اہم نکات:کامیاب انٹیلی جنس آپریشن: کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کوہاٹ ریجن نے ضلع کرک کے علاقے نیکی صاحب زیارت (حدود تھانہ خرم) میں فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن کیا۔خوارجی کمانڈرز کی ہلاکت: شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ٹی ٹی پی کے کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر اور نائب کمانڈر شعیب عرف سیف موقع پر ہلاک۔اسلحہ و بارود کی برآمدگی: ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے 2 ایس ایم جیز، 2 ہینڈ گرینیڈز، 6 میگزین اور متعدد کارتوس برآمد۔سرچ آپریشن جاری: رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے والے دیگر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی تلاش کے لیے علاقے کی مکمل گھیرا بندی کر کے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ضلع کرک میں سی ٹی ڈی کی بڑی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیکرک میں تخریب کاری کی کوشش ناکام، دو خطرہ ناک خوارجی کمانڈر ہلاکخیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے بلاامتیاز کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں 28 اگست 2026 کو سی ٹی ڈی کوہاٹ ریجن نے ضلع کرک میں ایک بڑی اور سنسنی خیز انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے دو انتہائی مطلوب کمانڈروں کو ہلاک کر کے علاقے میں تخریب کاری کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔مصدقہ اطلاعات کے مطابق، یہ کارروائی ضلع کرک کے تھانہ خرم کی حدود میں واقع نیکی صاحب زیارت کے قریب کی گئی، جہاں دہشت گرد سڑک پر ناکہ بندی کرنے اور امن عامہ کو نقصان پہنچانے کے لیے سڑک کنارے بارودی مواد (IEDs) نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کی تفصیلاتسی ٹی ڈی حکام کے مطابق، کوہاٹ ریجن کی انٹیلی جنس ونگ کو مصدقہ اور ہنگامی اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کالعدم ٹی ٹی پی کا کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر اور اس کا نائب کمانڈر شعیب عرف سیف اپنے دیگر خوارجی ساتھیوں کے ہمراہ نیکی صاحب زیارت کے قریب جمع ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ تمام دہشت گرد جدید ہلکے و بھاری ہتھیاروں، ہینڈ گرینیڈز اور آئی ای ڈی (IED) تیار کرنے والے سامان سے لیس تھے اور کسی بڑی سیکیورٹی یا شہری گاڑی کو نشانہ بنانے کے لیے سڑک پر ناکہ بندی کی تیاری کر رہے تھے۔اطلاع کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، سی ٹی ڈی کوہاٹ ریجن کی خصوصاً تربیت یافتہ سوات (SWAT) ٹیموں نے دیگر نفری کے ہمراہ جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر فوری طور پر مقررہ مقام کی طرف پیش قدمی کی۔شدید فائرنگ کا تبادلہ اور جوابی کارروائیسیکیورٹی فورسز کے جوان جیسے ہی موقع پر پہنچے اور دہشت گردوں کو گھیرا ڈالنے کی کوشش کی، خوارجیوں نے خود کو گھرا دیکھ کر سی ٹی ڈی کے اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ دہشت گردوں کی طرف سے بھاری اسلے کا استعمال کیا گیا تاکہ فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے اور وہ خود فرار ہو سکیں۔تاہم، سی ٹی ڈی کے جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مناسب آڑ حاصل کی، خود کو محفوظ کیا اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی مؤثر اور بھرپور جوابی فائرنگ کی۔ طرفین کے درمیان فائرنگ کا یہ تبادلہ کافی دیر تک جاری رہا، جس سے پورا علاقہ گونج اٹھا۔فائرنگ کا سلسلہ تھمنے کے بعد جب سی ٹی ڈی جوانوں نے علاقے کا کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کیا تو موقع سے دو دہشت گردوں کی لاشیں ملیں، جن کی شناخت ٹی ٹی پی کے کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر اور نائب کمانڈر شعیب عرف سیف کے ناموں سے ہوئی۔ دیگر خوارجی دہشت گرد رات کی تاریکی اور دشوار گزار راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔برآمد شدہ اسلحہ و بارود کا جائزہہلاک ہونے والے خوارجی کمانڈرز کے قبضے سے سیکیورٹی فورسز نے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا ہے۔ تفصیلات درج ذیل ہیں:ایس ایم جیز (SMGs): 2 عددہینڈ گرینیڈز (دست دستی بم): 2 عددمیگزین: 6 عددکارتوس: متعدد زندہ راؤنڈزبرآمد شدہ تمام مواد کو سی ٹی ڈی نے فوری طور پر اپنی تحویل میں لے کر قانون کے مطابق مزید سائنسی و قانونی تفتیش کے لیے فارنسک لیبارٹری منتقل کر دیا ہے۔علاقے میں سرچ آپریشن اور سہولت کاروں کی تلاشآپریشن کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی مزید بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور نیکی صاحب زیارت کے اطراف کے پورے علاقے کو حصار میں لے لیا گیا۔فرار ہونے والے دہشت گردوں کی ممکنہ پناہ گاہوں اور ان کے فرار کے راستوں کی نشاندہی کے لیے سرچ آپریشن وسیع پیمانے پر جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سی ٹی ڈی تفتیشی ٹیموں نے ان خوارجیوں کے مقامی سہولت کاروں، مخبروں اور معاون نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے بھی مختلف زاویوں سے چھان بین شروع کر دی ہے، تاکہ اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکے۔صوبائی پولیس قیادت کی جانب سے سی ٹی ڈی جوانوں کی ستائشاس کامیاب اور جرات مندانہ کارروائی پر انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) خیبر پختونخوا جناب ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ نے سی ٹی ڈی کوہاٹ ریجن اور سوات (SWAT) کے جوانوں کو مبارکباد دی اور ان کی شدید پذیرائی کی ہے۔صوبائی پولیس قیادت نے اپنے بیان میں کہا:“سی ٹی ڈی کے جوانوں نے جس ہمت، حوصلے، عالی شان پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری سے دہشت گردوں کے اس حملے کو ناكام بنایا اور دو اہم کمانڈروں کو جہنم واصل کیا، وہ قابلِ فخر ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔”قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جب تک صوبے سے آخری دہشت گرد اور اس کی پناہ گاہ کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، سی ٹی ڈی کی ٹارگیٹڈ اور بلاامتیاز کارروائیاں اسی تسلسل اور شدت کے ساتھ جاری رہیں گی اور امن کے دشمنوں کو سر اٹھانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔پس منظر اور موجودہ صورتحال کا تجزیہضلع کرک اور اس سے ملحقہ اضلاع (جن میں کوہاٹ، بنوں اور وزیرستان کے سرحدی علاقے شامل ہیں) جغرافیائی اعتبار سے انتہائی حساس تصور کیے جاتے ہیں۔ ماضی میں بھی ان علاقوں میں تخریب کار گروہ پہاڑی سلسلوں اور دشوار گزار راستوں کا فائدہ اٹھا کر ناکہ بندیوں اور آئی ای ڈی دھماکوں کے ذریعے سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر اور نائب کمانڈر شعیب عرف سیف کی ہلاکت کو سیکیورٹی ماہرین خطے میں کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ ان کمانڈروں کا خاتمہ نہ صرف کرک اور کوہاٹ ریجن میں دہشت گردوں کے تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کرے گا بلکہ آنے والے دنوں میں ممکنہ بڑے حادثات کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔عوامی حلقوں نے بھی سی ٹی ڈی کی اس بروقت اور کامیاب کارروائی کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے ایسے مسلسل اقدامات سے علاقے میں پائیدار امن کی فضا قائم ہوگی۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationحنا جاوید قتل کیس: محکمہ پراسیکیوشن پنجاب کا کیس کو ‘ہائی پروفائل’ قرار دینے کا فیصلہ، سینئر پراسیکیوٹرز پر مشتمل خصوص کمیٹی قائم خیبر پختونخوا حکومت کا معذور افراد کے لیے بڑا اقدام: ’احساسِ امید‘ پروگرام کے تحت ماہانہ 5 ہزار روپے وظيفے کا آغاز