پشاور: خیبرپختونخواہ اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ اسمبلی کی عددی پوزیشن واضح طور پر ایک جماعت کے حق میں جھکاؤ رکھتی ہے، جس کے باعث تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نامزد امیدوار کی کامیابی تقریباً یقینی نظر آ رہی ہے۔ تاہم، متحدہ اپوزیشن کی طرف سے اس مضبوط عددی برتری کو چیلنج کرنے اور اپنے امیدوار کو کامیاب کرانے یا کم از کم تحریک انصاف کے امیدوار کو اکثریت حاصل کرنے سے روکنے کی آخری کوششیں جاری ہیں۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے سادہ اکثریت کا مطلوبہ ہندسہ 73 ووٹ ہے۔ یہ سادہ اکثریت (Simple Majority) کا اصول اسمبلی کے موجودہ اراکین کی کل تعداد پر لاگو ہوتا ہے، اور یہ واضح کرتا ہے کہ کسی بھی امیدوار کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے لیے کم از کم 73 اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔ موجودہ سیاسی صورتحال اور پارٹی پوزیشن کے تناظر میں، یہ ہدف جہاں پی ٹی آئی کے لیے محض ایک رسمی کارروائی ہے، وہیں متحدہ اپوزیشن کے لیے یہ ایک تقریباً ناممکن چیلنج بن چکا ہے۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کا تفصیلی جائزہخیبرپختونخواہ اسمبلی کے ایوان میں اس وقت تین بڑے بلاک موجود ہیں جن کی عددی تفصیل درج ذیل ہے:1. پی ٹی آئی (حکومت سازی کا گروپ): 92 ممبرانپی ٹی آئی، جو اس وقت صوبے میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے، ایوان میں 92 اراکین کے ساتھ ایک فیصلہ کن اکثریت رکھتی ہے۔ یہ تعداد مطلوبہ اکثریت (73) سے نہ صرف کہیں زیادہ ہے بلکہ اپوزیشن کے مجموعی ووٹوں سے بھی بہت بڑی ہے۔ یہ عددی برتری وزیراعلیٰ کے انتخاب میں پی ٹی آئی کو مطلق طاقت فراہم کرتی ہے، اور ان کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی کی کامیابی کے امکانات کو مستحکم کرتی ہے۔ یہ واضح ہے کہ تحریک انصاف کو وزارت اعلیٰ کا منصب حاصل کرنے کے لیے کسی دوسری جماعت یا گروپ کی حمایت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔2. متحدہ اپوزیشن (حکومت کو چیلنج کرنے والا گروپ): 49 ممبرانصوبائی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن، جس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر چھوٹی جماعتیں شامل ہیں، مجموعی طور پر 49 اراکین پر مشتمل ہے۔ یہ تعداد ایک مضبوط اقلیتی بلاک کی نمائندگی کرتی ہے، لیکن وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے یہ مطلوبہ اکثریت سے بہت دور ہے۔ ان 49 ووٹوں کے ساتھ، اپوزیشن کا بنیادی مقصد وزیراعلیٰ کو روکنے کے بجائے، ایوان میں ایک مضبوط آواز اور مؤثر احتجاج ریکارڈ کروانا ہے۔3. عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) (نیوٹرل پوزیشن): 4 ممبرانعوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اسمبلی میں 4 اراکین کے ساتھ موجود ہے اور اس نے اس اہم انتخابی مرحلے میں بظاہر غیر جانبداری (Neutral) کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ اے این پی کا یہ فیصلہ سیاسی طور پر اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ان کے چار ووٹوں کی متحدہ اپوزیشن کو شدید ضرورت تھی تاکہ وہ پی ٹی آئی کے امیدوار کو سخت مقابلہ دے سکیں۔ ان چار ووٹوں کے غیر جانبدار رہنے سے متحدہ اپوزیشن کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔سہیل آفریدی کی جیت کا حساب اور اپوزیشن کا چیلنجوزیراعلیٰ کے انتخاب کی عددی سیاست انتہائی سادہ اور پی ٹی آئی کے حق میں ہے۔