعرے بلند کیے۔

سید علی شاہ اور دیگر رہنماؤں کی پریس کانفرنس اور خطاب

ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عام انسان تحریک پاکستان کے رہنما سید علی شاہ اور دیگر مقررین نے حکومت اور مقامی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

سید علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں غریب، دیہاڑی دار اور محنت کش طبقہ شدید ترین معاشی استحصال کا شکار ہے۔ ایک طرف بجلی، گیس اور پٹرول کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں تو دوسری طرف آٹے جیسی انتہائی بنیادی انسانی ضرورت کو بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا:

“حکمران اپنی عیاشیوں اور پروٹوکول کے کلچر میں مست ہیں جبکہ غریب عوام کے بچے ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔ آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب کش پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام کے پاس فاقہ کشی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔”

مقررین نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر آٹے پر دی جانے والی سبسڈی بحال کرے، فلور ملز کو سستے گندم کی فراہم یقینی بنائے اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائے۔

جیکب آباد اور سندھ میں معاشی و غذائی بحران: پس منظر

جیکب آباد پاکستان کے ان اضلاع میں شمار ہوتا ہے جو گرم ترین موسمی حالات کے ساتھ ساتھ شدید معاشی پسماندگی اور پچھلے سالوں کے سیلاب سے بے حد متاثر رہے ہیں۔ خطے کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہونے کے باوجود، مقامی سطح پر گندم کی ترسیل میں بدانتظامی، ذخیرہ اندوزی اور انتظامی کنٹرول کی کمی کی وجہ سے یہاں آٹے کی قیمتیں اکثر ریکارڈ حد تک بڑھ جاتی ہیں۔

سندھ کے مختلف اضلاع میں آٹے کی قیمتوں میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات ذیل میں دی گئی ہیں:

+-----------------------------------------------------------------------------+
|             آٹے اور بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے اہم اسباب            |
+-----------------------------------------------------------------------------+
| ۱. گندم کی سرکاری ریلیز پالیسی میں تاخیر اور ملوں کو گندم کا غیر مساوی کوٹہ  |
| ۲. مقامی سطح پر منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے مصنوعات کی بلیک مارکیٹنگ|
| ۳. ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں مسلسل اضافہ                           |
| ۴. انتظامی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیوں کا غیر فعال اور غیر مؤثر ہونا         |
+-----------------------------------------------------------------------------+

ان عوامل کی وجہ سے ایک طرف عام صارف کی خریدنے کی صلاحیت (Purchasing Power) نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، تو دوسری طرف دیہاڑی دار طبقہ اپنی کل آمدن کا 60 سے 70 فیصد صرف دو وقت کے کھانے کے انتظام پر خرچ کرنے پر مجبور ہے۔

معاشی اثرات اور عوام کی بڑھتی ہوئی مشکلات

معاشی ماہرین اور سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق، جب بھی بنیادی غذائی اجزاء خصوصاً آٹے کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر معاشرے کے سب سے نچلے طبقے پر پڑتا ہے۔ جیکب آباد جیسے پسماندہ اضلاع میں جہاں خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد نمایاں ہے، آٹے کا بحران معاشی کے ساتھ ساتھ ایک سنگین انسانی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

احتجاج میں شریک ایک مقامی دہاڑی دار مزدور نے بتایا کہ “پہلے ہم پانچ سو سے چھ سو روپے روزانہ کماتے تھے جس میں سے دو سو روپے آٹے کا تھیلا آ جاتا تھا، لیکن اب آٹے کا ریٹ اتنا بڑھ گیا ہے کہ دن بھر کی کمائی میں سے آدھی سے زیادہ رقم صرف آٹے کی خریدار میں چلی جاتی ہے، پھر بچوں کی دوائیاں، مکان کا کرایہ اور بجلی کا بل کہاں سے دیں؟”

سماجی اور سیاسی اثرات: عوامی بے چینی میں اضافہ

جیکب آباد میں نکلنے والی یہ ریلی محض ایک شہر تک محدود مظاہرہ نہیں ہے، بلکہ یہ اندرونِ سندھ اور دیگر پسماندہ اضلاع میں پنپنے والے اس عوامی غصے کی عکاسی کرتی ہے جو معاشی بدحالی کی وجہ سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔

سیاسی و سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ:

  1. حکومتی اعتماد کو دھچکا: بنیادی غذائی اجزاء پر کنٹرول نہ ہونے سے عوام کا حکومت اور مقامی انتظامیہ پر سے اعتماد یکسر ختم ہو رہا ہے۔
  2. احتجاجی لہر میں وسعت: اگر آٹے اور روٹی کے نرخ کنٹرول نہ کیے گئے تو اس طرح کے احتجاجی مظاہرے دیگر اضلاع میں بھی پھیل سکتے ہیں، جس سے امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
  3. غذائی عدم تحفظ: آٹے کی گرانی بچوں اور عورتوں میں غذائی قلت (Malnutrition) کے خطرات کو مزید بڑھا رہی ہے۔

حکومت اور مقامی انتظامیہ سے مطالبات اور آئندہ کا لائحہ عمل

احتجاجی ریلی کے اختتام پر عام انسان تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ قرار داد پیش کی جس میں انتظامیہ کو واضح الٹی میٹم دیا گیا۔

مظاہرین نے درج ذیل اہم مطالبات رکھے:

  • آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں فوری طور پر ڈرامائی کمی کی جائے اور پرانے نرخ بحال کیے جائیں۔
  • ضلعی انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنرز پرائس کنٹرول ایکٹ کے تحت روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں کا دورہ کریں اور گراں فروشوں پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں عائد کریں۔
  • سستا آٹا سیل پوائنٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ غریب شہریوں کو لمبی قطاروں میں ذلیل نہ ہونا پڑے۔
  • ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کا مکروہ دھندا ختم کرنے کے لیے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی خاص ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری غور نہ کیا گیا اور آٹے کے نرخ کم نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ کار پورے ڈویژن اور صوبائی سطح تک بڑھایا جائے گا، جس میں شاہراہوں کی ناScript ندی اور دھرنے شامل ہوں گے۔