پی ٹی آئی کا راستہ: یقینی کامیابیمطلوبہ ووٹ: 73پی ٹی آئی کے ووٹ: 92نتیجہ: پی ٹی آئی کے پاس اکثریت سے ووٹ زیادہ ہیں۔پی ٹی آئی کا امیدوار سہیل آفریدی ان 92 ووٹوں کی حمایت سے باآسانی مطلوبہ 73 ووٹ حاصل کر کے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھال لے گا۔متحدہ اپوزیشن کا راستہ: 24 ووٹوں کی تلاشمتحدہ اپوزیشن کا ہدف اگرچہ جیتنا نہیں بلکہ کم از کم وزیراعلیٰ کو سادہ اکثریت سے روکنا تھا، لیکن عددی حقیقت ان کے لیے تشویشناک ہے۔اپوزیشن کے موجودہ ووٹ: 49روکنے کے لیے مطلوبہ ووٹ: 73ووٹوں کی کمی: یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ اپوزیشن کو پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار (سہیل آفریدی) کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے سے روکنے کے لیے مزید 24 اراکین کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔اے این پی کا فیصلہ اور اپوزیشن کی مشکلات میں اضافہمتحدہ اپوزیشن کی ابتدائی حکمت عملی میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے 4 اراکین کی شمولیت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اگر اے این پی اپوزیشن کا ساتھ دیتی تو صورتحال کچھ یوں ہوتی:اپوزیشن کے ووٹ (اے این پی کی شمولیت سے پہلے): 49اے این پی کے ممکنہ ووٹ: 4اپوزیشن کا نیا مجموعہ: ووٹضرورت میں کمی (فرض کیا جائے): اس صورت میں، اپوزیشن کو صرف مزید ووٹوں کی ضرورت ہوتی۔لیکن اے این پی نے اس اہم موقع پر غیر جانبداری کا اعلان کر دیا اور متحدہ اپوزیشن کو حمایت دینے سے انکار کر دیا۔اے این پی کے انکار کا اثر:اپوزیشن کے مطلوبہ ووٹوں کی کمی 20 سے بڑھ کر واپس 24 پر آگئی۔یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ اے این پی موجودہ سیاسی تنازعات میں فریق بننے سے گریزاں ہے اور مستقبل کے لیے اپنی سیاسی جگہ محفوظ رکھ رہی ہے۔متحدہ اپوزیشن کے لیے اب 24 اضافی ووٹوں کا حصول ایک سیاسی معجزہ کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اسمبلی میں غیر وابستہ اراکین (اگر کوئی ہیں) کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، اور کسی بھی دوسرے بڑے بلاک میں شگاف ڈالنا تقریباً ناممکن ہے۔نتیجہ: ایک یکطرفہ انتخاب کی پیشگوئیموجودہ عددی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے لیے ہونے والا انتخاب یکطرفہ ہونے کی قوی توقع ہے۔ تحریک انصاف کے امیدوار سہیل آفریدی 92 اراکین کی واضح حمایت کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں۔متحدہ اپوزیشن کا ہدف اب وزیراعلیٰ کے انتخاب کو روکنے کے بجائے، ایوان میں اپنی مضبوط موجودگی کو اجاگر کرنا اور صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اے این پی کے غیر جانبداری کے فیصلے نے اپوزیشن کے لیے موجودہ انتخاب میں کسی بھی قسم کا بڑا سیاسی ہنگامہ برپا کرنے کی گنجائش ختم کر دی ہے۔ عددی سچائی یہ ہے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخواہ میں آسانی سے وزارت اعلیٰ کا منصب حاصل کرنے جا رہی ہے۔خلاصہ:اکثریت کا نشان: 73 ووٹپی ٹی آئی کے پاس: 92 ووٹنتیجہ: پی ٹی آئی کو 19 اضافی ووٹوں کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔اپوزیشن کو کمی: 24 ووٹوں کی اشد ضرورت ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationخیبر پختونخوا میں بجلی کا انقلاب: تین ہائیڈرو پاور منصوبے دو سال کے اندر 330 میگاواٹ بجلی فراہم کریں گے پاک-افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ: افغان فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کا مؤثر جواب